Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كتاب الآداب

Hadith 4595

بَابُ الْأَسَامِي

In this book

Current reading

كتاب الآداب

بَابُ الْأَسَامِي

Zujajat al-Masabih 4595Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٤٥٩٥ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كَنَّانِي1 رَسُولُ اللهِ ﷺ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثُ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. وَفِي الْمَصَابِيحِ صَحَّحَهُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3830 (unverified) 65% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 4781 (unverified) 40% confidence

Mishkat (candidate) 4781

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

gave me a kunyah

(1) His statement: “gave me a kunyah”: That is, he made me known as Abu Hamzah. As stated in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: كناني: أي جعلني مكنى بأبي حمزة. كذا في «المرقاة».

Note 1

1 قوله: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ الخ (اور لوگوں میں سے ایک وہ ہے جو بیہودہ حکایتوں کو خریدتا ہے) اس میں گانے کی حرمت کے مسئلہ کا بیان ہے۔ جان لو کہ گانے بجانے سے متعلق مسائل بڑے اختلافی مسائل ہیں اسکے جواز، عدم جواز سے متعلق آیات مبارکہ اور احادیث شریفہ ایک دوسرے کے معارض ہیں اس سلسلے میں علماء کے اقوال صلحاء کے آراء بکثرت وارد ہوئے ہیں پھر ہم آپ کو ایک دوسرے کے خلاف دلائل سناتے ہیں پھر ہم وہ بات بیان کریں گے جو واقعہ محقق اور ثابت ہیں، ہم کہتے A ہیں اس کی حرمت پر دلالت کرنے والی آیتوں میں سے ایک مذکورہ آیت مبارکہ ہے اور وہ نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی: جس نے عجمیوں کی کتابوں کو خرید رکھا تھا اور قریش کو بیان کرتا تھا اور کہتا اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم کو عاد و ثمود کے واقعات بتلاتے ہیں تو میں تم کو رستم اسفند یار اور شاہان ایران کے قصے سناتا ہوں اور کہا گیا کہ وہ گانے والی دوشیزاؤں کو خریدتا اور جو لوگ اسلام لانا چاہتے ہیں انکے ساتھ رہنے پر انکو بھڑکاتا تھا اور ان سے کہتا کہ یہ اس سے بہتر ہے جسکی طرف محمد ﷺ تم کو دعوت دیتے ہیں۔ اسی طرح تفسیر کشاف اور تفسیر بیضاوی میں ہے اور امام احمد کی ایک روایت میں ہے کہ یہ آیت مبارکہ ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی اور کلمہ ”يشتري“ یا تو خریدنے کے معنی میں ہے جیسا کہ تم جان چکے ہو یا اختیار کرنے کے معنی میں ہے اور لفظ ”الحديث“ اگر ناپسندیدہ کلام کے معنی میں ہے تو لفظ ”لهو“ کی اضافت اسکی طرف اضافت بیانیہ ہے اگر یہ لفظ اس سے عام معنی کو شامل ہے تو یہ اضافت معنی من التبعيضية ہوگی اور ”يضل“، ضمہ و فتحہ کے ساتھ پڑھا گیا گمراہ کرنے والا اور گمراہ ہووے کے معنی میں ہے۔ اسی طرح يتخذوا کو يضل پر عطف کرتے ہوئے منصوب پڑھا گیا اور يشتري پر عطف کرتے ہوئے مرفوع پڑھا گیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے جو کہا ہے کہ یہ ⟦?⟧ غناء (گانے) کی حرمت پر دلالت کر رہا ہے تو یہ اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے لہو ولعب کی گفتگو میں مشغول ہونے والے کی مذمت فرمائی ہے۔---بقیہ اگلے صفحہ پر--- ۔۔۔ باقی ۔۔۔ اور اس نے آیت آمیز عذاب سے ڈرایا ہے اور ”لهو الحديث“ کا ظاہری مصداق عام ہے، ہر اس چیز پر شامل ہے جو فائدہ مند چیزوں سے غافل کرنے والی ہے، جیسے ایسی بے سرو پا باتیں جن کی کوئی اصل نہ ہو اور ایسے افسانے جن میں کوئی عبرت کا پہلو نہ ہو اور مضحکہ خیز ولایعنی باتیں، اکثر مفسرین کرام کی اس سلسلہ میں یہی رائے ہے، نیز شان نزول سے متعلق بیان کردہ پہلی روایت بھی اسکی مطابقت کررہی ہے البتہ فتاوی حمادیہ پر؟ کی طرح عود وغیرہ میں یہ مذکور ہے کہ حضرت ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتے تھے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اس سے گانا مراد ہے اور شان نزول سے متعلق دوسری روایت اس کے موافق ہے چنانچہ یہ آیت اسکی حرمت کی دلیل قرار پائے گی مجلہ ان دلائل کے وہ آیت ہے جو سورہ نجم (آیت:61) کے آخر میں آئی ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ (اور تم غفلت میں پڑے ہو) تفسیر بیضاوی میں ہے کہ اس سے مراد ”وانتم مغنون“ ہے تم گاتے بجاتے ہو اور عوارف المعارف میں ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حلفیہ طور پر بیان کرتے تھے کہ اس سے مراد گانا بجانا ہے۔ اور مجلہ ان کے سورہ بنی اسرائیل (آیت:64) میں ذکر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ“ (اور ان میں سے جس کسی کو تو اپنی پُر فریب آواز سنا کر بہکا سکتا ہے، بہکا لے)۔ فتاوی حمادیہ اور عوارف میں ہے کہ حضرت مجاہد نے کہا: یہ آیت کریمہ گانے بجانے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے اور وہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”واستفزز“ اور تو بہکا لے یہ ”ابلیس عليه اللعنة“ سے خطاب ہے۔ جس کے معنی ہیں جتنا تجھ سے ہو سکے بنی آدم کو پُر فریب آواز سے حرکت دے، صوت سے گانا بجانا مزامیر اور دف وغیرہ کی آواز مراد ہے یہ تین آیتیں مطلق اس کے حرام ہونے پر دلالت کررہی ہیں اس کی حرمت پر دلالت کرنے والی صحیح اور معتبر احادیث شریفہ کئی اور شمار سے کہیں زیادہ ہیں۔ جن میں سے اکثر عوارف میں مذکور ہیں اور فتاوی کی کتب اس سے بھری پڑی ہیں۔ (مجلہ ان کے وہ احادیث شریفہ ہیں جنکو میں نے مشکوۃ سے نقل کر کے اس باب کے آخر میں ذکر کیا ہے)۔ اور ان احادیث میں سے ایک حدیث یہ بھی نقل کی گئی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے حضرت طاہر کا وصال ہوا تو آپؐ عثمان ابن ابی العاص ہوں یا تو عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ نے ہم کو رونے سے منع نہیں فرمایا تھا؟ تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: میں نے تم کو دو بری اور نا پسند آوازوں سے منع کیا تھا ایک نوحہ کی آواز اور دوسری گانے کی آواز، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سانپ سے پہلے نوحہ کرنے والا اور سب سے پہلے گانے والا ابلیس ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گانا بجانا حرام ہے، اس سے لذت اندوز ہونا کفر ہے اور اسکے پاس بیٹھنا فسق و معصیت ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو بھی شخص گانے میں اپنی آواز کو بلند کرے اللہ اس پر دو شیطانوں کو مسلط فرماتا ہے، ان میں سے ایک اس کی دائیں پر اور دوسرا اس کی بائیں پر ہوتا ہے اور دونوں مسلسل ناچتے رہتے ہیں یہاں تک کہ یہ شخص ہی خاموش ہوجائے، اور یہ تمام دلائل مطلق گانے کی حرمت پر دلالت کرتے ہیں۔ اسکے جواز کو بتانے والے مجلہ دلائل کے وہ ہیں جو عوارف میں مذکور ہیں قرآنی آیات میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ۔ (المائدۃ آیت:83) اور جب یہ اس قرآن کو سنتے ہیں جو ہمارے پیغمبر ﷺ پر نازل ہوا تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی ہے۔ اور ارشاد باری ہے: فَبَشِّرْ عِبَادِ. الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ. (الزمر:18/17) تو میرے بندوں کو خوشخبری سنا دو جو کلام الٰہی کو سنتے ہیں پھر اسکی اچھی اچھی باتوں پر چلتے ہیں۔ اور فرمان الٰہی ہے: تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ، ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ جس سے ان لوگوں کے بدن کانپ اٹھتے ہیں جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں پھر ان کے بدن اور دل نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔ ۔۔۔باقی۔۔۔ تو یقیناً یہ آیتیں کلام الٰہی کو بغور سننے اور اس کی وجہ سے گریہ طاری ہونے اور رونگٹے کھڑے ہوجانے پر دلالت کرتی ہیں اور اس سے جواز پر استدلال کا ضعف پوشیدہ نہیں، صاحب ”عوارف“ نے کہا یہ ایک ایسی بات ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس میں کوئی اختلاف ہے اور اختلاف تو سروں کے ساتھ اشعار سننے میں ہے اور اس میں اقوال بہت ہیں اور احوال جدا جدا ہیں، اور ان احادیث شریفہ سے(1) ایک یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ شیخ طاہر بن ابوالفضل نے اپنے والد حافظ مقدسی سے، ہم کو خبر دی، انہوں نے کہا: ابوبکر قاسم حسن بن محمد خولانی نے ہم کو خبر دی، انہوں نے کہا ابومحمد عبداللہ بن یوسف نے ہم کو حدیث بیان کی کہ انہوں نے کہا: ابوبکر بن وثاب نے ہم کو بیان کیا انہوں نے کہا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہم کو حدیث بیان کی(2) امام اوزاعی نے، ہم کو امام زہری سے بیان کیا وہ حضرت عروہ سے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ حضرت ابوبکر حضرت عائشہ کے پاس آئے آپ کے پاس اس وقت دو باندیاں گا رہی تھیں اور دف بجا رہی تھیں اور رسول اللہﷺ اپنی چادر مبارک اوڑھے ہوئے تھے حضرت ابوبکر نے ان دونوں کو ڈانٹا تو رسول اللہﷺ نے اپنے چہرۂ نور سے چادر کو ہٹایا اور فرمایا: اے ابوبکر ان دونوں کو چھوڑ دو کیونکہ عید کے دن ہیں، اور اس میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کی، فرمایا: میرے پاس ایک باندی گا رہی تھی تو رسول اللہﷺ تشریف لائے جبکہ وہ اپنی حالت پر تھی پھر حضرت عمر آئے تو وہ بھاگ گئی تو رسول اللہﷺ نے تبسم فرمایا حضرت عمر نے عرض کیا: آپ کے تبسم فرمانے کی کیا وجہ ہے یا رسول اللہﷺ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو باندی کا قصہ بیان کیا، انہوں نے عرض کیا: میں اس وقت ٹھہرا رہونگا یہاں تک کہ اس کو سن لوں جس کو رسول اللہﷺ نے سماعت فرمایا ہے، رسول اللہﷺ نے اس باندی کو حکم فرمایا: تو وہ حضرت عمر کو سنائی، اور اسی میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا آپ مجھ کو اپنی چادر مبارک سے چھپائے اور میں حبشیوں کو مسجد میں کھیلتے ہوئے دیکھتی رہی یہاں تک کہ میں خود اکتا گئی۔ اور اسی میں ہے صاحب عوارف نے کہا ابونصر طاہر نے اپنے والد ابوالفضل حافظ مقدسی سے، ہم کو خبر دی انہوں نے کہا: ابو منصور محمد بن عبدالملک مظفری سرخسی نے، ہم کو خبر دی انہوں نے کہا: ابوعلی فضل بن منصور بن نصر کاغذی سمرقندی نے بطور اجازت، ہم کو خبر دی انہوں نے کہا ہشیم نے کلیب سے، ہم کو بیان کیا، انہوں نے کہا: ابوبکر عباد بن اسحق نے ہم کو بیان کیا انہوں نے کہا: سعد بن عامر نے شعبہ سے، ہم کو بیان کیا وہ عبداللہ بن صحیب سے وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا: ہم رسول اللہﷺ کے پاس تھے کہ جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کئے یا رسول اللہ! آپ کی امت کے فقراء، مالداروں سے آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہونگے جو پانچ سو سال ہے، تو رسول اللہﷺ خوش ہوگئے اور فرمایا: کیا تم میں کوئی، ہم کو شعر سنانے والا ہے ایک اعرابی نے عرض کیا: ہاں! میں ہوں یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: پیش کرو، تو اعرابی نے یہ اشعار سنائے محبت کے سانپ نے میرے جگر کو ڈس لیا ہے تو اس کا نہ کوئی طبیب ہے نہ تعویذ کرنے والا سوائے حبیب پاکﷺ کے جن پر میں فریفتہ ہو گیا ہوں تو انھیں کے پاس میری تعویذ اور میری دوا ہے تو رسول اللہﷺ پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی اور آپ کے ساتھ صحابہ کرام بھی وجد میں آئے، یہاں تک کہ آپ کی چادر شانہ مبارک سے ڈھلک گئی پھر جب ان کی کیفیت فرو ہوگئی تو ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مقام پر متمکن ہوگیا، حضرت معاویہ بن ابی سفیان نے عرض کیا: آپ کا پہلا واس کی قدر عمدہ و بہترین ہے، تو آپ نے فرمایا: اے معاویہ! جو حبیب کے ذکر کو سننے کے وقت جھوم نہ جائے وہ شریف نہیں پھر رسول اللہﷺ نے اپنی چادر مبارک کے چار سو ٹکڑے کئے اور حاضرین میں ان کو تقسیم فرمایا۔ اور اس حدیث کو ہم نے سند کے ساتھ بیان کیا جیسا ہم نے اس کو مذکور پایا تھا لیکن محدثین نے اس کی صحت میں کلام کیا اور ہم نے نہیں پایا ایسی چیز جو منقول ہو رسول اللہﷺ سے اس زمانہ والوں کے وجد اور ان کے سماع اور اجتماع کے موافق ہو سوائے اس حدیث کے، اور سماع کے جواز میں کپڑے پھاڑ لینے اور تقسیم کرنے میں صوفیہ کرام اور اس زمانہ والوں کی دلیل کیا ہی اچھی ہے، بشرطیکہ یہ حدیث ثابت ہو اور اللہ اس کو بہتر جانتا ہے، میرے دل میں یہ بات کھٹکی۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی۔۔۔ ہے کہ یہ غیر صحیح ہے اور میں نے اس میں نبی اکرم ﷺ کا اپنے صحابہ کے ساتھ اجتماع کا ذوق نہیں پایا اور اس حدیث میں جو بات ہمکو پہنچی ہے اسکے مطابق اعتقاد کرتے ہوں میں نہیں پایا، اور قلب اس کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسکو زیادہ جاننے والا بہتر اور فیصلہ کرنے والا ہے، یہ بعینہٖ عوارف کی عبارت ہے۔ تو یہ تمام دلیلیں گانے کے مباح ہونے کو بتاتی ہیں کیونکہ رسول اکرم ﷺ کے فعل اور قول کی آخری درجہ یہ ہے کہ وہ مباح ہو، لہٰذا گانے کی اباحت اور حرمت پر دلالت کرنے والی احادیث ظاہراً ایک دوسرے کے خلاف ہیں اور تاریخ نامعلوم ہے اور جب تمام اصول کے دو قاعدوں کو دیکھو گے تو اسکی حرمت واجب ہوگی ان میں سے ایک یہ کہ جب حلال کو بتانے والی دلیل اور حرام کو بتانے والی دلیل کا تعارض (مقابلہ) ہو تو حرمت کو بتانے والی دلیل پر عمل کرنا اولیٰ ہے، وہ دوسرا یہ کہ جب دو حدیثوں کے درمیان تعارض ہو تو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے قول کی طرف رجوع کرنا واجب ہے اور یہاں صحابہ کرام کا قول مطلق اسکی حرمت پر دلالت کر رہا ہے جیسا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نہ گانا گایا نہ اسکی تمنا کیا اور نہ میں نے اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ کو چھوا جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی ہے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے، اور روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما احرام باندھے ہوئے کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے ان میں ایک شخص گا رہا تھا تو آپ نے فرمایا: خبردار! اللہ تم سے قبول نہ کرے پھر خبردار! اللہ تم سے قبول نہ کرے، اور تابعین و تبع تابعین بھی اسکی حرمت کے قائل ہیں جیسا کہ ان میں سے ایک بزرگ نے کہا: تم لوگ گانے سے بچو! کیونکہ وہ شہوت کو بڑھاتا