العربية
Typed, pending editorial approval
۱۸۳۱ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ، كَانَ يَجْلِسُ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتَّى يَفْرُغَ - أَرَاهُ الْمُؤَذِّنَ - ثُمَّ يَقُوْمُ1 فَيَخْطُبُ، ثُمَّ يَجْلِسُ وَلَا يَتَكَلَّم، ثُمَّ يَقَوْمُ فَيَخْطُبُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1092 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: "Then he would stand and deliver the sermon" – This refers to the Imam delivering the sermon with a sword in a city conquered by it, such as Makkah. Otherwise, it is not done, as in Madinah. Al-Qahistani narrated from "Ayd Al-Muhit" that holding a staff is a Sunnah, just like standing. This is taken from "Al-Durr Al-Mukhtar" and "Rad Al-Muhtar".
Note 1
(۱) قوله ثم يقوم فيخطب أي يخطب الإمام بسيف في بلدة فتحت به كمكة، وإلا لا كالمدينة. ونقل القهستاني عن عيد المحيط أن أخذ العصا سُنَّة كالقيام، كذا التقطناه من الدر المختار» و«رد المحتار».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ اس بارے میں درمختار میں لکھا ہے کہ ایسے شہر میں جس کو مسلمانوں نے تلوار کے زور پر فتح کیا ہو، جیسے کہ معظمہ تو وہاں امام تلوار پر ٹیک دے کر خطبہ دیا کرے اور ایسے شہر میں جہاں کے لوگ برضا و رغبت مسلمان ہوئے ہوں جیسے مدینہ منورہ، امام وہاں تلوار پر ٹیک دے کر خطبہ نہ دے بلکہ ایسے مقام پر عصا پر ٹیک دے کر خطبہ دیا کرے اور قہستانی نے محیط کے باب العید کے حوالہ سے اس طرح لکھا ہے کہ جیسے امام کو کھڑے ہو کر خطبہ دینا سنت ہے اسی طرح امام کو خطبہ کے وقت عصا پر ٹیک دے کر خطبہ دینا بھی سنت ہے۔