Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الْبُيُوعِ

Hadith 3033a

بَابُ الْإِفْلَاسِ وَالْإِنْظَارِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الْبُيُوعِ

بَابُ الْإِفْلَاسِ وَالْإِنْظَارِ

Zujajat al-Masabih 3033aVolume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٠٣٣ - وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: «مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلَّهِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 3006 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ فرائض نوافل پر ستر (70) درجہ فضیلت رکھتے ہیں لیکن بعض مسائل ایسے بھی ہیں جن میں نوافل فرائض پر فضیلت رکھتے ہیں۔ مثلاً مفلس کو جزوی یا کلی طور پر قرض سے معافی دے دینا مستحب ہے اور قرض کی ادائی میں مہلت دینا واجب ہے۔ اگر کوئی شخص مقروض کو معافی دے دے تو یہ امر مستحب فضیلت رکھتا ہے مہلت دینے پر جو واجب ہے۔ (2) سلام کی ابتداء مستحب ہے اور سلام کا جواب دینا فرض ہے۔ یہاں بھی سلام میں پہل کرنا افضل ہے جواب دینے پر حالانکہ سلام کا جواب دینا فرض ہے اس لئے کہ سلام میں پہل کرنا تواضع کی علامت ہے اور جو تواضع کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بلند فرماتے ہیں۔ (3) وقت نماز سے پہلے وضوء کرنا مستحب ہے اور جب نماز کا وقت شروع ہوجائے تو وضوء کرنا فرض ہے۔ یہاں بھی نماز کے وقت سے پہلے وضوء کرنا افضل ہے وقت نماز کے شروع ہونے پر وضوء کرنے سے جو فرض ہے۔ مذکورہ بالا تینوں امور میں نوافل اور مستحبات فرائض اور واجبات پر فضیلت رکھتے ہیں۔ (مرقات)۔