Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1288

بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ وَفَضْلِهَا

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ وَفَضْلِهَا

Zujajat al-Masabih 1288Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۲۸۸ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكْتَالَ بِالْمِكْيَالِ الْأَوْفَى إِذَا صَلَّى عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ، فَلْيَقُلْ اللهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي السَّعَايَةِ»: إِنَّ السُّنَّةَ الْمُؤَكَّدَةَ هُوَ مُطْلَقُ الصَّلَاةِ بَعْدَ التَّشَهُدِ، لَا خُصُوصُ بَعْضِ أَلْفَاظِهَا. وَإِلَيْهِ يُشِيرُ كَلَامُ عَامَّةِ فُقَهَائِنَا، إِلَّا أَنَّهُمُ اخْتَلَفُوا فِي أَنَّ أَيَّ لَفْظٍ مُخْتَارُ، فَفِي غُنْيَةِ الْمُسْتَمْلِي»: الْمُخْتَارُ فِي صِفَةِ الصَّلَاةِ عَلَى مَا ذَكَرَهُ فِي الْكِفَايَةِ» وَالزَّاهِدِيُّ فِي الْقِنْيَةِ» وَشَرْحِ الْقُدُورِيَّ»: أَنَّ مُحَمَّدًا سُئِلَ عَنْهُ فَقَالَ: يَقُوْلُ: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ. وَهِيَ الْمُوَافِقَةُ لِمَا فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيْثِ كَعْبٍ. وَنَقَلَ صَاحِبُ النَّخِيرَةِ» عَنْ كِتَابِ الْحُجَجُ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ» لِعِيسَى بْنِ أَبَانٍ: أَنَّ مُحَمَّدًا سُئِلَ عَنْ كَيْفِيَّةِ الصَّلَاةِ: فَأَجَابَ بِمَا مَرَّ انْتَهَى
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 982 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 919 (unverified) 82% confidence

Mishkat (candidate) 919

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: سعایہ میں مذکور ہے کہ قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد کسی خاص درود پڑھنے کی تخصیص نہیں ہے بلکہ سنت موکدہ یہ ہے کہ کوئی بھی ماثور درود پڑھا جائے اور ہمارے اکثر فقہاء نے ایسا ہی کہا ہے اور افضل و مختار یہ ہے کہ درود ابراہیمی پڑھا جائے، جیسا کہ شرح قدوری میں مذکور ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ سے جب یہ دریافت کیا گیا کہ کونسا درود پڑھا جائے تو امام محمد رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ درود ابراہیمی کا پڑھنا افضل ہے، علامہ زاہدی نے بھی منیہ میں یہی ذکر کیا ہے اور غنیہ المستملی میں کفایہ کے حوالے سے درود ابراہیمی کے پڑھنے کو مختار قرار دیا ہے اور درود ابراہیمی یہ ہے ”اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى سَيِّدِنَا إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ o اللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى سَيِّدِنَا إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ“۔ اس کے علاوہ بخاری اور مسلم میں حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد درود پڑھنے کے بارے میں جو حدیث آئی ہے اس میں بھی یہی درود ابراہیمی مذکور ہے اور صاحب ذخیرہ نے بھی عیسیٰ بن ابان کی ”كِتَابُ الْحُجَّةِ عَلٰى أَهْلِ الْمَدِينَةِ“ کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ سے جب یہ دریافت کیا گیا کہ قعدہ اخیرہ میں کونسا درود پڑھا جائے؟ تو امام محمد رحمہ اللہ نے درود ابراہیمی کے پڑھنے کو افضل قرار دیا۔