ہے، مردانگی کو ڈھا دیتا ہے، شراب کے قائم مقام ہوتا ہے اور نشہ پیدا کرتا ہے، حضرت فضیل بن عیاض نے فرمایا: گانا زنا کا منتر ہے، حضرت ضحاک سے روایت ہے گانا دل کے بگاڑ اور پروردگار کی ناراضی کا سبب ہے، اور چاروں ائمہ کرام بھی اس کو پسند نہیں کرتے تھے، اور صاحب عوارف نے اسی طرح ذکر کیا اور فرمایا کہ امام شافعی سے منقول ہے کہ آپ نے کتاب القضاء میں فرمایا گانا غافل بنانے والا ایک ناپسندیدہ کھیل تماشہ ہے جو باطل کے مشابہ ہے اور آپ نے کہا: جو شخص کثرت سے گاتا رہتا ہے وہ احمق ہے اسکی گواہی ناقابل قبول ہے، اور امام مالک کا مسلک یہ ہے کہ جب کوئی باندی خریدے اور اسکو مغنیہ پائے تو اسکو اختیار ہے کہ عیب کی وجہ سے اسکو واپس کر دے، اور اسی طرح امام اعظم ابو حنیفہ کا مذہب ہے کہ گانا سننا گناہ ہے کہ اسکو فقہا کی ایک چھوٹی سی جماعت نے ہی جائز کہا اور جن فقہاء نے اسکو جائز کہا وہ بھی مساجد اور مقدس مقامات میں اسکو علانیہ کرنے کے قائل نہیں ہیں یہ صاحب عوارف کا کلام ہے، اور یہ بھی مشہور ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو ایک دن ولیمہ میں مدعو کیا گیا تو آپ نے وہاں کھیل کود اور گانا پایا یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ آپ مقتدی نہیں بنائے گئے تھے تو آپ نے اس پر صبر کیا اور اس کے بعد جب آپ سے گانے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: میں اس سے ایک بار مبتلا کیا گیا تو میں نے صبر کیا، آپ کا قول اُبْتُلِيْتُ (ایک مرتبہ میں اس میں مبتلا کیا گیا) اسکی مطلقاً حرمت پر دلالت کر رہا ہے کیونکہ ابتلا تو حرام چیز سے ہی ہوتی ہے، اسی طرح بہت سے مجتہدین اسکی مطلقاً حرمت پر متفق ہیں یہاں تک کہ انکی تعداد بہتر 72 یا پچھتر تک پہنچ گئی جنکے اقوال کو میں نے ایک رسالہ میں جمع کیا ہے، جو شخص اس پر مطلع ہونا چاہے اسکی طرف رجوع کرے اور شریعت بیضاء کے اکثر علماء اسکے مطلق حرام ہونے پر متفق ہیں، پھر ایک جماعت نے دو تطبیقوں کے ذریعہ فرق کیا ہے چنانچہ شیخ الشیوخ نے عوارف میں ذکر کیا اب رہا دف اور شبانہ: جو ایک قسم کا ساز ہے اگرچہ امام شافعی کے مذہب میں اسکی گنجائش ہے، تاہم اسکو چھوڑنا ہی اولیٰ ہے اب رہا اسکے علاوہ ⟦?⟧ مثلاً کہ وہ ایسے قصائد ہوں جو جنت و دوزخ کی یاد، آخرت کا شوق دلانے میں، اور عظمت و سطوت والے بادشاہ کی نعمتوں کو بیان کرنے عبادتوں کے ذکر اور نیکیوں کی رغبت دلانے والے امور پر مشتمل ہوں تو اسکے انکار کی کوئی وجہ نہیں اور اسی قبیل سے جہاد اور حج کے بیان میں مجاہدین اور حاج کے وہ قصیدے ہیں جو جہاد کرنے والے کے پوشیدہ عزم کو اور حاج کے خاموش شوق کو ابھارتے ہوں، اور جن قصائد میں قد و قامت خد و خال اور عورتوں کے اوصاف کا بیان ہو تو ان جیسی چیزوں کے لئے اجتماع مذہبی لوگوں کے شایان شان نہیں، اور جس میں فراق اور وصال اور قرب و بعد کا ذکر ہو، جو حق سبحانہ و تعالیٰ کے ⟦?⟧ قرب کی نعمت مریدین کے احوال کے۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی۔۔۔ بدلنے اور ظالمین پر مصائب کے نزول جیسے امور حق پر ابھارنے والے ہوں تو شخص اس کو سنے اور اس میں فوت شدہ پر پشیمانی و شرمندگی پیدا ہو یا مستقبل کے لئے اس کا ارادہ جاگ جائے تو ایسی چیزوں کے سننے کا انکار کیسے کیا جا سکتا ہے، یہ صاحب عوارف کا کلام ہے، اور دوسرے حضرات نے اس کی تعلیق کی ایک اور وجہ بیان کی ہے چنانچہ بعض حضرات نے اس کو ان کے اہل کے لئے جائز قرار دیا انہی میں امام غزالی ہیں اور اہل کی تفسیر اس شخص سے کی جسکا دل زندہ ہو اور نفس مردہ ہو، وہ شہوت والا نہ ہو اور وہ اس کو حق کے سوا کسی اور کی طرف نہ پھیرے، اور انہوں نے شرط لگائی کہ گانے والا بھی اہل ہو اور اسکی نیت اجرت لینا، ریاکاری اور شہرت نہ ہو اور مجلس میں نااہل موجود نہ ہوں اور اس طرح کی دیگر شرطیں ہیں اور اسی پر اکثر متاخرین ہیں اور ہم اسی کو لیتے ہیں اس لئے کہ ہم نے دیکھا کہ وہ ایسے حضرات سے شروع ہوا جنکو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور رسول اللہ ﷺ سے محبت تھی اور وہ آپکی شریعت و احکام کی اتباع کرنے والے تھے، وہ روشن کرامتوں اور تابناک و تابندہ خرق عادت امور والے تھے، غلبہ حال کی وجہ سے وہ معذور تھے وہ کثرت سے غنا کو سنا کرتے تھے اور اسکے ذریعہ حق سبحانہ وتعالیٰ کی تجلیات کے مشتاق و خواہشمند تھے اور وہ اسکو عبادت عظمیٰ اور جہاد اکبر سمجھتے تھے اور سماع کے وقت ان کے پاس نہ کوئی ذمی ہوتا نہ فاسق نہ بے ریش لڑکا اور نہ عورتیں، اور وہ تمام عبادتوں کے آداب کی طرح اس کے آداب بجا لاتے اس لئے وہ خاص ان کے لئے جائز تھا، اور ہمارے اہل زمانہ نے اس کا جو طریقہ بنایا ہے کہ وہ مجالس منعقد کرتے ہیں اور اس میں شراب نوشی اور بے حیائی کے کاموں کے مرتکب ہوتے ہیں، بدکاروں اور بے ریش لڑکوں