العربية
Typed, pending editorial approval
٥٥٤٨ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ، وَأُمِرْتُ بِصَلَاةِ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا». رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِي. وَرَوَى مِنْ طُرُقٍ أُخْرَى وَهُوَ ضَعِيفٌ عَلَى كُلِّ حَالَّ.
وَرَوَى ابْنُ مَاجَهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحٌ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا». وَأَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ.
وَقَالَ: صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَمِثْلُ هَذَا الْوَعِيدِ لَا يَلْحَقُ بِتَرْكِ غَيْرِ الْوَاجِبِ.
وَرَوَى الْبُخَارِيُّ عَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى، وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا.
وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ مُوَرِّقٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَتُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ: لَا ، قُلْتُ: فَعُمَرُ؟ 1 قَالَ: لَا ، قُلْتُ: فَأَبُو بَكْرٍ؟ قَالَ: لَا ، قُلْتُ: فَالنَّبِيُّ ﷺ ؟ قَالَ: لَا إِخَالُهُ 1
قَالَ الْعَلَامَةُ الْعَيْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قِيلَ: صَلَاةُ الضُّحَى كَانَتْ وَاجِبَةً عَلَى النَّبِيِّ ﷺ ، وَيَرُدُّهُ حَدِيثُ عَائِشَةَ وَمُوَرِّقٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ، وَقِيلَ : كَانَتْ مِنْ خَصَائِصِهِ ، وَرُدَّ بِأَنَّ ذَلِكَ لَمْ يَثْبُتْ بِخَبَرٍ صَحِيحٍ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1177 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) His statement: “I don’t think so”: Al-Allamah Al-Ayni said: Ibn Umar’s negation refers to not performing it regularly, not its occurrence altogether. Similarly, Aisha’s Hadith: “I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) perform the forenoon prayer,” means he did not perform it consistently. It is established in Muslim that he prayed four rak’ahs, so her negation means he did not maintain it regularly. He may have abandoned it fearing it would be made obligatory. Al-Nawawi said in Al-Khulasah, quoting scholars: Aisha’s statement means he did not perform it consistently but prayed it occasionally. This reconciles the Hadiths. Thus, it is said in Ad-Durr Al-Mukhtar: Four rak’ahs or more are recommended for the forenoon prayer according to the sound opinion. In Radd Al-Muhtar: Its recommendation is the preferred view, as affirmed in Al-Ghaznawiyyah, Al-Hawi, Ash-Shar’ah, Al-Miftah, At-Tabyin, and others. Some said it is not recommended based on Ibn Umar’s denial in Sahih Al-Bukhari. The evidence for its recommendation is elaborated in Sharh Al-Munyah. (As stated in Al-Lama’at)
Note 1
(۱) قوله : لا أخاله : قال العلامة العيني : المراد من نفي ابن عمر نفي المداومة لا نفي الوقوع أصلا، ونظير ذلك حديث عائشة: ما رأيت رسول الله الله يسبح سبحة الضحى، الحديث. ومع هذا ثبت عنها في «مسلم» أنه كان يصلي أربعا، فمرادها في النفي عدم المداومة، كما حكى النووي في الخلاصة عن العلماء: أن معنى قول عائشة: ما رأيته يسبح سبحة الضحى، أي لم يداوم عليها، وكان يصليها في بعض الأوقات، فتركها خشية أن يفرض، قال: وبهذا يجمع بين الأحاديث. لذلك قال في الدر المختار: وندب أربع فصاعدا في الضحى على الصحيح. وفي رد المحتار: ندبها هو الراجح كما جزم في الغزنوية» و«الحاوي» و«الشرعة» و«المفتاح» و «التبيين وغيرها. وقيل: لا تستحب لما في صحيح البخاري من إنكار ابن عمر لها اهـ. إسماعيل. وبسط الأدلة على استحبابها في شرح المنية».
Note 1
علامہ عینی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ چاشت کی نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھی، مگر حضرت عائشہ اور مؤرق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث سے اس کا رد ہوتا ہے، اور کہا گیا ہے یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے۔ مگر اس قول کو بھی رد کیا گیا ہے کہ یہ کسی حدیث صحیح سے ثابت نہیں ہے۔ بسم الله الرحمن الرحيم
Note 2
(51) قولہ: لا إخاله. علامہ عینی رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا: عبداللہ بن عمر نے جو نفی کی ہے اس سے نماز چاشت کی مطلق نفی نہیں ہے بلکہ اس پر مداومت کی نفی ہے، یعنی ہمیشہ پابندی سے پڑھنے کی نفی ہے۔ اسکی مثال حدیث عائشہ میں موجود ہے ایک حدیث میں وہ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھی اور اس کے ساتھ مسلم میں حضرت عائشہؓ سے حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت چاشت کے پڑھتے تھے۔ جس حدیث میں نفی ہے اس سے مراد مداومت کی نفی ہے، جیسا کہ کتاب خلاصہ میں علامہ نووی نے علماء کرام سے نقل کیا ہے، حضرت عائشہؓ کا قول ”ما رأيته يسبح سبحة الضحى“ کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مداومت نہیں کی بلکہ آپ اس کو بعض اوقات میں پڑھتے ہیں اور بعض اوقات اس اندیشے سے کہیں فرض نہ ہو جائے چھوڑتے بھی ہیں اور پھر انہوں نے کہا کہ اس طرح تمام احادیث میں جمع کیا جا سکتا ہے۔ اسی لئے (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) صاحب درمختار نے کہا ہے قول صحیح کے مطابق چاشت کی نماز میں چار اور چار سے زائد رکعات مستحب ہیں۔ اور ردالمحتار میں ہے کہ قول راجح یہ ہے کہ یہ نماز مستحب ہے جیسا کہ اصحاب غزنویہ، حاوی، شرعۃ مفتاح اور تبیین وغیرہ نے یقین کے ساتھ کہا ہے کہ یہ نماز مستحب ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ بخاری شریف میں ابن عمر کے انکار کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نماز مستحب نہیں ہے (اسماعیل) اور شرح منیہ میں اس کے مستحب ہونے کے دلائل تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔ (شرح المنیہ)۔