العربية
Typed, pending editorial approval
۸۹۸ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «لَا يُؤَذِّنُ إِلَّا مُتَوَضَّى». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَضَعَّفَهُ. قَالَ عُلَمَاؤُنَا: فَلَا يَدُلُّ إِلَّا عَلَى الاسْتِحْبَابِ؛ لِأَنَّهُ قَدِ انْعَقَدَ الْإِجْمَاعُ عَلَى كَوْنِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ بِغَيْرِ وُضُوْءٍ غَيْرَ مَكْرُوهِ، وَالْقُرْآنُ أَعْظَمُ حُرْمَةً مِنَ الْأَذَانِ، فَلَمَّا لَمْ يُكْرَهُ قِرَاءَتُهُ وَهُوَ أَعْظَمُ حُرْمَةً بِدُوْنِ الْوُضُوْءِ، فَكَيْفَ يُكْرَهُ التَّأْذِينُ بِدُوْنِهِ؟ فَتُحْمَلُ رِوَايَاتُ الْوُضُوْءِ عَلَى الاسْتِحْبَابِ، قَالَهُ فِي تَعْلِيقِ إِعْلَاءِ السُّنَنِ».
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 200 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ہمارے علماء کہتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ باوضوء شخص کا اذان دینا مستحب ہے اور اذان کیلئے وضوء ضروری نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب قرآن کو جو عظمت میں اذان سے زیادہ ہے بغیر ہاتھ لگائے ہوئے بغیر وضوء پڑھ سکتے ہیں تو اذان جو عظمت میں قرآن سے کم ہے بغیر وضوء اذان دینا کس طرح ناجائز ہوگا، اس لئے جن روایتوں سے باوضوء اذان دینا ثابت ہوتا ہے ان سے اذان باوضوء دینا مستحب قرار پائے گا، (اس کی تائید ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ کی آنے والی روایت سے ہوتی ہے)۔ (یہ تعلیق ’’اعلاء السنن‘‘ میں مذکور ہے۔)