العربية
Typed, pending editorial approval
٥٠٤٩ - عَنْ عَبْدِ اللهِ(رضي الله عنه) قَالَ: خَطَّ 1 النَّبِيُّ ﷺ خَطَّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطَّا فِي الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْهُ، وَخَطَّ خُطَطًا صِغَارًا إِلَى هَذَا الَّذِي فِي الْوَسَطِ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي فِي الْوَسَطِ، فَقَالَ: هَذَا الْإِنْسَانُ، وَهَذَا أَجَلُهُ مُحِيطٌ بِهِ، وَهَذَا 2 الَّذِي هُوَ خَارِجٌ أَمَلُهُ، وَهَذِهِ الْخُطَطُ الصِّغَارُ الْأَعْرَاضُ، فَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَشَهُ هَذَا، وَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَسَهُ هَذَا». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6417 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Unnumbered commentary
Term These are afflictions <-- <-- <-- This is his hope extending from the term These are afflictions This is his term surrounding him
His statement: "This is the human" is the subject and predicate, meaning this line that is in the middle is the human. And this is by way of representation. And this is his term, meaning the square line surrounding the middle line is his term, and the small lines are his afflictions and incidents and causes of his term and death in alternation, and the line that exits from the walls is his hope. Gathered from commentaries on Bukhari. Al-Kirmani said: If you say: The lines are three; because the small ones are all in one ruling, and the pointed to are four. I say: The inner one has two considerations; as half of it is inside and half outside for example, so the inner amount from it, and it is the human assumed, and the outer is his hope and the afflictions, meaning the incidents happening to him. His statement: "If this one misses him," meaning if this affliction passes by him, the other affliction bites him, and if this one passes by him, meaning all the afflictions from destructive diseases and the like, bites him, meaning bites him "this one," meaning the term, meaning if he does not die by this death, he must die by natural death. The summary: that the son of Adam pursues hope, and the term intercepts him before the hope. (2) His statement: This one that is extending is his hope: And the intent by hope here is long aspiration in worldly matters, heedless of preparing for death, and provision for the Hereafter, but long aspiration in acquiring knowledge and deeds is praised by consensus. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
This footnote could not be resolved in the source.
Note 2
This footnote could not be resolved in the source.
Note 1
(۱) قوله : خط النبي أمل هذه أعراض إلخ : صورة الخط هذه هذا أمله خارج من الأجل هذه أعراض هذا أجله محيط به وقوله: هذا الإنسان مبتدأ وخبر، أي هذا الخط الذي في الوسط هو الإنسان. وهذا هو على سبيل التمثيل. وهذا أجله أي الخط المربع المحيط بالخط الوسط أجله، والخطوط الصغار أعراضه وحوادثه وأسباب أجله وموته على التناوب، والخط الذي خرج من الجدران هو أمله، ملتقط من شروح البخاري». وقال الكرماني: فإن قلت: الخطوط ثلاثة؛ لأن الصغار كلها في حكم واحد، والمشار إليه أربعة. قلت: الداخل له اعتباران؛ إذ نصفه داخل ونصفه مثلا خارج، فالمقدار الداخل منه، وهو الإنسان فرضا، والخارج أمله والأعراض أي الآفات العارضة له، قوله: «فإن أخطأه هذا أي إن تجاوز عنه هذا العرض لدغه العرض الآخر، وإن تجاوز عنه هذه أي الآفات جميعا من الأمراض المهلكة ونحوها نهشه أي لدغه «هذا» أي الأجل، يعني إن لم يمت بالموت الآخر لا بد أن يموت بالموت الطبيعي وحاصله : أن ابن آدم يتعاطى الأمل ويختلجه الأجل دون الأمل، انتهى.
Note 2
(۲) قوله: هذا الذي هو خارج أمله والمراد بالأمل هنا طول الأمل في أمر الدنيا غافلا عن الاستعداد للموت، وزاد العقبي، وأما طول الأمل في تحصيل العلم والعمل فمحمود بالإجماع. كذا في «المرقاة».
