(2) The statement: “Prohibited estimation.” Estimation is valid according to Al-Shafi’i, but according to us, it is not considered due to this hadith and because it leads to usury. The hadiths related to it were before the prohibition of usury, and Jabir’s long hadith in the authentic collections clearly states that usury was prohibited during the Farewell Pilgrimage. This is taken from Al-Mirqat.
Note 2
قوله
(۲) قوله : نهى عن الخرص إلخ الخرص ثابت عند الشافعي، وعندنا لا عبرة بالخرص لهذا الحديث ولإفضائه إلى الربا، والأحاديث الواردة فيه كانت قبل تحريم الربا، وحديث جابر الطويل في الصحيح صريح بأن تحريم الربا كان في حجة الوداع، أخذته من المرقاة».
Note 1
ف: واضح ہوکہ اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خرص یعنی تخمینہ لگا کر
زکات وصول کرنے سے منع فرمایا ہے، خرص کی تفصیل یہ ہے کہ جب کھجور یا انگور یا اور اسی قسم کے اور
پھل جن پر زکات واجب ہے پکنے لگیں تو بادشاہ کسی تجربہ کار آدمی کو روانہ کرے کہ وہ کھجور یا انگور وغیرہ کو
دیکھ کر بتائے اور اندازہ لگائے کہ یہ پھل سوکھ کر کس قدر ہونگے پھر حساب کرکے پھلوں کا دسواں حصہ
معین کردے جس کو زکات میں ادا کرنا ہوگا۔ پھر پھلوں کو مالک کے ذمہ چھوڑ دے، اور جب پھل پک
کر سوکھ جائیں تو اس وقت آ کر دسواں حصہ لے لے، جس کو پہلے معین کرچکا تھا اس کی ممانعت امام
طحاوی کی مذکور الصدر حدیث سے ثابت ہوتی ہے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ پھل کا تخمینہ قائم کرکے اس
طرح زکات معین کرنا سود کا سبب ہو جاتا ہے اور خرص کے جواز میں جتنی حدیثیں وارد ہیں وہ درحقیقت
اس زمانہ کی بات ہے جس وقت سودی لین دین کی حرمت وارد نہیں ہوئی تھی اور جب سود کی حرمت
نازل ہوئی تو اس قسم کے سودی لین دین کی حرمت بھی ہوگئی اور جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث حج میں
مروی ہے اس میں صراحت کے ساتھ ذکر ہے کہ سود کی حرمت حجۃ الوداع میں نازل ہوئی ہے۔
(ماخوذ از مرقات)۔
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) The statement: “Prohibited estimation.” Estimation is valid according to Al-Shafi’i, but according to us, it is not considered due to this hadith and because it leads to usury. The hadiths related to it were before the prohibition of usury, and Jabir’s long hadith in the authentic collections clearly states that usury was prohibited during the Farewell Pilgrimage. This is taken from Al-Mirqat.
Note 2
(۲) قوله : نهى عن الخرص إلخ الخرص ثابت عند الشافعي، وعندنا لا عبرة بالخرص لهذا الحديث ولإفضائه إلى الربا، والأحاديث الواردة فيه كانت قبل تحريم الربا، وحديث جابر الطويل في الصحيح صريح بأن تحريم الربا كان في حجة الوداع، أخذته من المرقاة».
Note 1
ف: واضح ہوکہ اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خرص یعنی تخمینہ لگا کر زکات وصول کرنے سے منع فرمایا ہے، خرص کی تفصیل یہ ہے کہ جب کھجور یا انگور یا اور اسی قسم کے اور پھل جن پر زکات واجب ہے پکنے لگیں تو بادشاہ کسی تجربہ کار آدمی کو روانہ کرے کہ وہ کھجور یا انگور وغیرہ کو دیکھ کر بتائے اور اندازہ لگائے کہ یہ پھل سوکھ کر کس قدر ہونگے پھر حساب کرکے پھلوں کا دسواں حصہ معین کردے جس کو زکات میں ادا کرنا ہوگا۔ پھر پھلوں کو مالک کے ذمہ چھوڑ دے، اور جب پھل پک کر سوکھ جائیں تو اس وقت آ کر دسواں حصہ لے لے، جس کو پہلے معین کرچکا تھا اس کی ممانعت امام طحاوی کی مذکور الصدر حدیث سے ثابت ہوتی ہے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ پھل کا تخمینہ قائم کرکے اس طرح زکات معین کرنا سود کا سبب ہو جاتا ہے اور خرص کے جواز میں جتنی حدیثیں وارد ہیں وہ درحقیقت اس زمانہ کی بات ہے جس وقت سودی لین دین کی حرمت وارد نہیں ہوئی تھی اور جب سود کی حرمت نازل ہوئی تو اس قسم کے سودی لین دین کی حرمت بھی ہوگئی اور جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث حج میں مروی ہے اس میں صراحت کے ساتھ ذکر ہے کہ سود کی حرمت حجۃ الوداع میں نازل ہوئی ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