Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ النِّكَاحِ

Hadith 3199a

كِتَابُ النِّكَاحِ

In this book

Current reading

كِتَابُ النِّكَاحِ

كِتَابُ النِّكَاحِ

Zujajat al-Masabih 3199aVolume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۱۹۹ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه)قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي غَزْوَةٍ فَلَمَّا قَفَلْنَا كُنَّا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، قَالَ: «أَتَزَوَّجْتَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟» قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ: «فَهَلًا1 بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ؟» فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا لِتَدْخُلَ، فَقَالَ: «أَمْهِلُوا حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلًا - أَيْ عِشَاءً - لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5245 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Why not a virgin—It is said in Radd Al-Muhtar from Al-Bahr

(1) The statement: Why not a virgin—It is said in Radd Al-Muhtar from Al-Bahr: Marrying a virgin is better, based on the hadith.

Note 1

قوله

(۱)قوله : فهلا بكرا إلخ : قال في رد المحتار» عن «البحر»: نكاح البكر أحسن للحديث.

Note 1

ف (1): اس حدیث شریف میں ثیبہ عورت پر باکرہ عورت سے نکاح کرنے کی ترغیب وارد ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ثیبہ عورت کا دل اپنے سابق شوہر سے متعلق رہتا ہے اس وجہ سے اس کی محبت کامل نہیں ہوسکتی اس کے برخلاف باکرہ عورت کی محبت کامل ہوتی ہے کیونکہ باکرہ عورت سے محبت اور مخالطت میں تکلف کا کوئی موقع نہیں رہتا۔12 ف (2): اس حدیث میں یہ بھی ارشاد ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ سے واپسی پر صحابہ کرام کو روکا کہ وہ فوراً اپنے گھروں میں داخل نہ ہوں تاکہ عورتیں اپنے شوہروں کی آمد کی اطلاع پاکر اپنا بناؤ سنگھار کرلیں اس لئے مسافر کے لئے سنت یہ ہے کہ وہ اپنے گھر اس وقت پہنچے جب کہ اس کے آنے کی خبر اس کے گھر پہنچ چکی ہے۔ (مرقات اور اشعۃ اللمعات)12 ف (3): حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے ثیبہ عورت سے جو عقد کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت جابر کے والد کا انتقال ہو چکا تھا اور ان کی کم عمر بہنیں موجود تھیں تو حضرت جابر نے ثیبہ عورت سے اس لئے عقد کیا کہ بہنوں کی تربیت ہو اور گھر کے کاروبار بھی ٹھیک طور پر چلیں جیسا کہ ابن ماجہ کی روایت میں صراحت موجود ہے12