Note 1
1 قوله: خط النبي صلى الله عليه وسلم الخ (نبی اکرم ﷺ نے ایک مربع خط کھینچا) خط کا نقشہ یہ ہے (اطراف سے چوکور لکیر موت ہے اور اس کے اندر کی سیدھی لکیر انسان ہے اور چوکور کے باہر انسان کی لکیر سے گئی ہوئی اور انسان کو لگی لکیریں آفتیں اور حوادث ہیں باہر کی لکیر اس کی امیدیں ہیں) موت ⟦?⟧ امیدیں موت موت یہ اس کی امید ہے جو موت سے یہ انسان ہے مصیبتیں ہیں آگے تک بڑھتی ہوئی ہے یہ اس کی موت ہے جو اس کو گھیری ہوئی ہے اور یہ ترکیب میں ”هذا الانسان“ مبتدا خبر ہے، یعنی جو درمیان میں ہے انسان ہے، یہ بطور مثال ہے اور یہ اس کی موت ہے یعنی مربع لکیر درمیانی لکیر کو گھیری ہوئی اس کی موت ہے اور چھوٹی لکیریں بار بار کی آنے والی انسان کی بیماریاں، پریشانیاں اور اس کی موت کے اسباب ہیں اور جو لکیر چودیواری سے نکلی ہے وہ اس کی امید ہے۔ (ماخوذ از شروح بخاری)۔ علامہ کرمانی نے کہا: اگر تم کہو لکیریں تین ہیں کیونکہ تمام چھوٹی لکیریں ایک کے حکم میں ہیں اور اشارہ کی ہوئی لکیریں چار ہیں، تو میں کہتا ہوں: درونی لکیر کے دو اعتبار ہیں، کیونکہ آدمی لکیر اندر ہے اور آدمی لکیر مثلاً باہر ہے، تو لکیر کی اندرونی مقدار بطور فرض انسان ہے اور بیرونی لکیر اس کی امید ہے اور اعراض یعنی انسان کو پیش آنے والی مصیبتیں ہیں اور آپ کا یہ ارشاد کہ اگر یہ چوک جائے یعنی اگر یہ مصیبت سے ٹل جائے تو دوسری مصیبت اس کو ڈس لیتی ہے اور اگر یہ اس سے ٹل جائیں یعنی یہ ہلاکت خیز بیماریاں تمام آفتیں اس سے گزر جائیں تو موت اس کو ڈس لیتی ہے یعنی اگر وہ اس دوسری طرح کی موت سے نہ مرے تو فطری موت سے ضرور مرے گا، حاصل یہ ہے کہ انسان امید میں منہمک رہتا ہے اور موت اس کو امید سے پہلے پکڑ لیتی ہے۔ (انتهى)۔ 1 قولہ: هذا الذي هو خارج امله (یہ جو نکلی ہوئی لکیر ہے اس کی امید ہے) یہاں امید سے مراد موت کی تیاری اور آخرت کے توشہ سے غافل رہ کر دنیا کے معاملہ میں لمبی آرزوئیں کرنا ہے، اب علم حاصل کرنے اور عمل کرنے میں لمبی امید کرنا تو وہ بالاتفاق قابل تعریف اور پسندیدہ ہے۔ (مرقات)۔ 2 قولہ: خطوطا (چند خطوط) علامہ کرمانی نے کہا: اگر تم کہو اجمال میں انہوں نے خطوط (جمع کا صیغہ) چند لکیریں کہا اور اس کے بعد تفصیل میں دو لکیروں کو ذکر کیا تو میں کہوں گا اس میں طویل بات کا اختصار ہے دوسری لکیر انسان ہے اور (چھوٹی) لکیریں آفتیں ہیں اور قریب ترین لکیر سے مراد موت ہے کیونکہ اس میں شک نہیں کہ گھری ہوئی لکیر بیرونی لکیر (امید کی لکیر) سے قریب ہے۔ یہ ہے، شارحین حدیث کہتے ہیں: لمبی امید تمام لوگوں کے لئے مذموم ہے سوائے علماء کے اس لئے کہ ان کی امیدیں اور اُن کی درازی نہ ہوتی تو وہ تصنیف و تالیف نہ کرتے۔ 3 قولہ: هذا ابن ادم (یہ انسان ہے) ظاہر ہے کہ یہ معنوی صورت کی طرف حسّی اشارہ ہے اسی طرح آپ کا ارشاد ”هذا اجله“ بھی ہے اور اس کی تشریح یہ ہے کہ حضور پاک ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اپنے سامنے سطح زمین پر یا فضاء میں لمبائی یا چوڑائی میں اشارہ فرمایا اور فرمایا: یہ انسان ہے پھر آپ نے دست مبارک کو پیچھے کیا اور قریب میں رکھ دیا اور فرمایا یہ اس کی موت ہے اور اپنے دست مبارک کو رکھ دیا، یہ فرماتے وقت کہ یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے اور اپنی فردی کے پاس سے مراد اس جگہ کے پیچھے رکھا جہاں آپ نے موت کی طرف اشارہ فرمایا، پھر آپ نے دست مبارک کو پھیلا لیا اس سے مراد اپنی