کو جمع کرتے ہیں گانے والوں اور طوائف کو بلاتے ہیں اور ان سے گانا سنتے ہیں اور اس کے ذریعہ بہت سے نفسانی خواہشات اور شیطانی خرافات سے لطف اندوز ہوتے ہیں، بڑے بڑے انعامات دیکر گانے والوں کی تعریف کرتے ہیں اور ہر طرح کا سلوک کر کے ان کی شکرگزاری کرتے ہیں، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بڑا گناہ ہے اور اسکو جائز سمجھنا قطعاً و یقیناً کفر ہے اس لئے کہ وہ ان کے حق میں لہو الحدیث (غافل کر دینے والی باتوں میں) ہے برخلاف اولیاء حق کے کیونکہ ان کے حق میں وہ غافل کرنے والی بات نہیں بلکہ وہ ان کے درجات کی بلندی اور کمالات کے حصول کا ذریعہ ہے، اور ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تغنی (گانا) کے بجائے لہو الحدیث ذکر کرنے میں، اسی طرح ”من“ تبعیضیہ اور ”لام“ غایت کو ذکر کرنے میں اس فرق کی طرف اشارہ ہو، اس لئے ہمارے زمانے میں اہل کے لئے اس کے جواز کا فتوی دینا نہیں چاہئے کیونکہ زمانہ کا بگاڑ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ ہر شخص دعوی کر رہا ہے کہ میں اسکا اہل ہوں، اس کے سوا نہیں کہ ہم بزرگان عظام اور اولیاء کرام سے صادر ہونے کی بناء پر اہل کے لئے اس کے جواز کی بات کریں گے اس لئے کہ ان پر گناہوں اور خطاؤں کے ارتکاب کا الزام نہ آئے اور اللہ کی قسم ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا ہے باوجود اس کے کہ اکثر اولیاء کرام بھی اس کو اختیار نہیں کئے اور نہ اسکو اچھا سمجھے، اور یہ صحیح ہے کہ حضرت جنید رضی اللہ عنہ اس معرفت اور کیفیت کے باوجود اپنے زمانہ میں سماع سے توبہ کئے، تو دوسروں کا کیا حال ہے، لہذا تہمت اور مخالفت کے الزام کو دور کرنے کیلئے چھوڑ دینا ہی اولی ہے، اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اس کی نیت صحیح ہو اور اس وقت وہ ⟦?⟧ وحشت کو دور کرنے کیلئے نغمہ ریزی کرے تو یہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہے اس کو ملامت نہیں کی جائیگی، اس سلسلہ میں جو کچھ ہم نے کہا ہے، اس کے سوا نہیں کہ یہ تعصب اور زندیقی کے شبہ سے قطع نظر افراط و تفریط سے بھی دور ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جاننے والا ہے۔ یہ سب تفسیرات احمدیہ میں ہے۔ 1 قوله: ليسبي به قلوب الرجال الخ (تاکہ اس کے ذریعہ لوگوں کے دلوں کو مائل کرے) صاحب بذل المجہود نے کہا مولانا محمد یحییٰ مرحوم نے تقریر میں لکھا: حضورﷺ کا ارشاد: ليسبي به القلوب اگر اس میں اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اللہ کی راہ میں اخلاص کے ساتھ اپنی گفتگو اور اپنے وعظ کو با اثر بنائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ 2 قوله: هلك المتنطعون (حلق میں سے آواز نکال کر (مبالغہ سے) بات کرنے والے ہلاک ہو گئے) یعنی فصاحت میں تکلف کرنے والے یا اپنے حلق کے بالکل اندر سے آواز نکالنے والے اور رعونت و تکبر کے طور پر اپنے منہ میں کلام کو رول کر بولنے والے۔ (مرقات)۔ 3 قوله: الثرثارون (زیادہ بولنے والے) وہ لوگ ہیں جو تکلف کرتے ہوئے اور دائرۂ حق سے نکل کر کثرت سے گفتگو کرتے ہیں۔ (مرقات) 4 قوله: المتشدقون (بے احتیاطی سے بولنے والے) یعنی بغیر احتیاط کے ہر قسم کی گفتگو کرنے والے۔ (مرقات)۔ 5 قوله: المتكبرون (تکبر کرنے والے) یعنی اپنے اقوال و افعال میں تکبر اور بڑائی ظاہر کرنے والے، اور قادر الکلام حضرات اپنے خطبات و مواعظ کو حسن و عمدگی سے پیش کرنا جب اس میں ریاء نہ ہو اور نامناسب الفاظ کا استعمال نہ ہو تو یہ اس مذمت میں داخل نہیں ہے، کیونکہ اس سے مقصود دلوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری پر ابھارنا ہے اور لفظ کی خوبصورتی کا اثر اس سلسلہ میں واضح و ظاہر ہے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ: يأكلون بالسنتهم الخ (جو اپنی زبانوں سے ایسا کھائینگے) یعنی وہ لوگ اپنی زبانوں کو اپنے کھانے کا ذریعہ و وسیلہ بنائینگے جس طرح گائے چارہ چرتے وقت یہ تمیز نہیں کرتی کہ وہ ہری بھری گھاس ہے یا کانٹے ہیں، شیریں ہے یا تلخ ہے بلکہ وہ اپنی زبان سے سب کو چٹ کر جاتی ہے، اسی طرح یہ لوگ اپنی زبانوں کو اپنی خوردونوش کا ذریعہ بنائینگے، وہ حق و باطل اور حلال و حرام کے درمیان فرق نہیں کریں گے، پسندیدہ کلام وہ ہے جو بقدر ضرورت ہو اور شریعت کے مطابق اس کا ظاہراس کے باطن سے ہم آہنگ ہو۔ (ماخوذ از مرقات) 2 قولہ: فاكثر القول (اور بہت بیان کیا) یعنی فصاحت و بلاغت آرائی کرتے ہوئے کلام کو طول کیا یہاں تک کہ سننے والوں کو اکتاہٹ محسوس ہوئی۔ (مرقات)۔ 