Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1658

بَابُ الْوِتْرِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ الْوِتْرِ

Zujajat al-Masabih 1658Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٥٨ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرٍ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّهِ2 إِذَا أَصْبَحَ أَوْ ذَكَرَهُ». رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي مُسْتَدْرَكِهِ. وَقَالَ: صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. وَنَقَلَ تَصْحِيْحَهُ ابْنُ الْحَصَّارِ أَيْضًا. وَرَوَى التَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه نَحْوَهُ.
Commentary and footnotes (3)

Note 4

The obligation to make up Witr is a consensus among the companions.

(4) The evidence for this is that the obligation to make up a prayer is based on the obligation to perform it. Tahawi said: "The obligation to make up Witr is a consensus among the companions."

Note 2

قوله

(۲) قوله: فليصله إلخ : وجه الاحتجاج أن وجوب القضاء فرع على وجوب الأداء. وقال الطحاوي: إن وجوب قضاء الوتر إجماع من الصحابة.

Note 1

(اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں: ایک تو یہ کہ وتر کا وقت صبح صادق ہونے سے ختم ہوجاتا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث میں وتر کی قضاء کا حکم ہے۔ اور وتر کے واجب ہونے کی یہ کھلی دلیل ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو شخص وتر پڑھنا بھول جائے تو جس وقت یاد آجائے وتر کی قضاء کرلے۔ (اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے اور ابن الحصار نے بھی بیان کیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)