العربية
Typed, pending editorial approval
٢٨٩٤ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ (رضي الله عنه) قَالَ: قُلْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ مِنْ شَيْءٍ نَقُولُهُ فَقَدْ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ؟ قَالَ: «نَعَمْ ، اللهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا»، قَالَ: فَضَرَبَ اللهُ وُجُوهَ أَعْدَائِهِ بِالرِّيحِ، فَهَزَمَ اللهُ بِالرِّيحِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2466 (unverified) 60% confidence
Mishkat (candidate) 2466
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ غزوۂ خندق جس کو احزاب بھی کہتے ہیں اس کا ذکر سورہ احزاب میں مذکور ہے۔ یہاں مختصراً بیان کیا جاتا ہے۔ ہجرت کے چھٹے سال یہود بنی نضیر جن کو مدینہ سے نکالا گیا تھا ہر قبیلہ میں پھرے اور قریش، فزارہ، غطفان اور بنی قریظہ کے بارہ ہزار آدمیوں کو جمع کر کے مدینہ منورہ پر حملہ کیا مسلمان صرف تین ہزار تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے خندق کھدوائی۔ ایک مہینہ تک مشرکین نے محاصرہ کیا لیکن حملہ میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ایک رات اللہ تعالیٰ نے ایک آندھی بھیجی جس کی وجہ سے (دشمنوں کے خیمے اکھڑ گئے، آگ بجھ گئی، گھوڑے بھاگ کھڑے ہوئے لشکر برباد ہو گیا۔ ناچار سارے قبائل واپس ہو گئے۔ حاشیہ مشکاۃ۔12