3 قولہ: العى الخ (کم بولنا) جی سے مراد کم بولنا ہے جو کلام میں غیر و تال کے سبب اور وبال سے بچنے کے خاطر ہوتا ہے اور یہ زبان میں کسی خلل کی وجہ سے نہیں ہوتا، اور بہت بولنے سے مراد وہ ہے جس کا سبب بے جا جسارت اور ظلم و تعدی ہے اور جھوٹ و تہمت سے اجتناب کرنے کے سلسلے میں لاپرواہی برتنا ہے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ: ان من البيان لسحرا (بعض بیان جادو ہوتا ہے) مذکورہ حدیث شریف کے مفہوم میں علماء کا اختلاف ہے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے اصحاب میں سے چند لوگوں نے کہا کہ یہ حدیث بیان کی مذمت کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہے اسی لئے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اسکو ”باب مایکرہ من الکلام“ میں شامل کیا ہے اور انہوں نے کہا: حضور اکرم ﷺ نے بیان کو سحر سے تشبیہ دی ہے اور سحر ایک مذموم فعل ہے۔ جو حرام ہے خواہ تھوڑا ہو یا بہت اس لئے کہ اس میں کبر ہے اور باطل کو حق کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے اور حضور اکرم ﷺ فرما چکے ہیں میرے پاس تم میں سب سے زیادہ ناپسند بکواس کرنے والے اور متکبرین ہیں اور کہا جاتا ہے آدمی حق کے خلاف رہتا ہے اور اپنے زور بیان کے ذریعہ لوگوں پر سحر کی طرح اثر کر جاتا ہے اور حق کو دور کر دیتا ہے اور دوسرے اہل علم نے کہا: یہ حدیث بیان کی مدح و ستائش میں وارد ہے اور انہوں نے حدیث کے جملہ ”فعجب الناس لبيانهما“ سے اس پر استدلال کیا ہے لوگ ان دونوں کے بیان پر تعجب کئے اور کہا کہ تعجب نہیں ہوتا مگر ایسی چیز پر جو اچھی ہوتی ہے اور اس کا پسندیدہ ہوتا ہے یہ اور کہا کہ حضور ﷺ کا اسکو سحر سے تشبیہ دینا مدح و ستائش کرنا ہے اس لئے کہ سحر کے معنی مائل کر لینے کے ہے اور ہر وہ شخص جو تم کو مائل کر لے تو اس نے تم پر جادو کر دیا اور حضور اکرم ﷺ اپنی بلاغت کی وجہ سے بلاغت کے فضل و کمال میں لوگوں کے امام ہیں تو آپ کو وہ قول پسند آیا اور آپ نے اسے دادِ تحسین سے نوازا تو اسی لئے آپ ﷺ نے اسکو سحر سے تشبیہ دی اور کہا جاتا ہے اس حدیث شریف کی توجیہ میں سب سے عمدہ اور بہتر بات جو کہنے کی ہے وہ یہ ہے کہ یہ حدیث شریف میں نہ تو بیان کی مکمل مذمت ہے اور نہ اسکی مکمل ستائش ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس میں کلمہ ”من“، تبعیض کیلئے ہے حدیث کو حضور ﷺ کے ارشاد: ان من البيان کے مفہوم میں شک ہو گیا کہ اس سے کل بیان مراد ہے یا بعض بیان مراد ہے اور بیان کی مکمل طور پر مذمت کیسے کی جا سکتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے بیان کو اپنے بندوں پر بطور نعمت کے بیان فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا: خلق الانسان وعلمه البيان۔ اس نے انسان کو پیدا کیا اور اسکو بیان سکھلایا (الرحمن-۲)۔ (عمدۃ القاری)۔ 2 قولہ: وان من العلم جهلا (بعض علم جہالت ہے) کیونکہ یہ مذموم علم سے ہے اس کو نہ جاننا ہی بہتر ہے۔ یا اسلئے کہ یہ لا یعنی اور بے فائدہ علم ہے جس میں مشغولیت کے باعث علوم مفیدہ سے ناواقفیت رہے گی۔ نہایہ میں ہے کہا گیا کہ اپنے دین کے لئے جن علوم کی اسکو ضرورت پڑتی ہے جیسے قرآن و حدیث کا علم اس کو چھوڑ کر وہ علم سیکھنا جسکی حاجت نہیں رہتی جیسے علم نجوم اور احوال گزشتہ کا علم، جس میں مشغولیت اسکو اس علم سے روکتی ہے جس کا وہ محتاج رہتا ہے تو یہ علم اس کیلئے جہالت قرار پائے گا ازہری نے کہا: اس کا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ علم والے کا اپنے علم کے مطابق عمل نہ کرنا ہے چنانچہ علم کے مطابق نہ کرنا جہالت ہے۔ (مرقات)۔ 3 قولہ: وان من القول عيالا (اور بعض باتیں وبال ہیں) یعنی مجھ پر بوجھ اور وبال ہیں یا مجھ سے جو لوگ سنتے ہیں ان پر گراں گزرتی ہیں۔ (مرقات)۔ 1 قولہ: ان من الشعر حكمة (بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں) اس میں من تبعیضیہ ہے ابن بطال نے کہا: شعر اور رجز جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کی تعظیم اس کی وحدانیت اس کی اطاعت فرمانبرداری اور اس کے حضور سر تسلیم خم کرنے پر ترغیب ہو تو وہ عمدہ، بہتر اور پسندیدہ ہے اور حدیث شریف میں جو اس کو حکمت کہا گیا ہے اس سے مراد یہی ہے اور جو شعر جھوٹ اور فحش باتوں پر مشتمل ہے وہ مذموم ہے اور درجہ ذیل حدیث شریف میں جو فرمایا گیا ہے اس سے یہی مذموم شعر مراد ہے بان يمتلئ جوف رجل قيحا خير له من ان يمتلئ شعرا کہ کسی آدمی کا پیٹ شعر سے بھرنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ اس کا (پیٹ) پیپ سے بھر جائے۔ (عمدۃ القاری)۔ 2 قولہ: اهجوا قريشا (تم قریش کی ہجو کرو) امام نووی نے کہا: اس میں کفار کی ہجو اور ایذا رسانی کا جواز ہے جب تک کہ ان کیلئے امان نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے جہاد کرنے اور ان پر سختی کرنے کا حکم فرمایا اس لئے کہ انہوں نے مسلمانوں کی ہجو کی ہے اس کی وجہ سے ان کی مذمت کرنے اور ان سے انتقام لینے کا حکم ہے البتہ اپنی طرف سے ایسی ہجو کی ابتداء کرنا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی روشنی میں جائز نہیں: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ۔ (الانعام،108) ⟦?⟧ جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں تم ان کو برا بھلا نہ کہو کہ یہ لوگ بھی حد سے تجاوز ہو کر بے سمجھے بوجھے اللہ کو برا بھلا کہنے لگیں۔ (مرقات)۔ 1 قولہ: يضع لحسان منبرا في المسجد (حضرت حسان کیلئے مسجد میں منبر رکھتے تھے) صاحب ردالمحتار نے وتر اور نوافل کے بیان سے کچھ پہلے لکھا ہے، امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح مجمع الآثار میں تخریج کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اشعار کہنے اور اس میں سامان بیچنے اور نماز سے پہلے حلقہ بنانے سے منع فرمایا پھر (امام طحاوی) نے حدیث مذکورہ کے درمیان اور اس حدیث کے درمیان جس میں وارد ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت حسان کیلئے منبر رکھا اس پر آپ اشعار پڑھتے تھے اس طرح تطبیق دی ہے کہ پہلی حدیث کو ان اشعار کے پڑھنے پر محمول کیا جائے جو قریش کی ہجو میں پڑھا کرتے تھے یا اس قسم کے اشعار جس میں ضرر ہو یا دوسری صورت یہ ہے کہ ممانعت والی حدیث کو اس صورت پر محمول کیا جائے کہ مسجد میں اس شاعری کا اس درجہ غلبہ ہو جائے اس میں موجود اکثر اشخاص اسی میں مصروف ہو جائیں اسی طرح مسجد میں بیع کی ممانعت اس صورت حال پر محمول ہے جب اس میں وہ عام ہو جائے یہاں تک وہ مسجد بازار کی طرح ہو جائے اس لئے حضور ﷺ نے حضرت علی کو اس میں ⟦?⟧ سے منع نہیں فرمایا باوجود یہ کہ اگر لوگ اس میں جتنا سونے کیلئے جمع ہو جائیں تو وہ مکروہ قرار دیا جائے گا تو اسی طرح بیع و شراء کرنا شعر کہنا اور نماز سے پہلے حلقہ بنانا اگر ان کا اس میں غلبہ ہو جائے تو مکروہ ہوگا ورنہ نہیں۔ 1 قولہ: لان يمتلئ جوف رجل قيحا خير له من ان يمتلئ شعرا (کسی آدمی کا پیٹ شعر سے بھر جانے سے اس کے لئے پیپ سے بھر جانا بہتر ہے) صاحب ردالمحتار نے کتاب کے شروع میں رسم المفتی کے بیان سے پہلے لکھا ہے جان لو کہ جو شعر مکروہ ہے وہ شعر ہے جس میں ⟦?⟧ مداومت کرے اور اس کو وہ اپنا پیشہ بنا لے یہاں تک کہ وہ اس پر اس کا غلبہ ہو جائے اور اس کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور شرعی علوم سے بے رغبت کر دے اور یہ جو متفق علیہ حدیث ہے اس کی یہی تشریح کی گئی: لأن يمتلئ جوف احدكم قيحا خير له من ان يمتلئ شعرا تم میں سے کسی کا پیٹ شعر سے بھر جانے سے اس کا پیپ سے بھر جانا بہتر ہے۔ مختصر طور پر اس سے مشغولیت رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے جب کہ اس سے مقصود دقیق و لطیف نکات آفرینی، اعلی درجے کی تشبیہات اور عمدہ و دلکش معانی کا اظہار ہو اگر چہ وہ اشعار رخسار اور قد و قامت کے بیان میں ہوں کیونکہ اس کیلئے علماء بلاغت نے اس سے مولدین اور دیگر شعراء کے اشعار سے استشہاد کیا ہے محقق علامہ ابن ہمام نے فتح القدیر کے کتاب الشہادات میں ذکر کیا ہے کہ اس میں سے وہ اشعار حرام ہیں جن میں ایسی چیزیں بیان کی گئی ہوں جو جائز نہیں ہیں خاص لوگوں کی صفات اور کسی زندہ معین عورت کے اوصاف بیان کرنا اور شراب کا اور شراب خانوں کا ذکر اس طور پر کرنا جو اس پر ابھارتا ہو۔ یا کسی مسلم یا ذمی کی ہجو کرنا۔ جب کہ متکلم کا مقصود اس کی ہجو کرنا ہی ہو اور اگر شعر گوئی سے مقصود اس سے استشہاد کرنا ہو یا اس کی فصاحت و بلاغت معلوم کرنا ہو تو ممنوع نہیں ہے۔ البتہ زہیر شاعر کے وہ اشعار جو اس طرح کے مضامین سے خالی ہیں اور جنگل اور بیابان اور پہاڑوں کے بیان پر مشتمل ہیں تو اس کے ممنوع ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے ہاں اگر اس کو لہو و لعب کے مقامات پر کہا جائے تو ممنوع ہے اگر چہ وہ فصیحین اور محسنین ہوں۔ اھ۔ ذخیرہ میں نوازل سے منقول ہے ادبی اشعار کا پڑھنا جب کہ آئین فسق و فجور شراب اور بے ریش لڑکے کا ذکر ہو تو مکروہ ہے اور بے ریش لڑکے کے سلسلے میں بنیادی بات وہی ہے جو ہم نے عورت کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ اگر وہ زندہ اور معین عورت ہے تو مکروہ ہے اگر وہ وفات شدہ ہے تو مکروہ نہیں۔ 1 قولہ: هو كلام فحسنه حسن وقبيحه قبيح (وہ ایک کلام ہے، جس کا اچھا اچھا ہے اور برا برا ہے) صاحب درمختار نے وتر اور نوافل کے بیان سے کچھ پہلے لکھا کہ صاحب ⟦?⟧ نے کہا ہے: بیسویں یعنی زبان کی آفتوں میں سے ایک بیسویں آفت شعر ہے، حضور اکرم ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا گیا تو ارشاد فرمایا وہ ایسا کلام ہے جس کا اچھا اچھا ہے اور برا برا ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ شعر نثر کی طرح ہے اس کی تعریف کی جائے گی جب وہ تعریف کے قابل ہو اور اس کی مذمت کی جائے گی اگر وہ مذمت کے قابل ہو اور بدویوں کی نظمیں اور ترانے سننے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور یہ بغیر ⟦?