العربية
Typed, pending editorial approval
۱۰۸۰ - وَعَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ حَدِيثُ وَائِلٍ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَقَالَ: إِنْ كَانَ وَائِلُ رَآهُ مَرَّةً يَفْعَلُ ذَلِكَ فَقَدْ رَآهُ عَبْدُ اللهِ خَمْسِينَ مَرَّةً لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.
وَقَالَ: وَأَمَّا حَدِيْثُ وَائِلٍ فَقَدْ ضَادَّهُ إِبْرَاهِيمُ بِمَا ذَكَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ: أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ فَعَلَ مَا ذُكِرَ، فَعَبْدُ اللهِ أَقْدَمُ صُحْبَةٌ لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَأَفْهَمُ بِأَفْعَالِهِ مِنْ وَائِلٍ، قَدْ كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُوْنَ؛ لِيَحْفَظُوْا عَنْهُ.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ یہاں رفع یدین سے متعلق دو طرح کی حدیثیں آتی ہیں، ایک وائل حضرمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبل رکوع اور بعد رکوع رفع یدین فرماتے تھے اور دوسری حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے، جس میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبل رکوع بعد رکوع رفع یدین نہیں فرماتے تھے اور دوسری حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے۔ جس میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبل رکوع بعد رکوع رفع یدین نہیں فرماتے تھے۔ اس طرح رفع یدین سے متعلق احادیث میں تعارض پایا جاتا ہے۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ رفع یدین کے بارے میں اُن احادیث کو ترجیح حاصل ہے جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں جن میں قبل رکوع اور بعد رکوع حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع یدین ثابت نہیں ہے۔ وائل حضرمی رضی اللہ عنہ وفد بن کر حضرموت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تھے اور آپ کو صرف چند دن صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا موقع ملا، اس کے برخلاف عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمیشہ صحبت بابرکت میں اس طرح حاضر رہتے تھے کہ اجنبی حضرات آپ کی اس حاضر باشی کی وجہ آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں شمار کرنے لگے تھے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے لحاظ سے وائل حضرمی رضی اللہ عنہ سے زیادہ قدیم ہیں، اس لئے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے احادیث کو وائل رضی اللہ عنہ کی حدیثوں پر ترجیح حاصل ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیثیں اس لئے بھی قابل ترجیح ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا شمار جیسا کہ ابھی ذکر کیا جا چکا ہے ان جلیل القدر مہاجرین صحابہ میں ہے جو سفر و حضر میں ہمیشہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت فیض درجت میں حاضر رہتے تھے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس تقرب کے سبب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے، جس کو خود صاحب مشکوٰۃ نے اپنے رسالہ ”الاكمال في اسماء الرجال“ میں ذکر کیا ”رضيت لامتى مارضى بها ابن ام عبد“ (میری امت کے لئے ابن ام عبد یعنی ابن مسعود رضی اللہ عنہ جن باتوں کو پسند کریں مجھے بھی وہ باتیں پسند ہیں) یہی وہ امتیاز ہے جس کی بناء پر امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ وائل حضرمی رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کو زیادہ سمجھنے والے ہیں اسی وجہ سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیثوں کو وائل حضرمی رضی اللہ عنہ کی حدیثوں پر ترجیح حاصل ہے۔ (شرح معانی الآثار)۔