And the saying of Allah, the Almighty: "And if you are ill or on a journey or one of you comes from the place of relieving himself, or you have touched women, and you do not find water, then perform tayammum with clean soil and wipe over your faces and hands. And the saying of Allah: 'And do not approach prayer while you are in a state of janabah (major impurity) until you have washed yourselves.'" (Surah Al-Ma'idah: 6)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 334 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 367a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
زجاج نے کہا کہ ”صعید“ زمین کی سطح کو کہتے ہیں خواہ اس پر مٹی ہو یا نہ ہو یا ایسی چٹان ہو کہ اس پر
گرد نہ ہو، زجاج نے یہ بھی کہا ہے کہ ”صعید“ کو سطح زمین کہنے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے۔
ہمارے علماء نے وضاحت کی ہے کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ تیمم وضوء کا مطلقاً
یعنی کامل طور پر قائم مقام ہے تیمم کا وضوء کے کامل طور پر قائم مقام ہونے کی حیثیت سے تیمم پانی کے
ملنے تک رافع حدث یعنی ناپاکی کو ایسا ہی دور کر دینے والا ہے جیسا کہ پانی اور تیمم اپنے اصل یعنی پانی کی
طرح ایسا ہی پاک کرنے والا ہوگا، جیسا کہ خود پانی اور نماز کے وقت کا گزر جانا تیمم کو نہیں توڑے گا جس
طرح وقت کے گزرنے سے وضوء نہیں ٹوٹتا بلکہ تیمم کا حکم بعینہ وضوء کے حکم کی طرح ہے کہ وقت کے اندر
اور وقت کے قبل بھی جائز ہے اور تیمم سے فرض اور نفل جتنی نمازیں چاہیں ادا کر سکتے ہیں اور ان ہی وجوہ
کی بنا پر تیمم اور وضوء کو جمع نہیں کیا جا سکتا کہ بدل اور مبدل یعنی قائم مقام اور اصل کا جمع کرنا درست نہیں
ہے اور تیمم کے مطلق قائم مقام ہونے کی وجہ سے یہ ضروری نہیں کہ خارج نماز پانی کے ملنے پر بھی تیمم
باطل ہو جائے بلکہ جس طرح خارج نماز پانی مل جانے سے تیمم باطل ہو جاتا ہے بالکل اسی طرح دوران
نماز میں بھی پانی کے مل جانے کے علم سے بھی تیمم باطل ہو جائے گا، علاوہ ازیں اس حدیث کے
الفاظ (عشر سنین) یعنی دس برس تک پانی نہ ملنے کی صورت میں بھی برابر تیمم کرنا رہے، سے اس بات کی
دلیل ملتی ہے کہ تیمم مطلقاً وضوء کا قائم مقام ہے نہ کہ ضرورتاً، یہ حنفی مذہب ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تیمم ضرورتاً وضوء کا قائم مقام ہے، تیمم کے ضرورتاً قائم مقام
ہونے کی حیثیت سے امام موصوف کے پاس تیمم حقیقت میں حدث کو دور کرنے والا نہ ہوگا بلکہ حدث
کے باقی رکھتے ہوئے ادائی فرض کے لئے تیمم ان کے پاس جائز ہوگا، یہی وجہ ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ
کے مسلک کے لحاظ سے وقت کے پہلے تیمم جائز نہیں کیوں کہ وقت نماز کے شروع ہونے پر ادائی فرض
کے لئے تیمم کی ضرورت لاحق ہوتی ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ)12
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 335 (unverified) 98% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 317 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ارشاد مبارک ہے کہ میرے لئے تمام روئے زمین کو نماز کی جگہ بنا دیا گیا
ہے، اس سے اس امت کی خصوصیت کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح سابقہ امتوں پر نماز بجز کلیسوں
اور عبادت خانوں کے جائز نہیں تھی اس کے برخلاف اس امت کو یہ امتیاز عطا فرمایا گیا ہے کہ یہ جہاں
نماز ادا کرنا چاہیں وہاں جائز ہوجائے گی، اس حدیث میں دوسرا ارشاد یہ ہے کہ تمام روئے زمین
میرے لئے طہور یعنی پاک کرنے والی قرار دی گئی ہے، اس سے مقصود یہ ہے کہ جہاں پانی نہ ملے تو مٹی یا
اس کی جنس سے تیمم کرلے جو وضو اور غسل ہر دو کے لئے کافی ہوجائے گا۔ (مرقات)12۔
(1) In the original text of the author, it says: "He struck his hands up to the elbows."
Note 1
(۱) وفي أصل المؤلف: «ضرب يديه إلى المرفقين».
