And the saying of Allah, the Almighty: "Who is better in speech than one who calls to Allah, does righteous deeds, and says, 'I am of the Muslims'?" (Qur'an, Fussilat 41:33).
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 726 (unverified) 80% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Leading prayer is superior to calling the Adhan in our view
(1) Explanation of the statement: "Leading prayer is superior to calling the Adhan in our view":
The Shafi'i school uses the hadith of Abu Hurairah: "The Imam is a guarantor, and the Mu'adhdhin is a trustee. O Allah, guide the Imams and forgive the Mu'adhdhins," to argue that the Adhan is superior to leading prayer because the trustee is in a better position than the guarantor. However, this trustee only manages the timing, while the guarantor oversees the pillars of prayer and acts as an intermediary between the people and their Lord in supplication. How can the two be compared? The Imam is the successor of the Messenger of Allah (peace be upon him), while the Mu'adhdhin is the successor of Bilal. Moreover, the supplication for guidance is higher than the supplication for forgiveness, as forgiveness implies prior sin, while guidance implies achieving one's goal. This is supported by the following hadiths, as mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله: الإمامة أفضل من الأذان عندنا إلخ واستدلال الشافعي بحديث أبي هريرة: «الإمام ضامن، والمؤذن مؤتمن، اللهم أرشد الأئمة واغفر للمؤذنين على فضل الأذان على الإمامة؛ لأن حال الأمين أفضل من حال الضمين. وفيه أن هذا الأمين يتكفل الوقت فحسب، وهذا الضامن يتكفل أركان الصلاة، ويتعهد للسفارة بينهم وبين ربهم في الدعاء فأين أحدهما من الآخر؟ وكيف لا، والإمام خليفة رسول الله ، والمؤذن خليفة بلال له. وإن الدعاء بالإرشاد أعلى من الدعاء بالمغفرة؛ لأن الغفران يستدعي سبق ذنب، والإرشاد يستدعي وصول البغية. ويؤيده الأحاديث الآتية بعده، كذا في «المرقاة».
Note 1
ف(1): امام ابن الہمام رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس اذان دینے سے امامت کرنا
افضل ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کرنے پر مداومت فرمائی ہے اور اسی طرح
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے بھی امامت کرنے کی ہمیشہ پابندی کی ہے۔
ف(2): واضح ہو کہ ہمارے پاس اذان دینے سے امامت کرنا افضل ہے، اس کے برخلاف
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس امامت سے اذان دینا افضل ہے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اذان کی
فضیلت پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی جس حدیث سے استدلال کیا ہے وہ حدیث یہ ہے کہ ”الْإِمَامُ ضَامِنٌ
وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ. اَللّٰهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ“، امام ضامن ہے۔ (کہ مقتدیوں کی نماز کی
صحت امام کی صحت نماز پر منحصر ہے) اور مؤذن امانت دار ہے۔ (کہ لوگ نمازوں کے پڑھنے اور روزوں کے
افطار میں مؤذن پر اعتماد کرتے ہیں) اے اللہ! اماموں کو علم و عمل کی ہدایت فرما اور مؤذنوں کو بخش دے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا اس حدیث سے استدلال یہ ہے کہ امین کی حالت ضامن کی حالت
سے افضل ہوتی ہے، اس لئے امام پر مؤذن کو فضیلت حاصل ہے، لیکن اس حدیث کے بارے میں اشعۃ
اللمعات میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے امام اور مؤذن میں کسی کی افضلیت ظاہر کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کے حال کو بیان فرما کر ہر دو کیلئے دعائے خیر فرمائی ہے۔ (اشعۃ
اللمعات کی عبارت ختم ہوئی)
اگر اس حدیث سے کسی ایک کی فضیلت ظاہر کرنا مقصود ہے تو درحقیقت امام ہی کی فضیلت
معلوم ہوتی ہے کہ مؤذن تو صرف اوقات نماز پر امین ہے حالانکہ امام ارکان نماز کا ضامن ہوتا ہے، نیز
امام بوقت دعا، مقتدیوں اور پروردگار کے درمیان سفارت اور واسطہ کا کام دیتا ہے، یہ کہاں اور وہ
کہاں؟ امام افضل کیوں نہ ہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہے اور مؤذن بلال رضی اللہ عنہ کا
جانشین ہے، اس سے بخوبی ظاہر ہے کہ امام اور مؤذن میں افضل کون ہے؟ علاوہ ازیں حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے اماموں کیلئے راہ حق پر قائم رہنے کی دعا فرمائی ہے اور مؤذنین کیلئے مغفرت کی دعا فرمائی
ہے، واضح ہو کہ راہ حق پر قائم رہنے کی دعا مغفرت کی دعا سے اعلیٰ و ارفع ہے کیونکہ مغفرت کا تقاضہ یہ
ہے کہ کچھ گناہ سرزد ہوئے ہیں اور ان کی بخشش کی دعا کی جا رہی ہے اس کے برخلاف راہ حق پر قائم
رہنے کا تقاضہ مقصد کو پا لینا ہے۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)
امامت کے افضل ہونے کی تائید میں اور حدیثیں ہیں جو ذیل میں آ رہی ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 631 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 674a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مرقات میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے امامت کی اذان پر فضیلت ثابت ہوتی ہے کیوں
کہ اذان دینے والے کیلئے کسی قسم کی شرط نہیں لگائی گئی اس کے برخلاف امام کیلئے بڑے ہونے کی شرط
لگائی گئی ہے اور یہ امامت کے افضل ہونے کی واضح ترین دلیل ہے۔12
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Say what he says
(1) Explanation of the statement: "Say what he says": This means responding to the Adhan is obligatory. However, Al-Hulwani said it is recommended. The obligatory part is responding promptly so as not to miss the congregational prayer, which would be sinful. This is mentioned in Ad-Durr Al-Mukhtar. There is further elaboration on this matter in Rad Al-Muhtar.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فقولوا مثل ما يقول: يعني ويُجيب وجوبا، وقال الحلواني: ندبًا، والواجب الإجابة بالقدم، أي لثلا تفوته الجماعة فيأثم، قاله في الدر المختار»، وفي المقام تفصيل آخر ، مَوْضِعُ بَسْطِهِ هو رد المحتار».
