Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ النِّكَاحِ

Hadith 3439

بَابُ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحِضَانَتِهِ فِي الصَّغْرِ

In this book

Current reading

كِتَابُ النِّكَاحِ

بَابُ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحِضَانَتِهِ فِي الصَّغْرِ

Zujajat al-Masabih 3439Volume 2

العربية

Typed, pending editorial approval
٣٤٣٩ - وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ: كَانَتْ عِنْدَ عُمَرَ امْرَأَةُ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَوَلَدَتْ لَهُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ، ثُمَّ فَارَقَهَا عُمَرُ، فَرَكِبَ يَوْمًا إِلَى قُبَاءٍ، فَوَجَدَ ابْنَهُ يَلْعَبُ بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَأَخَذَ بِعَضُدِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى الدَّابَّةِ، فَأَدْرَكَتْهُ جَدَّةُ الْغُلَامِ فَنَازَعَتْهُ إِيَّاهُ حَتَّى أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ عُمَرُ: هَذَا ابْنِي، وَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : ابْنِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَلَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ. فَمَا رَاجَعَهُ عُمَرُ الْكَلَامَ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَمَالِكُ فِي الْمُوَطَّأَ وَزَادَ الْبَيْهَقِيُّ: ثُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: «لَا تُوَلَّهُ وَالِدَةٌ عَنْ وَلَدِهَا».
Commentary and footnotes (3)

Note 2

Leave him with her

(2) The statement: “Leave him with her”: For this reason, it is stated in Al-Hidayah: There is no choice for the boy or girl. Shafi‘i said they have a choice because the Prophet (ﷺ) gave a choice. For us, due to the child’s deficient intellect, they choose the one who offers ease and allows play, so the choice is not reliable. It is established that the Companions did not give a choice. As for the hadith, we say he said: “O Allah, guide him,” so he was guided to the better choice through his (ﷺ) supplication, or it applies to one who has reached puberty. In detail: The child has no choice, as per Malik and our position, whether the child is discerning or not, boy or girl. Shafi‘i said if they become discerning, they are given a choice between the parents, based on what Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: “My husband wants to take my son, and he has provided me water from Abu Utbah’s well and benefited me.” Her husband said: “Is she disputing me over my son?” He (ﷺ) said: “This is your father, and this is your mother, so take the hand of whichever you wish.” He took his mother’s hand, and she left with him. For us, the child is young, not prudent, and unaware of their best interest, so their choice is not relied upon. Due to their deficient intellect, they choose the one who offers comfort and freedom, so the choice is not sound. The conclusion is that as long as they have not reached an age where they can choose what is more beneficial, giving them a choice is futile or harmful if they do not choose the more beneficial and compassionate parent but choose, due to poor understanding and deficient intellect, the one whose company is more harmful. Thus, when Umar ibn Al-Khattab and his divorced wife disputed over their young child, Abu Bakr As-Siddiq assigned the child to the mother and did not give him a choice. This was in the presence of the Companions, and none objected. Abu Bakr said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘A mother is not to be separated from her child.’” There is no proof for Shafi‘i in the hadith because it is possible the child was mature, which is apparent since the one who draws water from a well is mature. A pre-pubescent child is not sent to wells to draw water due to fear of falling in because of their limited intellect. We say if they reach puberty, they have the choice to live independently or with whichever parent they wish, unless they are foolish or corrupt, in which case they are joined to one parent for their own protection, like their wealth. There is no evidence that they are given a choice at seven, as the hadith does not mention the child’s age. Shafi‘i also cites that the Prophet (ﷺ) gave a child a choice between his mother and father and said: “Go to whichever you wish,” and said: “O Allah, guide him,” and he chose his mother. Our scholars responded that his supplication guided him to the better, more compassionate choice, so others are not compared to him. This is gathered from Al-Hidayah, and the commentaries of Al-Kanz and Umdat Ar-Ri‘ayah.