Note 1
(اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور وضاحت کی ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح
ہے اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارنے
کے بعد کنکریوں کے گرانے کے لئے ہر ہاتھ کے انگوٹھے کو دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے پر مار کر جھٹک دیا۔
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ نماز جنازہ تیار ہو اور اندیشہ ہو کہ اگر وضوء کرنے لگیں تو نماز
جنازہ فوت ہوجائے گی تو ایسی صورت میں جائز ہے کہ تیمم کرلے اور نماز جنازہ میں شریک ہوجائے
کیونکہ نماز جنازہ کا بدل اور قائم مقام کوئی اور نماز نہیں ہے البتہ میت کا ولی یعنی ایسے قریبی رشتہ دار ہو کہ
جس کو نماز جنازہ پڑھانے کا حق ہے اور اسی طرح بادشاہ اور قاضی یہ تینوں مذکورہ بالا صورت میں تیمم نہیں
کریں گے بلکہ وضوء ہی کریں گے اس لئے کہ ان کا انتظار کیا جا سکتا ہے۔12
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
واضح ہو کہ عبادتیں دو طرح کی ہوا کرتی ہیں ایک وہ عبادتیں جن کا قائم مقام اور بدل موجود ہے
جیسے نماز جمعہ کہ اس کا قائم مقام ظہر ہے اور نماز پنجگانہ کہ ان کا قائم مقام اور بدل ان کی قضاء
ہے اور دوسری وہ عبادتیں کہ جن کا بدل اور قائم مقام موجود نہیں جیسے نماز جنازہ اور عیدین وغیرہ، ہمارے
علماء نے کہا ہے کہ مذکورہ بالا ان حدیثوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایسی عبادتیں کہ جن کا قائم مقام
اور بدل موجود نہیں ہے اور وضوء کرنے تک وقت کے گزر جانے یا نماز کے ختم ہو جانے سے ان کے
فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایسی عبادتوں میں باوجودیکہ صحت مند ہوں اور پانی موجود ہو اور پانی کے
استعمال پر قدرت بھی حاصل ہو، ان ساری صورتوں کے باوجود تیمم جائز ہے جیسے نماز جنازہ و عیدین،
نماز کسوف، سلام اور جواب سلام وغیرہ اور ایسی عبادتیں جن کا قائم مقام اور بدل موجود ہے، ان کے
فوت ہو جانے کے اندیشہ سے تیمم نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ ان کا بدل اور قائم مقام موجود ہے جیسے جمعہ اور
پنجگانہ نمازیں۔12
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
For the one who did not repeat [the prayer], etc.
(1) The statement: "For the one who did not repeat [the prayer], etc." – The scholars agree that if one finds water after completing the prayer, there is no need for a repeat of the prayer, even if time for prayer is still remaining. However, there is a difference of opinion regarding what should be done if water is found after one has already started the prayer. The majority hold that the prayer remains valid and should not be interrupted. On the other hand, Abu Hanifa and Ahmad (according to a narration) say that the Tayammum is invalidated. If a person performs Tayammum and then finds water before entering the prayer, the consensus is that their Tayammum becomes invalid. This is mentioned in "al-Mirqat."
Note 1
قوله
(۱) قوله : للذي لم يعد إلخ : أجمعوا على أنه إذا رأى الماء بعد فراغه من الصلاة لا إعادة عليه وإن كان الوقت باقيا، واختلفوا فيما إذا وجد الماء بعد دخوله في الصلاة فالجمهور على أنه لا يقطعها وهي صحيحة، وقال أبو حنيفة وأحمد في رواية: يبطل تيممه، أما إذا تيمم ثم وجد الماء قبل دخول الصلاة فالإجماع على بطلان تيممه، كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: علماء کا اس پر اجماع ہے کہ اگر تیمّم سے نماز پڑھنے والا نماز سے فارغ ہو جانے کے بعد پانی
دیکھ لے تو اس پر نماز کا اعادہ نہیں اگرچہ وقت باقی ہو، البتہ علماء کا اختلاف اس صورت میں ہے کہ نماز
شروع کرنے کے بعد نماز کی حالت میں پانی مل جائے تو احناف کے سوا جمہور کا مسلک یہ ہے کہ نماز کو نہ
توڑے اس کی نماز درست ہو جائے گی، چنانچہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے پاس اور امام احمد رحمہ اللہ کی ایک
دوسری روایت میں اس طرح مذکور ہے کہ اس شخص کا تیمّم باطل ہو جائے گا اور اگر تیمّم کرنے کے بعد نماز
شروع کرنے سے قبل پانی مل جائے تو اس شخص کے تیمّم کے باطل ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔12
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He ordered me to wipe over the bandages
(1) The statement "He ordered me to wipe over the bandages" indicates that wiping over the bandages is sufficient, and washing the rest of the body with water is not required, according to the opinion of Abu Hanifa. This contrasts with the opinion of Al-Shafi'i, who holds that both wiping and washing the rest of the body with water are necessary. This interpretation is derived from "Al-Mirqat."
