العربية
Typed, pending editorial approval
٢٤٢٦ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَة ضِعْفٍ، قَالَ اللهُ تَعَالَى : إِلَّا الصَّوْمَ؛ فَإِنَّهُ لِيْ وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ. وَلَخَلُوْفُ1 فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ. وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفَتْ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1904 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1151e (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "The breath of the fasting person." In Al-Mirqat, it is said: "This does not necessarily mean that the fasting person should not remove the odor with a toothstick (miswak), as Al-Shafi'i used this hadith to argue that using a miswak after midday is disliked. This is similar to a mother saying about her child's urine, 'It is more pleasant to me than rosewater,' which does not mean she should not wash it. This issue will be discussed further in the chapter on the etiquette of fasting, Allah willing." Al-Qaduri from the Hanafis, Ibn Al-Arabi from the Malikis, Abu Uthman Al-Sabuni, Abu Bakr ibn Al-Sam'ani, and others from the Shafi'is all agreed that it refers to Allah's pleasure and acceptance. Al-Qadi said: "Allah may reward him in the Hereafter so that its fragrance becomes more pleasant than musk." There was a disagreement between Shaykh Taqiuddin Ibn Al-Salah and Shaykh Izzuddin Ibn Abd Al-Salam regarding whether the pleasantness of the fasting person's breath is in this world or the Hereafter. Ibn Abd Al-Salam held that it is in the Hereafter, like the blood of a martyr, and he cited as evidence what Muslim, Ahmad, and Nasa'i reported from Ata' from Abu Salih: "More pleasant to Allah on the Day of Resurrection." This is mentioned in Umdat Al-Qari. Shaykh Ibn Al-Humam said: "As for the meaning, it does not necessitate the dislike of using a miswak, because it is based on the assumption that the miswak removes the odor, which is not proven. It only removes the visible effect on the teeth, such as yellowing, because the cause is the emptiness of the stomach from food, and the miswak does not fill it with food to remove the cause." In Umdat Al-Qari, it is said: "The Prophet (ﷺ) praised the fasting person's breath to discourage people from avoiding speaking to fasting people due to the odor, not to discourage fasting people from using a miswak. Allah is above needing pleasant scents, so we know for certain that the prohibition was not about preserving the odor but about discouraging people from disliking it."
Note 1
(۱) قوله ولخلوف فم الصائم إلخ وقال في المرقاة»: لا يلزم من هذه العبارة عدم إزالة الخلوف بالسواك وغيره، كما استدل الشافعي بهذا الحديث على أن السواك بعد الزوال مكروه؛ لأن نظيره قول الوالدة لبول ولدي: أطيب من ماء الورد عندي، وهو لا يستلزم عدم غسل البول، فكذا هذا وسيأتي بسط هذه المسألة إن شاء الله تعالى في أثناء باب تنزيه الصوم انتهى. وقال القدوري من الحنفية وابن العربي من المالكية وأبو عثمان الصابوني وأبو بكر بن السمعاني وغيرهم من الشافعية جزموا كلهم بأنه عبارة عن الرضى والقبول. وقال القاضي: وقد يجزيه الله تعالى في الآخرة حتى يكون نكهته أطيب من ريح المسك. وقد اختلف الشيخ تقي الدين ابن الصلاح والشيخ عز الدين ابن عبد السلام في طيب رائحة الخلوف هل هي في الدنيا أو في الآخرة، فذهب ابن عبد السلام إلى أن ذلك في الآخرة كما في دم الشهيد، واستدل بما رواه مسلم وأحمد والنسائي من طريق عطاء عن أبي صالح: أطيب عند الله يوم القيامة». كذا في عمدة القاري. وقال الشيخ ابن الهمام: وأما المعنى فلا يستلزم كراهة الاستياك؛ لأنه بناء على أن السواك يزيل الخلوف، وهو غير مسلم، بل إنما يزيل أثره الظاهر على السن من الاصفرار، وهذا لأن سببه خلو المعدة من الطعام، والسواك لا يفيد شغلها بطعام ليرتفع السبب انتهى. وقال في عمدة القاري: إنما مدح النبي ﷺ الخلوف نهيا للناس عن تحرز مكالمة الصائمين بسبب الخلوف لا نهيا للصوّام عن السواك، والله غني عن وصل الرائحة الطيبة إليه، فعلمنا يقيناً أنه لم يرد بالنهي استبقاء الرائحة، وإنما أراد نهي الناس عن كراهتها.