العربية
Typed, pending editorial approval
١٤٨٩ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ ﷺ فِي حُجْرَتِهِ وَالنَّاسُ يَأْتَمُوْنَ بِهِ مِنْ وَرَاءِ الْحُجْرَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
وَفِي الْمِرْقَاةِ»: الْمُرَادُ بِالْحُجْرَةِ كَمَا قَالُوْهُ: الْمَحَلُّ الَّذِي اتَّخَذَهُ لا فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ حِيْنَ أَرَادَ الاعْتِكَافَ، لَا حُجْرَةُ عَائِشَةَ، وَإِلَّا قَالَتْ: حُجْرَتِي.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1126 (unverified) 85% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ امام اور مقتدی کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو اقتداء صحیح ہے بشرطیکہ امام اور مقتدی ایک مکان میں ہوں اور امام کا حال مقتدیوں پر مشتبہ نہ ہو، یہ درمختار میں مذکور ہے۔ چونکہ اس حدیث شریف میں صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء ایک ہی مقام میں کی، اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال بھی صحابہ پر مشتبہ نہ تھا اس لئے صحابہ کی اقتداء صحیح تھی۔ خلاصہ اس مسئلہ کا یہ ہے کہ مکان مختلف ہو یعنی امام اور مقتدی ایک مکان میں نہ ہوں تو اقتداء درست نہیں ہے اگرچیکہ امام کا حال مقتدیوں پر مشتبہ ہو یا نہ ہو، ایسا ہی اگر امام کا حال مقتدیوں پر مشتبہ ہو تو بھی اقتداء ناجائز ہے اگرچیکہ امام اور مقتدی کا مکان مختلف ہو یا نہ ہو۔ (یہ خلاصہ ردالمحتار سے ماخوذ ہے۔)