Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 832

بَابُ تَأْخِيرِ الصَّلَوَاتِ وَتَعْجِيْلِهَا

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ تَأْخِيرِ الصَّلَوَاتِ وَتَعْجِيْلِهَا

Zujajat al-Masabih 832Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٨٣٢ - وَعَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ (رضي الله عنه) كَانَ يَقُولُ : مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْمَغْرِبِ أَوِ الصُّبْحِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُمَا فَلَا يُعِيدُ لَهُمَا غَيْرَ مَا قَدْ صَلَّاهُمَا. رَوَاهُ مَالِكُ، وَرَوَى الدَّارَقُطْنِيُّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ما نَحْوَهُ مَرْفُوعًا.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1154 (unverified) 75% confidence

Mishkat (candidate) 1154

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: ایسے زمانہ میں جب کہ حکام نمازوں میں تاخیر کرکے نمازوں کو مکروہ اوقات میں ادا کرتے ہوں تو مناسب یہ ہے کہ نمازیں تنہا مستحب اوقات میں ادا کرلی جائیں اور پھر حکام کے ساتھ نماز باجماعت میں نفل کی نیت سے شریک ہوجائیں یہ واضح رہے کہ نفل کی نیت سے شرکت صرف ظہر اور عشاء کی حد تک رہے گی کیوں کہ فجر اور عصر کے بعد نفل نمازیں جائز نہیں اور تنہا مغرب پڑھ لینے کے بعد نفل کی نیت سے مغرب کی نماز میں شرکت اس لئے ناجائز ہے کہ نفل نماز تین رکعت والی نہیں ہوا کرتی، اگر ایک رکعت کے اضافہ سے نفل کی چار رکعتیں پوری کرلی جائیں تو امام کی نماز کے خلاف ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ تنہا مغرب پڑھ لینے کے بعد نفل کی نیت سے مغرب کی جماعت میں شریک ہونا ناجائز ہے اگرچہ کہ مغرب کی نماز کے بعد نفل نمازیں ادا کرسکتے ہیں۔ (اشعۃ اللمعات۔)