Note 1

ف: واضح ہوکہ بچہ کی حضانت کی مدت سات برس ہے یہاں تک کہ وہ بذات خود کھانے پینے اور استنجا کرنے کے قابل ہوجائے اور امام ابوبکر رازی نے حضانت کی مدت کو نو برس قرار دیا ہے لیکن فتویٰ پہلے قول پر ہے اور بچی کی حضانت کی مدت حیض کا آنا ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ وہ شہوت کی حد کو پہنچ جائے۔ اور سراجیہ میں لکھا ہے کہ ماں بچہ کی پرورش کررہی ہو اور نکاح میں نہ ہو یا عدت میں نہ ہو اور دودھ بھی پلاتی ہو تو اس کو رضاعت کی اجرت کے علاوہ حضانت کی اجرت بھی علیحدہ ملے گی۔ (یہ فتاویٰ عالمگیریہ سے ماخوذ ہے۔12) بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ (اللہ تعالیٰ کو اُلُوہیت (معبود ہونے) میں یکتا مان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو شانِ عبدیت میں یکتا جان) نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ الْكَرِيمِ وَآلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِينَ امت مرحومہ کو یہ افتخار حاصل ہے کہ دین مبین کی خدمت میں وہ اپنی بہترین صلاحیت صرف کرتی آ رہی ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ جتنی فکری، علمی و عملی دین کی خدمت مسلمانوں نے سر انجام دی اس کی نظیر دیگر مذاہب پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ فن تفسیر، حدیث، فقہ و دیگر علوم کی اشاعت میں یہ امت ہمہ تن مصروف رہی (خدائے تعالیٰ ان پاک فطرت والے عاشقوں پر رحمت نازل فرمائے) ہمارے علماء و مفکرین نے دین کی اشاعت و حفاظت کی ذمہ داری جس خوش اسلوبی سے سر انجام دی اسی کا ثمرہ ہے کہ دین محمدی ﷺ اپنی اصلی کیفیت و حالت پر قائم ہے۔ علم فقہ کی تدوین؛ مسلمانوں کا دین میں تفقہ، حزم و اہتمام کا ثبوت ہے۔ فقہ کے چاروں مسالک کے علماء کرام نے اصول و جزئیات کی تحقیق و تکمیل پر اپنی عمر عزیز لگا دی۔ اور اپنی بہترین صلاحیتوں سے فن کی کماحقہ خدمت سر انجام دی۔ فقہ حنفی جو چاروں مسالک میں اولیت و اساس کا درجہ رکھتی ہے، اس کے مسائل کی مدافعت، تائید و تشریح میں بے شمار علماء کرام نے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ مگر مشیت یزدی یوں رہی کہ کوئی ہزار، بارہ سو سال تک فقہ حنفی جامع و مبسوط انداز میں یکجا جمع نہ ہو سکی۔ تیرھویں صدی ہجری میں ہند کے قطعہ دکن کے ایک عالم و صوفی کے نصیب میں یہ سعادت رکھی گئی کہ وہ فقہ حنفی کو ابوابی لحاظ سے یکجا کریں، ضروری توجیہ، نوٹ و تشریح کے ذریعہ مسائل کے تائیدی دلائل، فقہ حنفی پر اعتراضات کا مکمل و مُسکِت جواب، فٹ نوٹ اور حاشیہ میں درج کریں۔ علامہ ممدوح رَحْمَةُ اللّٰه نے اپنی تالیف منیف کا نام ”زجاجة المصابيح“ رکھا اور اس میں یہ اہتمام فرمایا کہ احادیث کی درجہ بندی ”مشكوة المصابيح“ کے طرز پر ہو؛ مگر ذیل میں وہ احادیث جمع کی جائیں جو فقہ حنفی کی مؤید ہوں۔ نہ صرف یہ بلکہ فاضل مؤلف رَحْمَةُ اللّٰه نے احادیث کی تشریح اور فقہ حنفی کے تمام اشکال و اعتراض کا مدلل جواب بیسیوں مستند و متداول مآخذ سے حاشیہ میں تحریر فرمایا ہے۔ اس طرح آپ کی یہ تالیف فقہ حنفی کی ایک مستند دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اصل تالیف زبان عربی میں ہے تا کہ اقطاع عالم کے مسلمان اس سے مستفید ہو سکیں۔ بلاد ہند میں مسلمانوں میں مقبول و علمی، دینی زبان ”اردو“ رائج ہے۔ اس لئے ضرورت محسوس کی گئی کہ اس علمی خزانے کو اردو داں طبقے تک جو کافی بڑی تعداد میں موجود ہے پہنچایا جائے۔ حضرت علامہ رَحْمَةُ اللّٰه کی عین حیات میں ہی اردو ترجمہ کا کام شروع کر دیا گیا۔ اور مکمل پہلی جلد کا کام سرانجام پایا، ابتداءً مولانا الحاج منیر الدین صاحب شیخ الادب جامعہ نظامیہ و خطیب مکہ مسجد نے اس کی ابتداء فرمائی۔ مولانا کی عمر کا ابتدائی حصہ مکہ مکرمہ میں گزرا، اس لئے آپ عربی ادب کے محاورات پر کافی عبور رکھتے تھے۔ جامعہ متذکرہ میں آپ نے شعبہ حدیث میں بھی خدمت انجام دی تھی۔ آپ نے عربی کی پہلی جلد کا اردو ترجمہ مکمل فرما لیا تھا جو حضرت صاحب تالیف رَحْمَةُ اللّٰه کے ملاحظہ میں گزر چکا تھا، اللہ تعالیٰ ان کی سعی کو قبول فرمائے۔ عرصہ دراز تک ترجمہ کا کام موقوف رہا، توفیق الٰہی سے حضرت ممدوح رحمۃ اللہ علیہ کے ارادت مند محمد تاج الدین شوکت صدیقی صاحب کو اللہ تعالیٰ ہر حرف کے بدلے جزائے خیر دے کہ انہوں نے اس کام کو شروع کرنے میں پرخلوص کاوشیں کی ہیں۔ جامعہ نظامیہ کے شیخ الحدیث مولانا محمد خواجہ شریف صاحب مدظلہ اور دیگر علماء کرام نے ترجمہ کی ذمہ داری سنبھالی۔ ایک ترجمہ کمیٹی تشکیل دی گئی: (1) مولانا حافظ محمد عبداللہ قریشی صاحب نائب شیخ الجامعہ، جامعہ نظامیہ (2) مولانا محمد خواجہ شریف صاحب شیخ الحدیث، جامعہ نظامیہ (3) ڈاکٹر حافظ سید جہانگیر صاحب نائب شیخ الادب، جامعہ نظامیہ (4) حافظ سید ضیاء الدین صاحب استاذ جامعہ نظامیہ اور اس کمیٹی کی معاونت محمد فاروق حسین کامل الحدیث، محمد قاسم صدیقی تسخیر، محمد لطیف احمد، غلام محمد اشرفی طلباء جامعہ نظامیہ نے نہایت حسن و خوبی سے انجام دی۔ اللہ ان کی کاوشوں کو شرف قبولیت بخشے اور دارین میں جزائے خیر و اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین حضرت علامہ رَحْمَهُ اللّٰهُ نے خود بنفس نفیس ابتداء میں ترجمہ کے کام کی نگرانی فرمائی تھی اور اردو ترجمہ کا نام ”نورالمصابیح“ بھی حضرت کا ہی مجوزہ ہے۔ الحمدللہ! اس کے ترجمہ میں مولانا محترم نے اس بات کا بطور خاص اہتمام کیا ہے کہ متن کا سلیس و بامحاورہ ترجمہ کیا جائے، اصل کتاب کے حاشیہ کا ترجمہ حاشیہ میں کیا جائے۔ حدیثی، فقہی و فنی اصطلاحات کی تشریح صاحب ترجمہ نے اپنے طور پر جو کی ہے وہ متن اور حاشیہ میں قوسین کے درمیان دیکھی جا سکتی ہے۔ ترجمہ میں اس بات کا بطور خاص خیال رکھا گیا ہے: عربی متن کا ترجمہ با محاورہ ہو اور عربی عبارت کے مکمل و صحیح مفہوم کو اردو میں احاطہ کیا جائے۔ دراصل مترجم کا ’کام اور عین فرض صرف اصل مواد کو دوسری زبان میں اس کی مکمل لطافت و عظمت اور مفہوم کے ساتھ منتقل کرنا ہوتا ہے جو بڑی دینی علمی ذمہ داری ہے۔ متذکرہ بالا علماء کرام نے ترجمہ اور اس کی اشاعت میں جو غیر معمولی انہماک سے کام لیا ہے اور ان تمام مخلصین نے جو اس مبارک و مسعود کام میں اپنا اپنا حصہ ادا کیا وہ سب کا سب اللہ اور اس کے رسول پاک ﷺ کی خوشنودی کی طلب اور مؤلف علام رَحْمَہُ اللّٰہُ کی عقیدت و محبت کے سبب ہے۔ (ہمارے چاہنے والوں کی طرف سے جو چھوٹی سے چھوٹی بھی کوشش پیش کی جاتی ہے۔ ہماری طرف سے ہر وقت، ہر طرح قبول ہے اور قابل تعریف و تحسین ہے) رب العالمین کی بارگاہ میں شکر ادا کرتے ہوئے دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کام کو قبول فرمائے اور اس کو ہم سبھی کے لئے زادِ آخرت بنائے۔ آمین۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ، وَعَلٰى آلِهِ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ، وَأَصْحَابِهِ الْأَكْرَمِينَ الْأَفْضَلِينَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ بِإِحْسَانٍ إِلٰى يَوْمِ الدِّينِ أَجْمَعِينَ. أَمَّا بَعْدُ! الحمد للہ! فخر العلماء والمحدثین، ابو الحسنات محدث دکن حضرت مولانا سید عبداللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی تالیف منیف ”زجاجة المصابيح“ کی جلد دوم ”كِتَابُ الْعِتْقِ“ سے متن اور حاشیہ کا ترجمہ شروع کیا گیا اور بفضلہ تعالیٰ جلد سوم ”بَابُ مَا لَا يُدْعَى عَلَى الْمَحْدُودِ“ تک بتمامہ ترجمہ مکمل ہوا اور ان شاء اللہ آئندہ باقی جلدوں کا ترجمہ بھی کیا جائے گا۔ اس ترجمہ کے لئے ابو الخیرات حضرت مولانا سید انوار اللہ شاہ صاحب نقشبندی مدظلہ ودامت فیوضہ نے حکم فرمایا تھا اور اس کے لئے حسب ذیل علماء پر مشتمل کمیٹی قائم فرمائی۔1 1۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ قریشی ازہری صاحب خطیب مکہ مسجد و شیخ الادب و نائب شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ 2۔ محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث و ناظم مرکز تحقیقات اسلامیہ جامعہ نظامیہ 3۔ ڈاکٹر مولانا سید جہانگیر صاحب نائب شیخ الادب جامعہ نظامیہ 4۔ مولانا سید ضیاء الدین صاحب استاذ جامعہ نظامیہ کتاب ”زجاجة المصابيح“ دراصل ”مشكوة المصابيح“ کے نہج پر مذہب حنفی کے مستدل تمام احادیث اور اس سے متعلقہ حدیثی و فقہی مباحث پر مشتمل جامع کتاب ہے۔ معانی و مفاہیم کا بحر زخار ہے۔ حضرت محدث دکن علیہ الرحمہ نے کتاب کے حواشی میں سند و متن کے مباحث، متابعات، شواہد اور بیان مذاہب کے ساتھ مذہب حنفی کے وجوہ ترجیح، اس کی اصولی بحثیں اور دلائل عقلیہ ونقلیہ، حدیث وفقہ کے ساٹھ (60) سے زائد مصادر ومراجع ذکر کئے ہیں۔ اور ایک ایک حاشیہ میں متعدد کتب سے منتخب عبارتیں مسلسل لائی ہیں، ان کی تراکیب اور اس میں ضمائر کے مراجع کا تعین، پھر ان تمام کتب کی طرف مراجعت، وقت طلب اور وقت طلب کام تھا، جو کسی بھی مترجم کے لئے متعدد وجوہ سے نہایت پیچیدہ اور دشوار ہے۔ الحمدللہ! اللہ بزرگ وبرتر کی توفیق ہر وقت شامل حال رہی۔ پیچیدہ اور معقد مقامات، حل ہوتے گئے۔ ترجمہ میں جن امور کو پیش نظر رکھا گیا ہے ان میں سے یہ ہیں: 1۔ ترجمہ سلیس اور سب کے لئے قابل فہم ہو۔ 2۔ اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ عربی کا کوئی لفظ ترجمہ میں چھوٹنے نہ پائے اور علمی اصطلاحات کا ترجمہ قریب الفہم اور بامحاورہ ہو۔ البتہ جن مقامات میں مصادر کا ذکر شروع میں تھا مثلاً ”رَوَى النَّسَائِيُّ“ تو ترجمہ میں اس کو بطور مصدر آخر میں ذکر کیا گیا ہے۔ 3۔ ایک مقام پر متعدد ضمائر جمع ہو جائیں تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ضمیر کا ترجمہ ”آپﷺ“ اور صحابی، تابعی یا کسی دوسروں کی طرف راجع ضمائر کا ترجمہ ”انہوں نے، اس نے“ سے کیا گیا ہے۔ 4۔ بعض ایسے عربی الفاظ واصطلاحات جن کا لفظی ترجمہ صحیح مفہوم ظاہر نہ کر سکتا ہو بلکہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے، مثلاً: ”لَيْسَ بِصَحِيْحٍ“ (یہ حدیث صحیح نہیں ہے) کوئی عام قاری ”صحیح“ کو غلط کے مقابل میں نہ سمجھے۔ اسی طرح حدیث ضعیف سے کوئی فی نفسہ حدیث کو ضعیف نہ سمجھ بیٹھے۔ شرطِ صحت ⟦?⟧ سے یہ نہ سمجھے کہ ⟦?⟧ بھی صحیح ہو سکتا ہے۔ اس لئے ایسے تمام مقامات میں اس کی تعبیر اس طرح کی گئی ہے کہ ”یہ حدیث مرتبہ صحت میں نہیں ہے“۔ ”یہ حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہے‘‘ ’’ثبوتِ ارتداد کے یہ شرطیں‘‘۔ ایسے تمام مقامات میں اس کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ یہ اپنے پورے صحیح مفہوم کو ظاہر کرنے کے ساتھ کسی ہونے والی غلط فہمی کو بھی دور کرے۔ اس کے باوجود اگر ترجمہ میں کوئی نقص یا مفہوم میں کہیں کوئی تعقید آ گئی ہے تو مخلصین سے درخواست ہے کہ اس کو مترجم کے قصور پر محمول کریں اور اگر اس کی اطلاع دی جائے تو آئندہ کے لئے تصحیح کر لی جائے گی۔ اس کام میں مولانا سید ضیاء الدین نقشبندی استاذ جامعہ، مولوی محمد فاروق حسین کامل الحدیث، مولوی محمد قاسم صدیقی، مولوی محمد لطیف احمد، مولوی غلام محمد اشرفی طلبہ کامل حدیث نے شبانہ روز تعاون کیا۔ اللہ تعالیٰ ان طلبہ کو اور ان اصحاب کو جو اس میں کسی بھی قسم سے حصہ لئے ہیں جزائے خیر عطا فرمائے اور اس کام کو ہم سب کے میزانِ حسنات میں شامل کرے اور ذخیرہ آخرت بنائے۔ آمین۔ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى وَسَلَّمَ عَلٰى خَيْرِ خَلْقِهِ وَ آلِهِ وَ صَحْبِهِ أَجْمَعِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.

Note 2

1 طبع اول کے لحاظ سے یہ نور المصابیح کی نویں جلد تھی لیکن اس مرتبہ کی طباعت کے لحاظ سے یہ چھٹی جلد قرار پائی ہے جس میں ’زجاجة المصابيح‘ جلد دوم کے ’كِتَابُ الْعِتْقِ‘ سے بَابٌ فِي النُّذُورِ، تک متن اور حاشیہ کا ترجمہ ہے۔ زجاجۃ المصابیح جلد سوم کا ترجمہ نور المصابیح کی ساتویں اور آٹھویں جلد میں آئے گا۔