العربية
Typed, pending editorial approval
٥٨٠٦ - وَعَنْ بُرَيْدَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ جَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ صَالِحًا أَنْ أَضْرِبَ بَيْنَ يَدَيْكَ بِالدُّفٌ وَأَتَغَنَّى، فَقَالَ لَهَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِبي، وَإِلَّا فَلَا». فَجَعَلَتْ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَأَلْقَتِ الدُّفَّ تَحْتَ اسْتِهَا، ثُمَّ قَعَدَتْ عَلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ الله : (إِنَّ 1 الشَّيْطَانَ لَيَخَافُ مِنْكَ يَا عُمَرُ، إِنِّي كُنْتُ جَالِسًا وَهِيَ تَضْرِبُ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ، فَلَمَّا دَخَلْتَ أَنْتَ يَا عُمَرُ أَلْقَتِ الدُّفَّ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثُ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
قُلْنَا2 إِنَّ النَّذْرَ لَا يَنْعَقِدُ إِلَّا إِذَا كَانَ الْمَنْذُورُ مِنْ جِنْسِ الطَّاعَةِ الْوَاجِبَةِ الْمَقْصُوْدَةِ بِذَاتِهِ، وَلِذَا لَا يَنْعَقِدُ النَّذْرُ فِي الْمُبَاحِ، وَضَرْبُ الدُّفّ وَإِنْ كَانَ مِنْ بَابِ الْمُبَاحِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمَّا اتَّصَلَ بِإِظْهَارِ الْفَرَحِ لِسَلَامَةِ مَقْدَمِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ حِيْنَ قَدِمَ مِنْ بَعْضِ غَزَوَاتِهِ، وَكَانَتْ فِيْهِ مَسَاءَةُ الْكُفَّارِ وَإِرْغَامُ الْمُنَافِقِينَ، فَصَارَ ضَرْبُ الدُّفُ كَبَعْضِ الْقُرَبِ، لِذَلِكَ قَالَ النَّبِيُّ : إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِبِي ثُمَّ بَعْدَ ذَلِكَ ضَرْبُ الدُّفُّ لَمْ يَكُنْ مُبَاحًا .
بَلْ صَارَ مَمْنُوْعًا بِحَدِيْثِ عَلِيٍّ : أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَنْ ضَرْبِ الدُّفْ وَلَعْبِ الصنج وَضَرْبِ الزمارة. رَوَاهُ الْخَطِيْبُ؛ لِأَنَّ ضَرْبَ الدُّفُّ مَا ثَبَتَ فِي نِكَاحِ النَّبِيِّ ﷺ وَلَا فِي نِكَاحِ أَصْحَابِهِ عُمُوْمًا، وَلو ثَبَتَ سُنَّةً جَارِيَةً مَا تَرَكُوهُ قَطُّ لِشَغَفِهِمْ عَلَى اتَّبَاعِ سُنَّةِ النبي .
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3690 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
(1) His statement “Indeed, the devil fears you, O Umar”: The issue is how he affirmed her action yet called her a devil. At-Turbashti answered: She considered his safe return a blessing from Allah, transforming the act from amusement to truth, from permissible to an act of nearness. He did not disapprove as it fulfilled the vow with minimal playing, but further excess became disliked. He did not prevent her, as that would imply prohibition, so he remained silent. Umar’s arrival marked the disliked excess, and the Prophet’s statement hinted at preventing further excess. (Derived from Al-Mirqat and annotations of Al-Kawkab ad-Durri)
Note 2
(2) His statement “We say”: Derived from Al-Alamgiriyyah, Al-Mirqat, and Imdad al-Fatawa, Part Five.
Note 1
(۱) قوله: إن الشيطان ليخاف منك يا عمر : أشكل في هذا الحديث بأنه كيف قررها أو لا، بل أمرها بذلك وسماها آخرا شيطانا. قال التوربشتي في الجواب بأنها عدت انصرافه على حال السلامة نعمة من نعم الله عليها، فانقلب الأمر فيه من صفة اللهو إلى صفة الحق، ومن المباح إلى القربة، ثم إنه لم يكره من ذلك ما يقع به الوفاء بالنذر. وقد حصل ذلك بأدنى ضرب، ثم عاد الأمر في الزيادة إلى حد المكروه، ولم ير أن يمنعها؛ لأنه لو منعها كان يرجع إلى حد التحريم، فلذا سكت عنها وصادف حد المكروه بمجيء عمر رضي الله تعالى عنه، فقال ما قال إشارة إلى منع الزيادة منه والإكثار. التقطته من المرقاة وحواشي الكوكب الدري».
Note 2
(۲) قوله : قلنا إلخ التقطته من العالمكيرية» و«المرقاة» و «إمداد الفتاوى الحصة الخامسة.
Note 1
اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم کہتے ہیں (20) کہ نذر اس وقت منعقد ہوتی ہے جب کہ منذور (نذر مانی ہوئی چیز) اطاعت واجبہ اور مقصود بذاتہ ہو۔ اسی لئے مباح چیزوں میں نذر منعقد نہیں ہوتی۔ اور دف بجانا اگرچہ مباحات کے باب سے ہے مگر جب کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک غزوہ سے سلامتی کے ساتھ واپس آمد پر اظہار خوشی کے لئے ہے اور یہ کافروں کو برا لگتا ہے اور منافقین کی ذلت ہے، یہ دف بجانا ایک قسم کی عبادت ہوئی اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اگر تو نذر مانی ہے تو بجا لے پھر اس کے بعد دف بجانا مباح نہیں رہا بلکہ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دف بجانے سے، کھیل بجانے سے منع فرمایا اس حدیث کی بناء پر ممنوع ہو گیا۔ (خطیب) کیونکہ دف بجانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں ثابت نہیں اور نہ عام طور پر صحابہ کے نکاح میں ثابت ہے اور اگر ثابت ہوتا تو سنت جاریہ ہو جاتا اور صحابہ اس کو کبھی نہیں چھوڑتے تھے کیونکہ وہ سنت نبی کی اتباع سے شغف رکھتے تھے۔
Note 2
(19) قوله: ان الشيطان ليخاف منك يا عمر. اس حدیث میں اشکال یہ ہے کہ شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جائز رکھا بلکہ اس کا حکم بھی فرمایا اور اخیر میں اس کو شیطان کا حکم کہا۔ اس کے جواب میں علامہ تورپشتی نے فرمایا کہ اس خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سلامتی کے ساتھ واپسی کو اپنے لئے اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت شمار کیا، اس لئے یہ گانا بجانا کھیل تماشا نہیں رہا بلکہ ایک حق شناسی بن گئی اور جو شئے مباح تھی وہ عبادت بن گئی، پھر اس کی وجہ سے اس نذر کو پورا کرنا مکروہ نہیں رہا، اب رہا یہ تھوڑا بجانے سے نذر پوری ہوگئی، مزید بجانا مکروہ ہو گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس لئے منع نہیں فرمایا، کیونکہ اگر منع فرماتے تو اس کا یہ بجانا حرام ہو جاتا اس لئے آپ اس پر خاموش رہے، اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اس جگہ آنا حد مکروہ کے وقت تھا، تو حضور پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس موقع پر جو کچھ فرمایا، اسمیں زیادہ بجانے سے منع کا اشارہ تھا۔ (ماخوذ از مرقات۔ حواشی الکوکب الدری) (20) قوله: قلنا الخ۔ ........ میں نے اس کو فتاویٰ عالمگیریہ، مرقات اور امداد الفتاوی حصہ پنجم سے لیا ہے۔