العربية
Typed, pending editorial approval
٥٩٧١ - وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ (رضي الله عنه) أَنَّ1 بِلَالًا قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِنَفْسِكَ فَأَمْسِكْنِي، وَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِلهِ فَدَعْنِي وَعَمَلَ اللَّهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3755 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “Bilal said to Abu Bakr”: This was when he wished to go to Sham after the Prophet’s (ﷺ) departure from this world, unable to bear seeing the Prophetic Mosque without him, unable to call the adhan in it or abandon it during another’s time. It is said he became the leader of the Abdals, whose place is often Sham. Abu Bakr prevented him, obliging him to stay and choose the adhan. The statement “let me go and work for Allah”: Meaning the work Allah chose for me or the matter He decreed. The narration of Bilal’s departure and return to Madinah after seeing the Prophet (ﷺ) in a dream and calling the adhan, with Madinah trembling, has no basis, as stated by As-Suyuti in Adh-Dhayl. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: إن بلالا قال لأبي بكر : أي حين أراد التوجه إلى الشام بعد وفاة النبي ؛ لعدم صبره على رؤية المسجد النبوي بغير حضوره ، وعدم القدرة على الأذان فيه، ولا على تركه في زمن غيره، وسيجئ أنه صار سيد الأبدال ومحلهم غالبا هو الشام، ومنعه أبو بكر » أي عن الرواح بالإلزام على المجاورة مع اختيار الأذان. وقوله: فدعني وعمل الله» أي العمل الذي اخترته الله أو الأمر الذي قدره الله وقضاه، وأما حديث رحيل بلال، ثم رجوعه إلى المدينة بعد رؤيته له في المنام وأذانه بها، وارتجاج المدينة به، فلا أصل له ذكره السيوطي في الذيل. كذا في «المرقاة».
Note 1
(17) قوله: ان بلالا قال لابی بکر۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر مسجد نبوی کو دیکھے کا یارا تھا اور نہ صبر اور نہ اس میں اذان دینے کی ہمت تھی اور نہ مسجد نبوی کو چھوڑنے کی قدرت تھی۔ ابھی ذکر آئے گا کہ آپ سید الابدال بنائے گئے اور اکثر ابدال کا مقام ملک شام ہے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو جانے سے روک دیا تھا اور خدمت اذان کو اپناتے ہوئے قرب و جوار میں رہنے کو ان پر لازم کر دیا تھا۔ وقوله: فدعنى وعمل الله۔ یعنی جس کام کو میں نے اللہ کے لئے اختیار کیا ہے یا وہ کام جس کو اللہ نے میرے لئے مقدر کیا اور اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ا۔ ب۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سفر کر جانا پھر خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کرنے کے بعد مدینہ منورہ کو واپس آنا اور مدینہ منورہ میں اذان دینا اور اس سے مدینہ منورہ کا گونج اٹھنا، یہ اس درجہ مستند روایت نہیں ہے جیسا کہ امام سیوطی نے اس کو ان ذیل میں ذکر کیا ہے۔ (البتہ امام سبکی وغیرہ محدثین نے اس واقعہ کو ذکر کیا ہے)۔ (مرقات)