ہتھیلی اور انگلیوں کو کھلا رکھ کر اشارہ کرتے ہوئے اپنے دست مبارک کو پھیلا لیا، یا پھیلانے سے مراد یہ ہے کہ ”آپ نے اس کی جگہ جس جگہ سے آپ نے موت کی طرف اشارہ کیا، وہاں سے آگے تک پھیلا لیا پھر فرمایا: وثم “ثمّ” کے زبر اور میم کی تشدید سے یعنی ”وہاں“ اور آپ نے اس کی دوری کی طرف اشارہ فرمایا، املہ (اس کی امید) مراد امید کی چیزیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ (یہ ارشاد) دراصل سخت غفلت کی نیند سے متنبہ کرنے والا معنوی اشارہ کہ آدمی کی موت اس کی امیدوں سے زیادہ اُس کے قریب ہے اور اُس کی امیدیں اس کی موت سے زیادہ لمبی ہے۔ (مرقات)۔ صاحب کوکب دری نے کہا: ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد موت کی ہاتھ سے مثال دی گئی ہے، جو ہاتھ گھڑی پر رکھا ہوا ہے تو گویا موت آدمی کو ایسا پکڑتی ہے جیسا ہاتھ گردن کو پکڑتا ہے، اور انسان کی طرف اشارہ اور وضاحت کی ضرورت نہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضور پاک ﷺ کا گردن کو پکڑنا اشارہ مرکب ہے تو گویا گردن انسان ہے اور اس کو پکڑنے والا ہاتھ اس کی موت ہے تو اس توجیہ کے اعتبار سے انسان کے تمام جسم کے بجائے صرف گردن کو پکڑنے سے خاص کیوں کیا یا وجود یہ کہ انسان کے اجزاء میں انسانیت کسی ایک جز سے خاص نہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ گردن کو تمام اعضاء کے مقابل زیاد خصوصیت حاصل ہے کیونکہ کسی شخص (کی گردن) کو پکڑا جائے تو وہ پکڑنے والے سے چھوٹ نہیں سکتا برخلاف دوسرے اعضاء کو پکڑنے والے کے (وہ چھوٹ جا سکتا ہے) اور اس وجہ سے بھی کہ گردن سے تمام (جسم) تعبیر کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ اور توجیہات بھی ہیں۔ 1 قولہ: هذا الانسان (یہ انسان ہے) پہلی لکڑی انسان کی مثال ہے اور هذا الاجل (یہ موت ہے) یعنی اس کے بازو سے متصل یہ دوسری لکڑی اس کی موت ہے یعنی اس کی عمر کی انتہاء اور اس کے عمل کا اختتام ہے اور هذا الامل (یہ امید ہے) یعنی یہ دور، والی لکڑی اس کی دراز امید ہے۔ (مرقات)۔ 2 قولہ: طيب الكسب وقصر الامل (پاکیزہ کمائی اور مختصر امید) اگر تم کہو: زہد میں اچھی کمائی کا کیا دخل ہے؟ تو میں کہتا ہوں، یہ ان لوگوں کا جواب ہے جنہوں نے گمان کیا کہ زہد صرف دنیا کو چھوڑنے کھردرا لباس پہننے اور بے مزہ موٹی غذا کھانے میں ہے۔ یعنی زہد کی حقیقت وہ نہیں جو تمہارا زعم ہے بلکہ حقیقت زہد یہ ہے کہ تم حلال کھاؤ، حلال پہنو، بقدر ضرورت قناعت کرو اور امیدوں کو کم کرو اور اسی معنی میں حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے، زہد سے مراد حلال کو حرام کرنا نہیں ہے اور نہ مال کو ضائع کرنا ہے لیکن زہد اور دنیا سے بے رغبتی یہ ہے کہ تو اپنی ملکیت سے زیادہ لوگوں کی ملکیت پر بھروسہ نہ کرے، اس کی مثال یہ ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد امام محمد سے کہا گیا آپ نے تصوف میں تصنیف کیوں نہیں کی، تو امام محمد نے کہا: میں نے اس کی تصنیف کی ہے تو کہا گیا کونسی کتاب ہے؟ تو آپ نے کہا ”کتاب البیع“ یعنی خرید و فروخت کے احکام کیونکہ جو شخص خرید و فروخت کے صحت و فساد کو نہیں جانتا وہ حرام کھائے گا اور جو حرام کھائے گا اس کا حال کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ (مرقات)۔ 1 قولہ: اليقين (یقین) اس سے مراد آخرت کے معاملہ کا یقین ہے اور زہد سے مراد دنیا کے معاملہ میں بے رغبتی ہے۔ (مرقات)۔ 