⟧ کے شعر پڑھنا ہے اور کسی بھی مسلم کی ہجو حرام ہے اگرچہ وہ برائی اس میں موجود ہو، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ضرور تم میں سے کسی آدمی کے پیٹ کا پیپ سے بھر جانا اس کے شعر سے بھر جانے سے بہتر ہے، اور اس میں سے وہ اشعار جو وعظ و نصیحت حکمت و موعظت اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ذکر اور متقین کی صفت پر مشتمل ہوں تو وہ ٹھیک ہے اور جس میں ٹیلوں، نالوں اور تودوں کا تذکرہ ہو وہ جائز ہے اور جو جو بد اخلاقی پر مشتمل ہو وہ حرام ہے، اور جو شراب و قد و قامت اور گیسو کے وصف سے متعلق ہو وہ مکروہ ہے، اسی طرح امام ابو اللیث سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ نے تفصیل بیان کی ہے اور جو شخص اہم امور نازل ہونے کے زمانے میں بکثرت اشعار کہے اور پڑھے اور اس کو اپنے لئے کسب کا ذریعہ بنا لے تو اس کی مروت میں نقص آ جائے گا اور اس کی گواہی رد کر دی جائے گی۔ 2 قولہ: فانشدته بيتا الخ (تو میں نے حضور ﷺ کو ایک شعر سنایا) اس سے حکمت پر مشتمل قابل تعریف اشعار پڑھنے کا پسندیدہ ہونا ثابت ہے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ: هل انت الا اصبع دميت (نہیں ہے تو مگر ایک انگلی جو خون آلود ہو گئی ہے) یعنی نبی اکرم ﷺ نے پاک صاف سلیقہ مند طبیعت کے اقتضاء کی بناء اتفاقی طور پر اسکے وزن کا قصد، وارادہ کئے بغیر فرمایا ہے جیسا کہ اکثر حضرات سے ہوتا ہے، اور شعر ایسے قافیہ دار اور ہم وزن کلام کو کہتے ہیں جو قصد، وارادہ کے تحت جاری ہوتا ہے تا کہ قرآن کریم اور کلام نبوت میں جو موزوں کلمات وارد ہیں وہ اس تعریف میں نہ آ سکیں۔ (ماخوذ از مرقات)۔ 2 قولہ: والله لو لا الله ما اهتدينا (اللہ کی قسم اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے) کرمانی نے کہا: کہ یہ حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے رجز والے اشعار میں سے تھے جن کو حضور اکرم ﷺ خندق کھودنے کے وقت پڑھ رہے تھے۔ (عمدۃ القاری)۔ 1 قوله: لا تكسر القوارير (شیشوں کو مت توڑو) قواریر شیشہ کو کہتے ہیں اس کے ذریعہ آپ نے عورتوں سے کنایہ کیا ہے کیونکہ ان میں ملاحت و لطافت ہوتی ہے اور نازک ساخت ہوتی ہیں، حضور ﷺ نے انکو اپنی خوش الحان آواز پست رکھنے کا حکم فرمایا اس اندیشہ کی وجہ سے کہ انکے عزائم کی کمزوری اور جلد اثر قبول کرلینے کی بناء پر شیشہ کے چکناچور ہوجانے کی طرح کہیں یہ اچھی آواز ان کے دلوں میں گھر نہ کرجائے۔ 2 قوله: الغناء ينبت النفاق فى القلب الخ (گانا بجانا دل میں نفاق اگاتا ہے) درمختار کے کتاب الحظر والا باحته میں اور سراج میں ہے کہ تمام اقسام کے لہو ولعب حرام ہیں اور اس منکر کو روکنے اور بدلے کیلئے آئی اجازت کے بغیر ان کے پاس جا سکتے ہیں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا لہو ولعب اور گانے کی آواز دل میں نفاق کو اگاتی ہے جیسے پانی پودے کو اگاتا ہے میں کہتا ہوں بزاز یہ میں ہے طو لب کی آواز سننا جیسے بانس کی لکڑیاں وغیرہ بجانا حضور علیہ الصلوة والسلام کے اس قول کی وجہ سے حرام ہے۔ لہو ولعب کو سننا گناہ ہے اور اس کے پاس بیٹھنا فسق ہے اور اس سے لطف اندوز ہونا کفر کرنا ہے۔ یعنی نعمت کی ناشکری و ناقدری کرنا ہے اعضاء و جوارح کو جس مقصد کیلئے پیدا کیا گیا ہے اس کے علاوہ میں ان کو استعمال کرنا نعمت کی ناقدری ہے یہ شکر گزاری نہیں ہے اور مکمل طور پر واجب ہے کہ اس سے اجتناب کیا جائے تا کہ وہ آواز سنائی نہ دے کیونکہ مروی ہے کہ جس وقت ایسی آواز سنائی دے رہی تھی حضور علیہ الصلوة والسلام نے اپنی انگشت مبارک کو اپنے کان میں داخل فرمایا اور عرب کے اشعار اگر اس میں فسق و فجور کا ذکر ہے تو اس کو سننا مکروہ ہے انتهى۔ یا آپ ﷺ کا اس کو کفر قرار دینا اس گناہ کو بڑا بتلانے کیلئے ہے جیسا کہ کتاب (اختیار) میں ہے، یا اس کو جائز سمجھنے کی بناء پر کفر قرار دیا ہو جیسا کہ منہاج میں ہے۔ اہ، صاحب ردالمحتار نے کہا ہے او تغليظ الذنب بالنعمة یا اس گناہ کی شدت کو بتانے کے لئے فرمایا ہو اور اس کا عطف ای بالنعمة یعنی نعمت کی ناشکری پر ہے یعنی اس پر جو کفر کا اطلاق کیا گیا ہے وہ اس میں گناہ کے سخت اور بڑا بتلانے کے لئے ہے۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ اور حضور علیہ السلام سے جو منقول ہے کہ آپ نے شعر سماعت فرمایا تو یہ گانے کے جواز پر دلالت نہیں کرتا اور اسکو حکمت و موعظت والے اشعار پر محمول کیا جا سکتا ہے اور حضور علیہ السلام کے وجد میں آنے سے متعلق جو حدیث شریف ہے وہ غیر صحیح ہے جس پر تفصیلی بحث تقریرات احمدیہ کے حوالہ سے گانے کی بحث کے شروع میں گزر چکی اسکا مطالعہ کر لیں کیونکہ وہ اپنے مضمون میں ایک عمدہ اور فیصل بحث ہے۔