ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوقات میں غلاموں کو آزاد کرنا بیحد پسند ہے اُس
لیے کہ غلام کو آزاد کرنا حقیقت میں ایک انسان کو دوسرے انسان کی غلامی سے آزاد کرنا ہے جس سے وہ اپنے رب کی
بندگی کے حقوق ادا کرنے میں یکسو ہو جاتا ہے اور جس مالک نے اپنے غلام کو آزاد کیا اس کو دوزخ سے رہائی ملتی ہے،
غلاموں کو آزاد کرنا ایسے انسانوں کو غلامی کے بندھن سے جو انسان کے لئے عار ہے نکالنا ہے اور غلاموں کی
آزادی دوسروں پر رحمت اور شفقت ہے جو دراصل اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، اس سے اپنے آپ کو متصف
کرنا ہے۔ (مرقات12)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوقات میں غلاموں کو آزاد کرنا بیحد پسند ہے اُس لیے کہ غلام کو آزاد کرنا حقیقت میں ایک انسان کو دوسرے انسان کی غلامی سے آزاد کرنا ہے جس سے وہ اپنے رب کی بندگی کے حقوق ادا کرنے میں یکسو ہو جاتا ہے اور جس مالک نے اپنے غلام کو آزاد کیا اس کو دوزخ سے رہائی ملتی ہے، غلاموں کو آزاد کرنا ایسے انسانوں کو غلامی کے بندھن سے جو انسان کے لئے عار ہے نکالنا ہے اور غلاموں کی آزادی دوسروں پر رحمت اور شفقت ہے جو دراصل اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، اس سے اپنے آپ کو متصف کرنا ہے۔ (مرقات12)