العربية
Typed, pending editorial approval
١٤١٥ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّوْنَ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي جَامِعِ الْآثَارِ»: شَمَلَ بِإِطْلَاقِهِ سُنَّتِي الْفَجْرِ وَإِدْرَاكَ الْجَمَاعَةِ بَعْدَ الْفَرَاغِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 581 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 826a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف۔ جامع الآثار میں لکھا ہے کہ مذکورہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز فجر اور عصر کے فرض کے بعد کوئی نفل نماز نہیں پڑھنا چاہئے اس لئے کوئی شخص فجر کی سنت پڑھے بغیر فجر کی جماعت میں شریک ہو گیا اور سنتوں کو ادا نہ کر سکا تو وہ ان سنتوں کو فجر کے فرض کے بعد آفتاب کے ایک نیزہ بلند ہونے تک نہ پڑھے اس لئے کہ یہ سنتیں بھی نفل ہی کی قسم سے ہیں جن کے ادا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص فجر یا عصر کی فرض نماز پڑھ چکا ہے اور اس کو یہ نمازیں دوبارہ جماعت سے مل جائیں تو اب یہ ان میں شریک نہیں ہو سکتا اس لئے کہ یہ نمازیں نفل ہی ہوں گی اور فجر عصر کے فرض کے بعد نفل نماز کا ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