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ تم بھی اسی طرح کہو جو مؤذن کہتا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ
اذان سننے والے پر واجب ہے کہ مؤذن جن الفاظ کو ادا کرے، جواب دینے والا بھی انہی الفاظ کو جواب
میں ادا کرتا جائے لیکن امام حلوانی نے کہا ہے کہ مؤذن کا جواب دینا زبان سے مستحب ہے اور واجب یہ
ہے کہ اذان سنتے ہی مسجد کی طرف چلتا کہ جماعت فوت نہ ہو۔ اگر اذان سن کر مسجد کو نہ جائے تو ترک
واجب سے گنہگار ہوگا۔
(یہ درمختار میں مذکور ہے اور درمختار میں اس جگہ اور بھی تفصیل ہے۔ (جس کی تشریح ردالمحتار میں
کی گئی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 385 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Say, لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ
(1) Explanation of the statement: "Say, لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ": This means saying, "There is no power nor strength except with Allah." In 'Umdat Al-Mufti, it is added: "What Allah wills, happens." In Al-Kafi, one is given the choice between the two. In Al-Muhit, it is specified to say "La hawla wa la quwwata illa billah" in place of "Hayya 'ala as-Salah" and "Ma sha'a Allah" in place of "Hayya 'ala al-Falah." The preferred opinion is the first one, as mentioned in Rad Al-Muhtar.
Note 1
قوله
(۱) قوله : قال لا حول ولا قوة إلا بالله : أي يقول: لا حول ولا قوة إلا بالله، وزاد في عمدة المفتي»: «ما شاء الله كان»، وخير بينهما في «الكافي»، وفصل في المحيط» بأن يأتي بالحوقلة مكان الصلاة»، وبالمشيئة مكان الفلاح». (إسماعيل) والمختار الأول (نوح آفندي)، كذا في رد المحتار».
Note 1
ف(1): علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث میں اذان کے تمام کلمات ایک
ایک بار مذکور ہیں جو بغرض تعلیم اختصار کے ساتھ ذکر کئے گئے ہیں ورنہ جیسے اوپر گزر چکا ہے اذان کے
یہ سب کلمات دو دو بار ہیں۔
ف(2): اس حدیث میں مذکور ہے کہ “حَيَّ عَلَى الصَّلٰوةِ” اور “حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ”
ان ہر دو کلمات کے جواب میں “لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ” کہیں۔
عمدۃ المفتی میں لکھا ہے کہ “حَيَّ عَلَى الصَّلٰوةِ” اور “حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ” ان ہر دو کلمات
کے جواب میں “لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ” کے ساتھ “مَاشَاءَ اللّٰهُ كَانَ” اضافہ کریں اور
“کافی” میں ان دونوں چیزوں میں اختیار دیا ہے کہ چاہیں تو “حَيَّ عَلَى الصَّلٰوةِ” اور “حَيَّ عَلَى
الْفَلَاحِ” کے جواب میں صرف “لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ” پڑھیں یا صرف “مَاشَاءَ اللّٰهُ كَانَ”
پڑھیں، البتہ “محیط” میں تفصیل ہے کہ “حَيَّ عَلَى الصَّلٰوةِ” سن کر “لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ
” کہے اور “حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ” پر “مَاشَاءَ اللّٰهُ كَانَ” کہے (اسماعیل) لیکن قول مختار قول اول ہے کہ “حَيَّ
عَلَى الصَّلٰوةِ” اور “حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ” ان کلمات میں سے ہر ایک کے جواب میں “لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ
إِلَّا بِاللّٰهِ” اور “مَاشَاءَ اللّٰهُ كَانَ” کو جمع کرے (نوح آفندی) یہ ردالمحتار میں مذکور ہے۔12
