Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 205 (unverified) 94% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1164 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث کے ترجمہ میں جو قیود مذکور ہیں، مرقات سے ماخوذ ہیں اور ان سے مقصود یہ
ہے کہ اوپر کی حدیثیں جن میں حدث ہونے پر نماز کے بنا کا حکم ہے، اور یہ حدیث جس میں حدث ہونے
پر نماز کو شروع سے لوٹانے کا حکم ہے، تطبیق ہو جائے اور وہ اس طرح کہ اوپر کی حدیثیں جن میں نماز کے
بنا کا حکم ہے ان کو غیر اختیاری حدث سے متعلق کیا جائے اور اس حدیث کو جس میں نماز کے لوٹانے کا
حکم ہے، حدث اختیاری اور غیر اختیاری دونوں سے متعلق کیا جائے۔ اس حدیث کو دونوں صورتوں یعنی
اختیاری اور غیر اختیاری حدث سے اس طرح متعلق کیا جائے گا کہ اگر حدث اختیاری ہو تو نماز کو لوٹانا
واجب ہے اور اگر حدث غیر اختیاری ہے تو نماز کا لوٹانا مستحب یعنی افضل ہے۔ (یہ مضمون کچھ زیادتی
کے ساتھ مرقات سے ماخوذ ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Muwatta Malik 111 (unverified) 30% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1) امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم اسی حدیث سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ جس کسی کا وضوء
نماز کی حالت میں ٹوٹ جائے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ نماز کی جگہ سے ہٹ جائے اور بات نہ
کرے اور وضوء کر کے جو کچھ نماز پہلے پڑھ چکا ہے اسی پر بناء کر کے باقی ماندہ نماز کی تکمیل کرے اور
افضل یہ ہے کہ بات کر لے اور وضوء کر کے نماز کو از سر نو شروع سے پڑھے۔
ف(2) ردالمحتار میں لکھا ہے کہ امام کو نماز میں حدث ہو جائے اور پانی مسجد میں موجود ہو تو وہ
نمازیوں کو اشارہ سے ٹھہرا کر کسی کو خلیفہ بنائے بغیر نماز کی جگہ سے ہٹ کر وضو کرے اور واپس آ کر بناء
کر کے باقی ماندہ نماز کی تکمیل کرے اور اگر پانی مسجد میں موجود نہ ہو تو امام کسی کو خلیفہ بنا کر خود وضوء کے
لئے چلا جائے لیکن امام کے لئے خواہ پانی مسجد میں ہو یا مسجد سے باہر ہو نماز میں حدث ہونے پر ہر
حالت میں وضوء کے لئے جانے کے واسطے کسی کو خلیفہ بنا لینا افضل ہے۔
ف: عمدۃ الرعایۃ میں بنایہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جب امام کو مقتدیوں میں سے کسی کو خلیفہ
بنانے کی ضرورت پیش آئے تو مقتدی کو اپنی جگہ لے جانے کے لئے بات کے بغیر اس کا کپڑا پکڑ کر کھینچے
یا ہاتھ سے اشارہ کرے اور اشارہ سے ہی اس کو اپنی باقی ماندہ نماز کی اطلاع کرے اور اگر خلیفہ بناتے
وقت بات کر لی تو نماز فاسد ہو جائے گی۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث کے ترجمہ میں جو قیود مذکور ہیں، مرقات سے ماخوذ ہیں اور ان سے مقصود یہ ہے کہ اوپر کی حدیثیں جن میں حدث ہونے پر نماز کے بنا کا حکم ہے، اور یہ حدیث جس میں حدث ہونے پر نماز کو شروع سے لوٹانے کا حکم ہے، تطبیق ہو جائے اور وہ اس طرح کہ اوپر کی حدیثیں جن میں نماز کے بنا کا حکم ہے ان کو غیر اختیاری حدث سے متعلق کیا جائے اور اس حدیث کو جس میں نماز کے لوٹانے کا حکم ہے، حدث اختیاری اور غیر اختیاری دونوں سے متعلق کیا جائے۔ اس حدیث کو دونوں صورتوں یعنی اختیاری اور غیر اختیاری حدث سے اس طرح متعلق کیا جائے گا کہ اگر حدث اختیاری ہو تو نماز کو لوٹانا واجب ہے اور اگر حدث غیر اختیاری ہے تو نماز کا لوٹانا مستحب یعنی افضل ہے۔ (یہ مضمون کچھ زیادتی کے ساتھ مرقات سے ماخوذ ہے۔)