Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الطَّهَارَةِ

Hadith 331

بَابُ مَا يُوْجِبُ الْوُضُوءَ

In this book

Current reading

كِتَابُ الطَّهَارَةِ

بَابُ مَا يُوْجِبُ الْوُضُوءَ

Zujajat al-Masabih 331Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۳۳۱ - وَعَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ تَمِيمِ الدَّارِي قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : الْوُضُوءُ مِنْ كُلِّ دَمٍ سَائِلِ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ. وَقَالَ صَاحِبُ الْمِشْكَاةِ: قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ تَمِيمٍ الدَّارِي، وَلَا رَآهُ. قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ ابْنُ الْهُمَّامِ: لَا بَأْسَ بِهِ؛ لِأَنَّ الْمُرْسَلَ عِنْدَنَا وَعِنْدَ جُمْهُورِ الْعُلَمَاءِ حُجَّةُ انْتَهَى ثُمَّ قَالَ الدَّارَ قُطْنِيُّ : فِيْهِ يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ وَيَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ مَجْهُولَانِ. وَالْجَوَابُ عَنْهُ: أَنَّهُ رُوِيَ مِنْ طُرُقٍ يُقَوِّي بَعْضُهَا بَعْضًا، فَارْتَقَى إِلَى مَرْتَبَةِ الْحَسَنِ، وَرَوَى ابْنُ عَدِيٌّ فِي كَامِلِهِ عَنْ زَيْدٍ الله مِثْلَهُ مَرْفُوعًا. وَقَالَ الشَّيْخُ الدَّهْلَوِيُّ فِي فَتْحِ الْمَنَّانِ: يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ وَيَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَدْ اخْتُلِفَ فِيهِمَا، وَقَدْ وَثَقُوْهُ كَمَا فِي الْكَاشِفِ» للذَّهَبِيِّ. وَالْمَجْهُولُ مَجْهُولُ الْعَيْنِ، وَهُوَ مَنْ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ وَلَمْ يُوَثَّقْ، وَمَنْ رَوَى عَنْهُ اثْنَانِ أَوْ أَكْثَرُ فَهُوَ لَيْسَ بِمَجْهُولٍ.
Commentary and footnotes (1)

Note 1

صاحب مشکوٰۃ نے دارقطنی سے دو اعتراضات نقل کئے ہیں، جن میں پہلا اعتراض یہ ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے تمیم داری رضی اللہ سے نہ تو سنا ہے اور نہ ان کو دیکھا ہے۔ شیخ ابن ہمام نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس سے کوئی حرج واقع نہیں ہوتا کیونکہ حارث اور جمہور کے نزدیک حدیث مرسل حجت ہے۔ دارقطنی کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس حدیث کی سند میں یزید بن خالد اور یزید بن محمد مجہول ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے، جن میں بعض کو بعض سے تقویت پہنچتی ہے اور اس طرح سے یہ حدیث مرتبہ حسن تک پہنچ جاتی ہے، علاوہ ازیں ابن عدی نے کامل میں زید رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مرفوعاً روایت کی ہے۔ شیخ دہلوی نے فتح المنان میں صراحت کیا ہے کہ یزید بن خالد اور یزید بن محمد کی نسبت اختلاف ہے، لیکن بعض علماء نے ان میں سے ایک کی توثیق کی ہے، چنانچہ ذہبی کی کاشف میں اسی طرح مذکور ہے، اور مجہول سے مراد مجہول العین ہے کہ جس سے صرف ایک شخص روایت کرے اور وہ قابل بھروسہ نہ ہو اور جس شخص سے دو یا دو سے زائد راوی روایت کریں وہ مجہول نہیں، اور چونکہ دونوں راویوں یزید بن خالد اور یزید بن محمد سے کئی حضرات نے روایت کی ہے اس وجہ سے یہ مجہول نہیں ہوسکتے۔12