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بدبو اللہ تعالیٰ کے پاس مشک کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے کہا ہے کہ اس پر یہ لازم نہیں ہوتا کہ روزہ دار مسواک کے ذریعہ سے اپنے منہ کی بو دور نہ کرے جیسا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث شریف سے استدلال کیا ہے کہ روزہ دار کے لئے زوال کے بعد مسواک کرنا مکروہ ہے کیونکہ روزہ دار کے منہ کی بو کو حدیث شریف میں مشک کی خوشبو سے جو بہتر قرار دیا گیا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ماں اپنے بچے کے پیشاب کے بارے میں کہتی ہے: میرے بچہ کا پیشاب مجھے عرق گلاب سے زیادہ پسند ہے۔ ماں کے اس طرح کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ بچہ کا پیشاب ناپاک نہیں ہے کہ جس کو دھونے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح حدیث شریف میں جو ارشاد ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو مجھے مشک سے زیادہ پسند ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسواک ہی نہ کرے اور بو کو باقی رہنے دے۔ ان شاء اللہ اس مسئلہ کی مزید تفصیل ”بَابُ تَنْزِيْهِ الصَّوْمِ“ میں آئے گی۔ فقہاء احناف میں قدوری رحمہ اللہ نے اور مالکی فقہاء میں ابن العربی رحمہ اللہ نے اور شافعی فقہاء میں ابوعثمان صابونی، ابوبکر ابن السمعانی وغیرہ نے یقین کے ساتھ کہا ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو کے بارے میں حدیث شریف میں جو ذکر ہے اس سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اظہار خوشنودی اور شرف قبولیت ہے۔ اور قاضی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ روزہ دار کو آخرت میں اس طرح بدلہ دے گا کہ روزہ دار کے منہ کی خوشبو آخرت میں مشک کی خوشبو سے زیادہ مہک اٹھے گی، اور شیخ تقی الدین ابن الصلاح اور شیخ عزالدین عبد السلام اس بارے میں مختلف الرائے ہیں کہ روزہ دار کے منہ کی خوشبو کا تعلق دنیا سے ہے یا آخرت سے؟ امام عزالدین عبد السلام کا مسلک یہ ہے کہ روزہ دار کے منہ کی خوشبو آخرت میں ہوگی دنیا میں نہیں۔ جس طرح شہداء کے خون کے بارے میں صراحت ہے اور انہوں نے مسلم کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جس کو امام احمد اور نسائی نے عطاء کی سند سے روایت کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: ”أَطْيَبُ عِنْدَ اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“، یعنی روزہ دار کے منہ کی خوشبو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پاس مشک سے زیادہ خوشبودار ہوگی۔ یہ مضمون عمدۃ القاری میں مذکور ہے اور امام ابن الہمام نے کہا ہے کہ حدیث شریف سے یہ لازم نہیں آتا کہ روزہ دار کے لئے مسواک کرنا مکروہ قرار دیا جائے۔ اس بناء پر کہ مسواک سے روزہ دار کے منہ کی بو زائل ہو جاتی ہے، حالانکہ مسواک سے صرف دانتوں کی زردی زائل ہوتی ہے اور منہ کی بو زائل نہیں ہوتی جو حقیقت میں خلو معدہ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور مسواک سے پیٹ تو نہیں بھرتا کہ خلو معدہ رفع ہوا اور منہ کی بو زائل ہو جائے۔ عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ دار کے منہ کی بو کی تعریف اس لئے فرمائی ہے کہ تا کہ لوگ روزہ دار کے منہ کی بو کی وجہ سے کہیں اس سے بات کرنا چھوڑ نہ دیں اور اس طرح فرمانے سے یہ مطلب نہیں کہ روزہ دار مسواک نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کو خوشبو وغیرہ کی احتیاج تو نہیں وہ تو ہر چیز سے بے نیاز اور غنی ہیں تو اس طرح یقین کے ساتھ ہم اس نتیجہ پر پہنچ گئے کہ حدیث شریف کا یہ مفہوم نہیں کہ منہ کی بو کو باقی رکھا جائے اور مسواک نہ کریں بلکہ مفہوم یہ ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو کی وجہ سے لوگ اس سے بات کرنے میں کنارہ کشی نہ کریں اور اس سے نفرت نہ کریں، کیوں کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کے دن مشک کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار ہوگی۔12