العربية
Typed, pending editorial approval
٣٣٦٠ - وَعَنْ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ (رضي الله عنه) أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ، فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ ﷺ بِذَلِكَ وَقَالَ: وَالله مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: وَالله مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟» فَقَالَ رُكَانَةُ: وَاللهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا 1 إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ ، فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ، وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهِ وَالدَّارِمِيُّ إِلَّا أَنَّهُمْ لَمْ يَذْكُرُوا الثَّانِيَةَ وَالثَّالِثَةَ.
وَقَالَ عَلَى الْقَارِي: أَيْ رَدَّهَا بِتَجْدِيدِ النِّكَاحِ، وَيُؤَيِّدُهُ مَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ فِي الْآثَارِ» عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْخَلِيَّةِ وَالْبَرِيَّةِ وَالْبَائِنِ وَالْبَيَّةِ إِنْ نَوَى طَلَاقًا فَهُوَ مَا نَوَى، وَإِنَّ نَوَى ثَلَاثًا فَثَلَاثُ، وَإِنْ وَاحِدَةً فَوَاحِدَةٌ بَائِنٌ، وَهُوَ خَاطِبٌ، وَإِنْ لَمْ يَنْوِ طَلَاقًا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 1177 (unverified) 93% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 2051 (unverified) 88% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2208 (unverified) 87% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: “Returned her to him…”: Meaning to Rukanah, i.e., he ordered revocation. For Ash-Shafi‘i, final divorce is revocable per this interpretation: If one is intended, it is one; two, then two; three, then three; if no divorce is intended, it is not divorce. Abu Hanifah agrees, except that this statement causes one final divorce, whether one or two are intended. If three are intended, it is three. Consider that return for him is renewing the marriage. The dispute with Ash-Shafi‘i is in two points: the validity of revocation and the validity of intending two. We deny both, while Ash-Shafi‘i affirms them. For Malik, it is three, as in Al-Luma‘at and Al-Musawwa (summarized).
Note 1
(1) قوله: فردها إليه إلخ : أي إلى ركانة أي أمر بالرجعة وطلاق ألبتة عند الشافعي رجعية لهذا التأويل، وقال: إن أراد بها واحدة فواحدة، وأراد ثنتين فثنتان، وإن أراد ثلاثا فثلاث، وإن لم يرد بها الطلاق فليست بطلاق، وقال أبو حنيفة كذلك إلا أن عنده يقع بهذا القول تطليقة بائنة واحدة، سواء نوى واحدة أو ثنتين، وإن نوى ثلاثا فثلاث، فتأمل الرد عنده تجديد النكاح، فحاصله: أن الخلاف مع الشافعي في موضعين صحة الرجوع وصحة نية الثنتين، فمنعناهما وأثبتهما الشافعي ، وعند مالك ثلاث، اللمعات» و«المسوى» ملتقط منهما.
Note 1
ہے مگر ان حضرات نے دوسری اور تیسری طلاق کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ پر ان کی بیوی کو لوٹایا تھا وہ نکاح کی تجدید کے ساتھ تھا اور اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس کو امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الاثار میں حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے کی ہے کہ طلاق ایسے الفاظ سے دی جائے جس میں کنایہ اور اشارہ ہو جیسے خلیہ (تو نکاح سے خالی ہوگئی) اور بریہ (تو نکاح سے بری ہوگئی) کہا جائے یا طلاق بائن دیدی یا طلاق بتہ دی تو ان تمام صورتوں میں طلاق دینے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا اگر اس نے تین طلاق کی نیت کی ہو تو تین طلاق واقع ہو جائیں گے اور اس نے ایک طلاق بائن کی نیت کی ہو تو ایک طلاق واقع ہوگی اور اگر اس نے طلاق کی نیت نہ کی ہو تو کوئی بھی طلاق واقع نہ ہوگی۔ ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں ”طلاق البتة“ کا ذکر ہے بَتَّةً لفظ ”بَتٌّ“ سے ماخوذ ہے اور بَتٌّ کے معنی کاٹنے کے ہیں اور طلاق میں بتہ کنایہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے جس سے مراد نکاح کا منقطع کرنا یا الفت کا منقطع کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے بتہ کے لفظ سے طلاق دی جائے تو طلاق دینے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ (ردالمحتار۔12)