العربية
Typed, pending editorial approval
٢٠٠٠ - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ (رضي الله عنه) قَالَ: عَادَنِي النَّبِيُّ ﷺ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِعَيْنِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةِ الْبَيْهَقِيِّ وَالطَّبَرَانِي مَرْفُوعًا: ثَلَاثَةُ لَيْسَ لَهُمْ عِيَادَةُ الْعَيْنُ وَالرَّمَدُ وَالضَّرْسُ».
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3102 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "He visited me" is understood to be from the non-mandatory Sunnah. The summary is that visiting is not obligatory in these cases, as it is discouraged. This is mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
کے حوالے سے مذکور ہے مگر آشوب چشم میں جو عیادت کی گئی تھی وہ سنت مؤکدہ نہیں ہے۔) اس حدیث کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے۔ (آشوب چشم کی وجہ سے حضور جو عیادت فرمائے ہیں وہ مثل اور عیادتوں کے سنت مؤکدہ نہیں تھی اس لئے)۔
Note 2
عیادت کرنا ممنوع ہے بلکہ ان تین بیماریوں میں کوئی عیادت کرے تو جائز ہے، ہاں سنت مؤکدہ نہیں ہے، اسی وجہ سے آشوب چشم کے مرض کی حضور عیادت فرمائے ہیں وہ تین بیماریاں جن میں عیادت کرنا سنت مؤکدہ نہیں ہے بلکہ جائز ہے اور ممنوع نہیں ہے وہ یہ ہیں: آنکھ میں درد ہو یا آشوب چشم ہو یا داڑھ کا درد ہو۔ اسی لئے مرقات میں ازہار سے نقل کیا ہے کہ وہ تمام بیماریاں جن میں کوئی خوف کی بات نہ ہو، جیسے سر کا درد یا دمل وغیرہ ان کی بھی عیادت ممنوع نہیں ہے۔ سنت مؤکدہ بھی نہیں ہے بلکہ جائز ہے چاہیں تو کر سکتے ہیں، ان امراض میں بھی عیادت کرنے سے عیادت کا ثواب ملے گا۔)