2 قولہ: فی حب الدنيا (دنیا کی محبت میں) اس سے موت کو ناپسند کرنا لازم آتا ہے ”وطول الامل“ (لمبی امید) یہ عمل میں تاخیر کا سبب بنتی ہے۔ (مرقات)۔ 3 قولہ: ويتوب الله على من تاب (اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتا ہے) علامہ طیبی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس کے معنی کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ تمام انسان مال سے محبت کرنے، اور اس کی طلب میں کوشش کرنے کی فطرت پر پیدا کئے گئے ہیں اور وہ اس سے سیر نہیں ہوتے، سوائے اُن کے جن کو اللہ تعالیٰ نے بچایا اور جن کو اپنے فضل سے اس خصلت کو دور کرنے کی توفیق دی، اور وہ بہت کم لوگ ہیں اور حضور پاک ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی عصمت و توفیق کی جگہ توبہ کو رکھا یہ بتانے کے لئے کہ انسان میں موجود یہ خصلت ناپسندیدہ ہے اور گناہ کے درجہ میں ہے اور اس کو دور کرنا ممکن ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی توفیق اور ہدایت سے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ : الامر اسرع من ذلك (اللہ کا حکم یعنی موت اس سے بھی جلدی آسکتی ہے) ظاہر ہے کہ اس کی مرمت ضروری نہیں تھی بلکہ اس کو مضبوط کرنے کی امید سے یا اس کو مزین کرنے کی خواہش سے کیا گیا تھا۔ (مرقات)۔ 2 قولہ: كان يهريق الماء یعنی پانی بہاتے تھے، یہ قضاء حاجت سے کنایہ ہے تو اس کے معنی یہ ہے کہ کبھی آپ حاجت سے فارغ ہوتے۔ (مرقات)۔ 3 قولہ: من ستين سنة الى سبعين (ساٹھ سے ستر سال تک ہے) یہ اکثریت پر محمول ہے۔ (مرقات)۔ 4 قولہ : واقلهم من يجوز ذلك (اور ان میں کم لوگ ہیں جو اس سے آگے بڑھیں گے) یعنی ستر سے تجاوز کریں گے اور سو، اور اس کے اوپر تک پہنچیں گے۔ (مرقات)۔ 5 قولہ : اعذر الله (اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے عذر کا موقع ختم کردیا) ہمزہ سلب ماخذ کے لئے ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے عذر کو دور کردیا ”بَلَغَ“ لام کو تشدید کے ساتھ یعنی اس کو ساٹھ سال تک پہنچایا یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے عذر پیش کرنے کا کوئی موقع نہیں رکھا کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو اتنی دراز مدت تک مہلت دیا اور وہ معرفت حاصل نہیں کیا، اپنے گناہوں سے توبہ نہیں کیا، اپنے عیوب کی اصلاح نہیں کیا، اور نیکی و شر پر تنبیہ نہیں دیا تو اب وہ ان لوگوں میں ہوجائے گا جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اطاعت و فرمانبرداری کو چھوڑنے اور ضائع کرنے کا کوئی عذر باقی نہیں رکھا کیونکہ وہ جوان کہتا ہے، جب بوڑھا ہوجاؤں گا تو توبہ کرلوں گا اور بوڑھا کیا کہے گا۔ (ماخوذ از مرقات ولمعات)۔ 1 قولہ : يحب العبد التقى الغنى الخفى (اللہ تعالیٰ ایسے بندہ کو جو پرہیزگار، بے نیاز اور پوشیدہ رہنے والا ہے پسند کرتا ہے) ”استحباب للطاعة“ کے بیان میں اس حدیث شریف کو لانے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ غنی سے دولت کی تونگری یا انسان کو بے نیاز کرنے والی دوسری تمام چیزیں بھی مراد ہیں اور متن حدیث میں غناء کی نسبت سے ”حفی“ (ح بغیر نقطہ کے ساتھ) زیادہ مناسب ہے یعنی جودار اور مہربان ہو جیسا کہ ایک دوسری روایت میں ہے یعنی وہ خرچ کرنے والا ہو۔ محدثین کرام نے کہا ہے کہ صحیح روایت خفی (خ کے نقطہ کے ساتھ) ہی ہے۔ اس سے مراد ”المعتزل للعبادة“ یعنی جو عبادت کے لئے لوگوں سے دور رہنے والا اور اس لفظ کو قلب کی بے نیازی کے لئے زیادہ مناسبت ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ غنی سے شکر گزار غنی مراد ہے اور کبھی اس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ فقیر صابر سے شکر گزار تونگر افضل ہے لیکن معتمد علیہ بات اس کے برخلاف ہے (یعنی فقیر صابر افضل ہے) اس کا بیان اور اس کی دلیل گزر چکی ہے، اور لفظ خفی (نقطہ والے خ کے ساتھ) یعنی پوشیدہ رہنے والا، اس میں ان حضرات کی دلیل ہے جو اختلاط کے مقابلہ میں گوشہ نشینی کو افضل قرار دیتے ہیں اور جو حضرات اختلاط کو افضل قرار دیتے ہیں وہ اس کی تاویل میں کہتے ہیں کہ گوشہ نشینی کی افضلیت فتنہ کے وقت میں ہے میں کہتا ہوں بُرا سکو غلط لوگوں سے اختلاط میں جو اَن پر محمول کیا جائے گا۔ (ماخوذ از لمعات، مرقات)۔ 1 قولہ : باب مسئلة (مانگنے کا دروازہ) یعنی لوگوں سے مانگنا اور سوال کرنا، کسی اور حاجت و ضرورت کی وجہ سے نہیں بلکہ مالدار بننے اور مال زیادہ کرنے کے لئے ہو۔(مرقات)۔ 2 قولہ: لعملت فيه بعمل فلان (تو میں فلاں شخص کے عمل کی طرح عمل کرتا) یعنی برے لوگوں میں سے فلاں کی طرح۔(مرقات)۔ 3 قولہ: وَوِزْرُهما سواء (اور ان دونوں کا گناہ برابر ہے) علامہ ابن ملک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث اُس حدیث شریف کے خلاف نہیں ہے جس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان کے دلوں میں آنے والے وسوسے جب تک اس پر عمل نہ کیا گیا ہو معاف کر دیا اس لئے کہ جس پر گرفت ہے وہ زبان سے بولی ہوئی بات ہوتی ہے اور جس کو معاف کر دیا گیا ہے وہ نفس میں آنے والی بات ہے، انتہی۔۔۔بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ اور اس میں اعتقاد کی بات وہ ہے جس کو علماء محققین نے کہا ہے کہ یہ اس وقت ہے جب کہ یہ شخص اس کو اپنے نفس میں جاگزیں نہیں کیا اور اس کا دل اس کام کو کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہوا اور اگر وہ پختہ ارادہ کر لیا اور فیصلہ کر لیا تو ایک گناہ لکھ دیا جائے گا اگرچہ کہ اس پر عمل نہ کرے اور اس کی بات بھی نہ کیا ہو۔ اور اس کی بحث گزر چکی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (مرقات)۔ 1 قولہ : لما بينهما (کیونکہ ان دونوں کے درمیان) ان دونوں کے درمیان جو فرق ہے وہ زمین و آسمان کے درمیان دوری سے بھی زیادہ اور بڑا ہے، اس میں یہ اشکال ہے کہ ایک ہفتہ میں بغیر شہادت کے ان کا عمل اپنے ساتھی کی شہادت کے ساتھ کے عمل سے فضیلت والا کیسا ہوگا؟ کیونکہ ثواب کے اعتبار سے کوئی عمل اس شہادت سے زیادہ نہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے اور اس کے دین کو غلبہ دینے کے لئے ہو خصوصاً ابتدائے اسلام اور مددگاروں کی کمی کے وقت اس کا جواب دیا گیا کہ یہ صاحب بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے تو ان کو ان کی نیت کا بدلہ دیا گیا، اور یہ ایک احتمال کی بات ہے اور حدیث شریف میں ذکر نہیں کی گئی ہے اللہ بہتر جاننے والا ہے باوجود یہ کہ حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کردہ آنے والی حدیث شریف کے ظاہری الفاظ اس کی تائید نہیں کرتے اور یہ جواب بھی ہے کہ نبی اکرم ﷺ جانتے تھے کہ ان صاحب کا عمل بغیر شہادت کے بھی ان کے اخلاص، عقل اور معرفت کے سبب ساتھی کی شہادت کے ساتھ عمل کے برابر ہے، پھر انہوں نے اس کے بعد جو زیادہ عمل کیا تو اس سے وہ بڑھ گئے، کیونکہ شہید ہونے والا ہر شخص مطلق دوسروں سے زیادہ فضیلت والا نہیں ہوتا بلکہ کبھی دوسرے ان سے زیادہ فضیلت والے ہوتے ہیں اور اس سلسلہ میں حضرت ابوبکر صدیق اور دوسرے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا حال کافی ہے۔ (لمعات)۔ 1 قولہ : ولعاجز الخ (عاجز) علامہ طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عاجز وہ شخص ہے جس پر اس کا نفس غالب آجائے اور وہ کام کرے جو اس کا نفس حکم دیتا ہے تو وہ اپنے نفس کے سامنے عاجز ہوگیا اور اپنے نفس کو اس کی خواہشات کے پیچھے کردیا اور نفس کو خود وہ چاہا دے دیا، یہاں ”عاجز“، کیّس کا مقابل لایا گیا ہے، اور کیّس (عقلمند) کا حقیقی مقابل سفیہ الرای بیوقوف ہے اور عاجز کا حقیقی مقابل قادر (قدرت والا) ہے، اس میں یعنی کیّس کا مقابل عاجز میں اس بات کا اعلان ہے کیّس عقل مند ہی قدرت والا ہے اور جو عاجز ہے اور وہی بیوقوف ہے۔ اور اللہ پر آرزوئیں رکھے یعنی گناہ کرے، اور توبہ و استغفار کے بغیر جنت کی تمنا رکھے۔ (مرقات)۔ 1 قوله : و كيف يستعمله يا رسول الله (یا رسول اللہ! وہ کیسے کام لیتا ہے) یعنی جب کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہی اس سے کام لیتا ہے۔ (مرقات)۔ 1﴿قولہ : يدخل الجنة من امتى سبعون الفا بغير حساب (میری امت کے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے) یہ ان کی مستقل تعداد ہے اس میں ان کے متبعین کا شمار نہیں ہے اور یہ اس حدیث کے منافی نہیں جس میں آیا ہے کہ ان میں کے ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے۔ (مرقات)۔ علامہ کرمانی نے فرمایا : اگر تم یہ کہو کہ وہ اس عدد کے ساتھ خاص نہیں ہیں، تو میں کہتا ہوں کہ اللہ ہی اس تعداد کو زیادہ جانتا ہے؛ کیونکہ اس میں احتمال ہے کہ لفظ ”سبعین“ سے کثیر تعداد مراد ہو۔ 2﴿قولہ : لا يسترقون (وہ منتر نہیں کرتے) علام ابوالحسن قاسمی نے کہا ہے: ”استرقاء“ سے مراد وہ تعویذ یا منتر ہے جسے وہ زمانہ جاہلیت میں کرتے تھے اب رہا کتاب اللہ کے ذریعے تعویذ لینا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے کیا ہے اور اس کے کرنے کا حکم فرمایا ہے تو یہ توکل سے خارج کرنے والا نہیں ہے۔ قولہ: لا يتطيرون (وہ بدشگونی نہیں لیتے) یعنی پرندوں وغیرہ سے بدشگونی نہیں لیتے جیسا کہ اسلام آنے سے پہلے ان کی عادت تھی ”طیرۃ“ شر کا شگون ہے اور ”فال“ خیر کا شگون ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فال (خیر کے شگون) کو پسند فرماتے تھے۔ قولہ: لا يكتوون (نہ وہ داغ لیتے ہیں) یعنی وہ یہ اعتقاد نہیں رکھتے ہیں کہ داغ سے شفاء ہوتی ہے جیسا کہ اہل جاہلیت کا اعتقاد تھا اور توکل مسببات کو اسباب پر ترتیب دے کر معاملہ کو اللہ کے سپرد کرنے کا نام ہے۔ (عمدۃ القاری)۔ 3﴿قولہ : وعلى ربهم يتوكلون (وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں) صاحب مرقات نے فرمایا:۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔ ۔۔باقی حاشیہ۔۔ کسی پر توکل کرنا یہ ہے کہ آدمی کسی کو اپنا وکیل بنالے جو اس کے کام انجام دینے والا ہو اور جو اس کے اندازہ کے مطابق اس کی حالت کی درستی کا کفیل ہو، علامہ ابن ملک نے کہا ہے: توکل سے مراد یہ ہے کہ آدمی یہ یقین رکھے کہ اللہ نے جو کچھ اس کیلئے نفع و ضرر سے لکھا ہے اس کے سوا اس کو کچھ نہیں پہنچے گا۔ 