Note 1
قوله
(۱) قوله: فأمرني أن أمسح على الجبائر : هذا يدل على الاكتفاء بالمسح والغسل، كما هو مذهب أبي حنيفة، دون الجمع بين التيمم وغسل سائر البدن بالماء، كما ذهب إليه الشافعي. أخذته من «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زخم پر پٹی باندھی گئی ہو تو پٹی پر مسح کیا جائے اور
بدن کے باقی صحیح حصہ کو دھولیا جائے اور صحیح حصہ بدن کو دھوکر پٹی پر مسح کے بجائے تیمم کرنا جائز نہیں ہے
کیوں کہ اس سے وضوء اور تیمم کو جمع کرنا لازم آتا ہے، حالانکہ بدل اور مبدل کو جمع کرنا درست نہیں
ہے، یہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک ہے، البتہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ پٹی پر مسح
کرنے کے بجائے تیمم کیا جائے اور باقی حصہ بدن کو دھولیا جائے۔ (مرقات اور ملتقی)12۔
ف: اس حدیث سے بھی حنفی مسلک کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے
زخم کے علاوہ باقی حصہ بدن کے دھونے اور زخم پر مسح کرنے کو جمع فرمایا اور دھونے اور تیمم کو جمع نہیں فرمایا
ہے۔ (ملتقی میں ایسا ہی مذکور ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
زجاج نے کہا کہ ”صعید“ زمین کی سطح کو کہتے ہیں خواہ اس پر مٹی ہو یا نہ ہو یا ایسی چٹان ہو کہ اس پر گرد نہ ہو، زجاج نے یہ بھی کہا ہے کہ ”صعید“ کو سطح زمین کہنے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے۔ ہمارے علماء نے وضاحت کی ہے کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ تیمم وضوء کا مطلقاً یعنی کامل طور پر قائم مقام ہے تیمم کا وضوء کے کامل طور پر قائم مقام ہونے کی حیثیت سے تیمم پانی کے ملنے تک رافع حدث یعنی ناپاکی کو ایسا ہی دور کر دینے والا ہے جیسا کہ پانی اور تیمم اپنے اصل یعنی پانی کی طرح ایسا ہی پاک کرنے والا ہوگا، جیسا کہ خود پانی اور نماز کے وقت کا گزر جانا تیمم کو نہیں توڑے گا جس طرح وقت کے گزرنے سے وضوء نہیں ٹوٹتا بلکہ تیمم کا حکم بعینہ وضوء کے حکم کی طرح ہے کہ وقت کے اندر اور وقت کے قبل بھی جائز ہے اور تیمم سے فرض اور نفل جتنی نمازیں چاہیں ادا کر سکتے ہیں اور ان ہی وجوہ کی بنا پر تیمم اور وضوء کو جمع نہیں کیا جا سکتا کہ بدل اور مبدل یعنی قائم مقام اور اصل کا جمع کرنا درست نہیں ہے اور تیمم کے مطلق قائم مقام ہونے کی وجہ سے یہ ضروری نہیں کہ خارج نماز پانی کے ملنے پر بھی تیمم باطل ہو جائے بلکہ جس طرح خارج نماز پانی مل جانے سے تیمم باطل ہو جاتا ہے بالکل اسی طرح دوران نماز میں بھی پانی کے مل جانے کے علم سے بھی تیمم باطل ہو جائے گا، علاوہ ازیں اس حدیث کے الفاظ (عشر سنین) یعنی دس برس تک پانی نہ ملنے کی صورت میں بھی برابر تیمم کرنا رہے، سے اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ تیمم مطلقاً وضوء کا قائم مقام ہے نہ کہ ضرورتاً، یہ حنفی مذہب ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تیمم ضرورتاً وضوء کا قائم مقام ہے، تیمم کے ضرورتاً قائم مقام ہونے کی حیثیت سے امام موصوف کے پاس تیمم حقیقت میں حدث کو دور کرنے والا نہ ہوگا بلکہ حدث کے باقی رکھتے ہوئے ادائی فرض کے لئے تیمم ان کے پاس جائز ہوگا، یہی وجہ ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ کے مسلک کے لحاظ سے وقت کے پہلے تیمم جائز نہیں کیوں کہ وقت نماز کے شروع ہونے پر ادائی فرض کے لئے تیمم کی ضرورت لاحق ہوتی ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ)12