العربية
Typed, pending editorial approval
۱۰۱۷ - وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ (رضي الله عنه) ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي رَجُلٌ أَصِيْدُ، فَأُصَلِّي فِي الْقَمِيصِ الْوَاحِدِ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَازْرُرْهُ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ. 1 رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحْوَهُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 632 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 765 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement “and tie it, even with a thorn”: It is mentioned in al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar that the condition for covering the 'awrah is that it must be concealed from others, meaning from the view of others from the sides, not from below. This applies even in a figurative sense, such as in a dark place or an empty place, where the 'awrah is considered visible in a figurative sense, thus covering it remains a requirement. However, it is not a condition to cover it from oneself. This is the position on which the fatwa is given because it is explicitly narrated from Abu Hanifah and Abu Yusuf that the prayer does not become invalid due to this, as mentioned in al-Munyah and other works. Therefore, if one sees his 'awrah through the opening of his garment, the prayer does not become invalid, even though it is disliked. This is because it is stated in al-Siraj: “He should button it due to this hadith”, which implies obligation, and neglecting it results in disapproval (karahah). However, this does not contradict their explicit statement that the prayer does not become invalid, and thus, this opinion is the preferred one, as mentioned in Sharh al-Munyah.
Note 1
(۱) قوله وازرره ولو بشوكة وقال في الدر المختار و رد المحتار والشرط ستر عورة عن غيره أي عن رؤية غيره من الجوانب لا من الأسفل، ولو حكما أي ولو كانت الرؤية حكمية، كما في المكان المظلم أو المكان الخالي فإن العورة فيه مرئية حكما فيشرط سترها فيه، لا سترها عن نفسه. به يفتى؛ لأنه روي عن أبي حنيفة وأبي يوسف نصا أنه لا تفسد صلاته، كما في المنية» وغيرها، فلو رآها من زيقه لم تفسد وإن كره؛ لقوله في السراج»: فعليه أن يزره لهذا الحديث، ومفاده الوجوب المستلزم تركه للكراهة، ولا ينافيه ما مر من نصهما على أنها لا تفسد، فكان هذا هو المختار، كما في شرح المنية».
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک کرتے میں بلا تہ بند نماز پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ گریبان میں گنڈی لگا دی جائے۔ واضح ہو کہ بوقت نماز نمازی پر ستر عورت فرض ہے، ستر عورت کی دو قسمیں ہیں:(1) ایک ستر کو دوسروں کی نظر سے بچانا (2) دوسرے ستر کو اپنی نظر سے بچانا۔ ستر کو دوسروں کی نظر سے بچانے کی بھی دو صورتیں ہیں:(1) ایک ستر کو اطراف سے بچانا، (2) دوسرے ستر کو نیچے سے بچانا۔ (1) ستر کو اطراف سے بچانے کا مطلب یہ ہے کہ مرد اور عورت پر نماز میں اپنے جسم کے جس قدر حصے کو کپڑے سے چھپانا فرض ہے اس پورے حصے کو کپڑے سے اس طرح چھپانا واجب ہے کہ چاروں طرف سے ستر کا کوئی حصہ دکھائی نہ دیتا ہو۔ (2) ستر نیچے سے چھپانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر مرد تہ بند باندھے یا عورت ساڑی پہنے تو تہ بند یا ساڑی کا نچلا یعنی زمین کی طرف والا حصہ کھلا رہتا ہے اور تہ بند یا ساڑی کے اس نچلے حصے کے کھلے رہنے سے نماز پڑھنے میں کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔ اطراف ستر کو دوسروں کی نظر سے بچانے کی بھی دو حیثیتیں ہیں (1) ایک حقیقی، (2) دوسرے حکمی ’ستر حقیقی یہ ہے کہ کپڑے سے ستر پوشی کی جائے اور ستر حکمی یہ ہے کہ بغیر کسی کپڑے کے اندھیرے میں یا خالی جگہ یا صحراء میں جہاں لوگوں کی نظر نہ پڑتی ہو نماز ادا کی جائے تو ستر حکمی کی ان تینوں صورتوں میں اگرچہ نمازی کا ستر دوسروں کی نگاہ سے محفوظ ہے مگر یہ ستر حقیقی ہے اس لئے یہ ستر حکمی مفسد نماز ہے ،جب تک ستر کو کپڑے سے نہ چھپایا جائے ستر حقیقی نہیں ہوتا، اس لئے نمازی پر فرض ہے کہ اپنے ستر کو اندھیرے میں ہو یا خالی مکان میں ہو کپڑے سے چھپائے۔ اب رہا نماز میں ستر کو اپنی نظر سے بچاؤ تو یہ واضح رہے کہ نمازی حالت میں اگر خود نمازی کی نگاہ اپنی ستر پر پڑ جائے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی البتہ مکروہ ہو جائے گی۔ چنانچہ منیہ میں امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمہما اللہ سے یہی روایت ہے۔ اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کو ان کی نظر سے ستر کو بچانے کی خاطر جو حکم دیا ہے کہ کرتے کے گریبان میں گنڈی لگائی جائے تو اس سے مقصود اسی کراہت سے بچانا ہے اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ بحالت نماز نمازی کی نگاہ اس کے ستر پر پڑ جائے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی البتہ مکروہ ہوجاتی ہے۔ (درمختار، ردالمحتار، شرح منیہ۔)