1 قولہ : فرجوت ان يكون امتي (تو میں امید کیا کہ وہ میری امت ہو) علامہ اسماعیلی نے اشکال ظاہر کیا کہ کیا حضور ﷺ اپنی امت کو نہیں پہچانے، یہاں تک کہ حضرت موسی علیہ السلام کی امت کو اپنی امت سمجھے، جبکہ حدیث ابوہریرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وہ وضو کے اثر سے امت کے چہرے، ہاتھ اور پاؤں روشن ہوں گے اور خود اس اشکال کا جواب دیا ہے کہ حضورﷺ نے جن لوگوں کو افق میں دیکھا ان سے حضورﷺ نے اشخاص کو ملاحظہ نہیں فرمایا بلکہ صرف کثرت تعداد کو ملاحظہ فرمایا، اب رہا ابوہریرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی حدیث میں جو مذکور ہے وہ اس وقت ہے جب لوگ حضورﷺ کے قریب سامنے ہوں۔ (فتح الباری)۔ 2 قولہ : الذين لا يتطيرون (جو بدفالی نہیں لیتے) یعنی وہ پرندوں وغیرہ سے بدشگونی نہیں لیتے جیسا کہ اسلام سے پہلے بدشگونی لینے کی ان کی عادت تھی ”طیرہ“ تشؤم میں ہوتا ہے اور ”فال“ تیمن میں ہوتا ہے، حضورﷺ فال پسند فرماتے تھے۔ (کرمانی)۔ ولا يسترقون (وہ رقیہ و منتر نہیں کرتے) یعنی قرآن اور حدیث کے علاوہ وہ دوسری شئی سے تعویذ نہیں لیتے، اور بعض نے بذات خود تعویذ کرنے اور دوسروں سے تعویذ کرانے میں فرق کیا ہے، اور یہ کہ نبی اکرمﷺ بذات خود اپنے لئے تعویذ کرتے تھے اور دوسرے سے تعویذ نہیں کراتے اگرچہ دوسروں نے اس کو کیا ہے تو یہ دوسرا فعل توکل کے منافی ہے اور پہلا فعل توکل کے منافی نہیں ہے، کیونکہ پہلے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کی جناب میں التجاء کرنا ہے اور دوسرے میں غیر سے التجاء ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضورﷺ کو تعویذ دیتی تھیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے تعویذ نہیں۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔ باقی ۔۔ کراتے تھے۔ (المیرآبادی) صاحب مجمع نے کہا ہے کہ رقی (تعویذ کرنے) کا ذکر تکرار کے ساتھ آیا ہے اور آخر میں لا يسترقون (تعویذ نہ کرنا) راء کے جزم اور قاف کے ضمہ کے ساتھ ہے اور احادیث دونوں قسموں کے بارے میں کثرت سے ہیں، ان میں مطابقت اس طور پر ہے کہ جو تعویذ غیر عربی زبان میں یا کلام اللہ کے سوا ہو اور جو اللہ تعالیٰ کے ان اسماء و صفات (جو نازل کردہ کتابوں میں بیان کئے گئے) کے سوا ہو یا یہ اعتقاد رکھنا کہ تعویذ قطعی طور پر فائدہ پہنچاتی ہے اور اسی پر بھروسہ کرنا تو یہ مکروہ ہے اور حضور ﷺ کے ارشاد ما توكل من استرقى (جو تعویذ کرایا وہ توکل نہیں کیا) سے یہی مراد ہے اور اس کے سوا جو تعویذ ہے وہ مکروہ نہیں ہے۔ ولا يكتوون (وہ داغ نہیں لیتے) علامہ کرمانی نے کہا ہے: اگر تم یہ کہو کہ رسول اللہ ﷺ نے سعد بن معاذ اور دوسروں کو داغ دیا ہے اور جنت میں جانے والوں میں سب سے پہلے ہیں، تو میں کہتا ہوں اس کی غرض یہ ہے کہ وہ یہ اعتقاد نہیں رکھتے ہیں کہ شفا داغ سے ہوتی ہے، جیسا کہ کفار کا اعتقاد ہے اور توکل مسببات کو اسباب پر ترتیب دینے میں معاملہ کو اللہ کے حوالے کرنا ہے اور کہا گیا ہے کہ توکل اس چیز میں کوشش کا ترک کرنا ہے جس میں طاقت بشری کی گنجائش نہیں ہے تو آدمی سبب کو اختیار کرتا ہے اور وہ یہ اعتقاد نہیں رکھتا کہ اس سے مسبب وجود میں آتا ہے بلکہ یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اس پر مسبب کی ترتیب اس کا وجود اللہ کی خلق اور ایجاد پیدا کرنے سے ہے، اسی لئے حضور ﷺ نے فرمایا: سواری کو باندھو اور توکل کر۔ جنگ احد کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے دو زرہ پہنے تھے حالانکہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کی تمام خلائق میں توکل کے ایک ایسے مقام پر ہیں کہ وہاں تک مخلوق میں کسی کی رسائی نہیں ہو سکتی۔ صاحب مجمع نے کہا ہے اب رہی حدیث ”لا يسترقون ولا يكتوون“ تو یہ ان اولیاء کرام کی صفت ہے جو اسباب سے دور رہتے ہیں اور خلائق میں کسی کی طرف التفات نہیں کرتے ہیں یہ خواص کا درجہ ہے اور عوام کے لئے علاج و معالجہ کی اجازت ہے اور جو مصیبت پر صبر کرتا ہے اور اللہ کی جناب میں دعا کرتے ہوئے راحت کا انتظار کرتا ہے تو وہ خواص میں سے ہے اور جو مجربہ کرے تو اس کیلئے تعویذ اور علاج و معالجہ کی اجازت ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کا تمام مال قبول فرمایا اور ان کے علاوہ دوسرے سے ایک کبوتر کے انڈے کے مثل سونا لینے سے انکار فرمایا، اب رہا حضور ﷺ کا فعل مبارک تو وہ بیان جواز کے لئے ہے۔ 1 قولہ : سبقتك بها عكاشة (عکاشہ تم پر اس دعا میں سبقت لے گئے) علامہ ابن ملک رحمہ اللہ نے کہا ہے، اس مجلس میں حضور ﷺ کو کسی ایک کیلئے دعا کی اجازت دی گئی تھی اور اس میں نیک کاموں کی طرف صالحین سے دعا کرانے میں سبقت کرنے کی ترغیب ہے؛ کیونکہ دیر کرنے میں آفتیں ہیں۔ (مرقات) 1 قولہ: قامت الى الرحى الخ (وہ چکی کی طرف اٹھی) اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ بندہ (جب تک وقت ہے اور اس کے حالات کا تقاضا کرتی ہے) طلب حلال میں کوشش کرتا رہے، پھر اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں ملک عظمت و شان والے شہنشاہِ حقیقی سے دعا کر کے مدد چاہے مَثَلاً اللهم ارزقنا۔ (مرقات)۔ 2 قولہ: فاذا الجفنة (چکی کے نیچے کا کپڑا) کے معنی پیالہ کے ہے جیسا کہ قاموس میں ہے، یا اس کے معنی بڑا پیالہ ہے جیسا کہ خلاصۃ اللغت میں ہے یہاں پر وہ چیز مراد ہے جو چکی کے نیچے رکھی جاتی ہے تاکہ اس میں آٹا جمع ہو جائے۔ 3 قولہ: لغدو (وہ صبح نکلتے ہیں) شیخ ابو مدرحمہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے: یہ جو خیال کیا جاتا ہے کہ توکل کے معنی جوارح سے کسب کو چھوڑنا اور قلب سے تدبیر و توکل کرنا ہے اور چھینکی ہوئی کپڑے کی دھجی، یا تنخ پر رکھے ہوئے گوشت کی طرح زمین پر پڑے رہنا ہے تو یہ جاہلوں کا خیال ہے اور شریعت میں حرام ہے جبکہ شرع شریف نے متوکلین کی تعریف و توصیف کی ہے تو دین میں سربلندی کا حصول ان چیزوں کے ذریعہ کیسے ہو سکتا ہے جو بجائے خود دین میں ممنوع و ناجائز ہیں، ہم اس معاملہ میں حق پر ہے پر ہٹاتے ہیں اور کہتے ہیں اسکے سوا نہیں کہ توکل کا اثر بندہ کی اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر نقل و حرکت اور اسکی سعی و کوشش میں ظاہر ہوتا ہے، ابوالقاسم القشیری نے کہا ہے: جان لو کہ توکل کا محل قلب ہے، اب رہی ظاہری بدن سے حرکت تو یہ توکل بالقلب کے منافی نہیں ہے، بندے کے اس اعتقاد کے بعد کہ بندے کا رزق اللہ کی جانب سے ہے، پس اگر کوئی مشکل آن پڑی ہے تو بھی وہ اسی کی تقدیر سے ہے اور اگر کوئی آسانی پیدا ہوگئی ہے تو اس کے آسان کرنے سے ہے، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد ”تغدو“ میں اشارہ ہے کہ اچھی طرح سے سعی کرنا ملک متعال (خدائے تعالیٰ) پر اعتماد کے منافی نہیں ہے، اور حدیث شریف میں بھی تنبیہ ہے اس بات پر کہ معیشت کے لئے کسب کرنا رازق نہیں ہے بلکہ رازق تو اللہ تعالیٰ ہے اور توکل کسب سے روکنے کے لئے نہیں ہے؛ کیونکہ توکل کا محل قلب ہے جبکہ اعضاء و جوارح سے کسب کرنا اس کے منافی نہیں ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