العربية
Typed, pending editorial approval
٢٣٠٠ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ (رضي الله عنه) قَالَ: أَعْوَزْنَا مَرَّةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ : مَنْ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللهُ، وَمَنْ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلَنَا2أَعْطَيْنَاهُ». قَالَ: قُلْتُ فَلَأَسْتَعِفُ فَيُعِفُنِي اللهُ، وَلَأَسْتَغْنِي فَيُغْنِيْنِيَ اللَّهُ. قَالَ: فَوَاللَّهِ، مَا كَانَ إِلَّا أَيَّامُ حَتَّى أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَسَمَ زَبِيْبًا فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا مِنْهُ، ثُمَّ قَسَّمَ شَعِيرًا فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا مِنْهُ، ثُمَّ سَالَتْ عَلَيْنَا الدُّنْيَا، فَغَرَّقَتْنَا إِلَّا مِنْ عَصَمَ اللَّهُ. رَوَاهُ الصَّحَاوِيُّ.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) The statement: “Whoever asks us, we will give him.” Al-Tahawi said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever asks us, we will give him,’ addressing his companions, most of whom were healthy and not disabled, but they were poor. He did not prevent them from charity due to their health. This indicates what we have mentioned, and the one who refrains from asking is better than the one who asks. Abu Sa’id did not ask for this reason, and if he had asked, the Prophet (ﷺ) would have given him, as he had offered it to him and others like him among his companions.”
Note 2
(۲) قوله: من سألنا أعطيناه وقال الطحاوي: فهذا رسول الله ﷺ يقول : من سألنا أعطيناه، ويخاطب بذلك أصحابه، وأكثرهم صحيح لا زمانة به، إلا أنه فقير، فلم يمنعهم منها لصحتهم. فقد دل ذلك على ما ذكرنا، وفضل من استعف ولم يسأل على من سأل، فلم يسأله أبو سعيد لذلك، ولو سأله لأعطاه؛ إذ قد كان بذل ذلك له ولأمثاله من أصحابه.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”مَنْ سَأَلَنَا أَعْطَيْنَا“ یعنی جو ہم سے مانگے ہم اس کو دیں گے۔ اس بارے میں امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خطاب اپنے صحابہ سے تھا جن میں اکثر و بیشتر صحیح و تندرست تھے ان میں کوئی اپاہج یا مریض نہ تھے، ہاں البتہ تنگدست ضرور تھے، ان کے صحیح و تندرست ہونے کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو زکات حاصل کرنے سے نہیں روکا، اور یہ نہیں فرمایا کہ ہم اسی کو زکات دیں گے جو صحیح اور تندرست نہ ہو، اس سے معلوم ہوا کہ زکات لینا جائز ہونے کی شرط صحت اور مرض نہیں بلکہ تنگدستی ہے۔ اس حدیث شریف سے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کرنے پر اس شخص کو فضیلت دی ہے جو سوال نہ کرتا ہو اور اپنے کو مانگنے سے بچاتا ہو، جیسا کہ امام طحاوی نے فرمایا ہے۔12