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) Explanation of the statement: "Leading prayer is superior to calling the Adhan in our view": The Shafi'i school uses the hadith of Abu Hurairah: "The Imam is a guarantor, and the Mu'adhdhin is a trustee. O Allah, guide the Imams and forgive the Mu'adhdhins," to argue that the Adhan is superior to leading prayer because the trustee is in a better position than the guarantor. However, this trustee only manages the timing, while the guarantor oversees the pillars of prayer and acts as an intermediary between the people and their Lord in supplication. How can the two be compared? The Imam is the successor of the Messenger of Allah (peace be upon him), while the Mu'adhdhin is the successor of Bilal. Moreover, the supplication for guidance is higher than the supplication for forgiveness, as forgiveness implies prior sin, while guidance implies achieving one's goal. This is supported by the following hadiths, as mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله: الإمامة أفضل من الأذان عندنا إلخ واستدلال الشافعي بحديث أبي هريرة: «الإمام ضامن، والمؤذن مؤتمن، اللهم أرشد الأئمة واغفر للمؤذنين على فضل الأذان على الإمامة؛ لأن حال الأمين أفضل من حال الضمين. وفيه أن هذا الأمين يتكفل الوقت فحسب، وهذا الضامن يتكفل أركان الصلاة، ويتعهد للسفارة بينهم وبين ربهم في الدعاء فأين أحدهما من الآخر؟ وكيف لا، والإمام خليفة رسول الله ، والمؤذن خليفة بلال له. وإن الدعاء بالإرشاد أعلى من الدعاء بالمغفرة؛ لأن الغفران يستدعي سبق ذنب، والإرشاد يستدعي وصول البغية. ويؤيده الأحاديث الآتية بعده، كذا في «المرقاة».
Note 1
ف(1): امام ابن الہمام رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس اذان دینے سے امامت کرنا افضل ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کرنے پر مداومت فرمائی ہے اور اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے بھی امامت کرنے کی ہمیشہ پابندی کی ہے۔ ف(2): واضح ہو کہ ہمارے پاس اذان دینے سے امامت کرنا افضل ہے، اس کے برخلاف امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس امامت سے اذان دینا افضل ہے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اذان کی فضیلت پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی جس حدیث سے استدلال کیا ہے وہ حدیث یہ ہے کہ ”الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ. اَللّٰهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ“، امام ضامن ہے۔ (کہ مقتدیوں کی نماز کی صحت امام کی صحت نماز پر منحصر ہے) اور مؤذن امانت دار ہے۔ (کہ لوگ نمازوں کے پڑھنے اور روزوں کے افطار میں مؤذن پر اعتماد کرتے ہیں) اے اللہ! اماموں کو علم و عمل کی ہدایت فرما اور مؤذنوں کو بخش دے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا اس حدیث سے استدلال یہ ہے کہ امین کی حالت ضامن کی حالت سے افضل ہوتی ہے، اس لئے امام پر مؤذن کو فضیلت حاصل ہے، لیکن اس حدیث کے بارے میں اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے امام اور مؤذن میں کسی کی افضلیت ظاہر کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کے حال کو بیان فرما کر ہر دو کیلئے دعائے خیر فرمائی ہے۔ (اشعۃ اللمعات کی عبارت ختم ہوئی) اگر اس حدیث سے کسی ایک کی فضیلت ظاہر کرنا مقصود ہے تو درحقیقت امام ہی کی فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ مؤذن تو صرف اوقات نماز پر امین ہے حالانکہ امام ارکان نماز کا ضامن ہوتا ہے، نیز امام بوقت دعا، مقتدیوں اور پروردگار کے درمیان سفارت اور واسطہ کا کام دیتا ہے، یہ کہاں اور وہ کہاں؟ امام افضل کیوں نہ ہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہے اور مؤذن بلال رضی اللہ عنہ کا جانشین ہے، اس سے بخوبی ظاہر ہے کہ امام اور مؤذن میں افضل کون ہے؟ علاوہ ازیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اماموں کیلئے راہ حق پر قائم رہنے کی دعا فرمائی ہے اور مؤذنین کیلئے مغفرت کی دعا فرمائی ہے، واضح ہو کہ راہ حق پر قائم رہنے کی دعا مغفرت کی دعا سے اعلیٰ و ارفع ہے کیونکہ مغفرت کا تقاضہ یہ ہے کہ کچھ گناہ سرزد ہوئے ہیں اور ان کی بخشش کی دعا کی جا رہی ہے اس کے برخلاف راہ حق پر قائم رہنے کا تقاضہ مقصد کو پا لینا ہے۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔) امامت کے افضل ہونے کی تائید میں اور حدیثیں ہیں جو ذیل میں آ رہی ہیں۔