And the words of Allah, the Almighty: "And if you are in a state of Janabah (major impurity), then purify yourselves" and the verse: "And do not approach them (wives) until they are pure" (Al-Ma'idah: 6) and the verse: "Or you have touched the women" (Al-Baqarah: 222, Al-Ma'idah: 1)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 291 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 348b (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: چار شاخوں سے مراد عورتوں کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر ہیں، اس کا حاصل یہ ہے کہ
بوقت جماع ذکر کے سر داخل ہو جانے سے غسل لازم ہو جاتا ہے خواہ منی نکلے یا نہ نکلے، خلفاء راشدین
اور اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور چاروں اماموں کا یہی مذہب ہے۔
ہے البتہ دارمی اور ابن ماجہ نے صرف (لا غُسل عليه) تک روایت کی ہے، خطابی کا بیان ہے کہ اس
حدیث میں قیاس کا اثبات اور ایک نظیر کو دوسرے نظیر کے حکم سے الحاق کا ثبوت ملتا ہے۔)
روایت کی ہے، دارقطنی اور حاکم کا بیان ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور ہر دو کے راوی ضعیف ہیں،
لیکن علامہ عینی نے امام تقی الدین سے (اس حدیث کے ضعف کی تحقیق میں) نقل کیا ہے کہ امام
موصوف کا بیان ہے کہ حدیث مذکور کی روایت بلاواسطہ برکتہ راوی کے طریقہ کے علاوہ اور دیگر
طریقوں سے کی گئی ہے جس کو امام ابوبرکہ خطیب نے دارقطنی کی سند سے بیان کیا ہے اور جس کی سند
یہ ہے:)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 248 (unverified) 98% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 106 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 597 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ناک میں بھی بال ہوا کرتے ہیں اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ
ناک میں پانی لینا بھی فرض ہے اور اہل لغت کا بیان ہے کہ بشرہ میں بدن کا تمام ظاہری حصہ داخل ہے
اس طرح اس حدیث سے غُسل جنابت میں کلی کرنے کی فرضیت بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ منہ ظاہر
بدن میں داخل ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 249 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
This footnote could not be resolved in the source.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فمن ثم عاديت إلخ : قال الشيخ ابن حجر : ولا يخفي أن فعله إذا كان مخالفًا لسنته وبقية الخلفاء من عدم الحلق إلا بعد فراغ النسك يكون رخصة لا سنة.
Note 1
غُسل میں سر کے بالوں کے نیچے تک پانی نہ پہنچنے کی وعید سن کر میں نے اپنے سر کے بالوں سے دشمن
جیسا معاملہ کیا، جس طرح ایک دشمن دوسرے دشمن کو مار ڈالتا ہے، اسی طرح میں نے اپنے سر کے بال
مونڈھ دیئے)۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور سکوت اختیار کیا ہے اور ابوداؤد کا سکوت صحت کی
علامت ہے اور تلخیص حبیر میں مذکور ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔
ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عمل سے ثابت ہوتا
ہے کہ آپ سر منڈوایا کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تینوں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم
سر میں بال رکھتے تھے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فعل رخصت اور اجازت پر محمول ہوگا خلاصہ یہ ہے کہ
تمام سر کا منڈوانا مستحب اور تمام سر کے بالوں کا رکھنا سنت ہوگا لیکن اس بحث سے حج کا مسئلہ خارج
ہوگا وجہ یہ ہے کہ احکام حج سے فراغت کے بعد سر کا منڈوانا سنت ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 313 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 332a (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Take a piece of musk...
(1) The statement: "Take a piece of musk..." – Al-Aini in Umdat al-Qari mentioned in his explanation of deriving legal rulings from this that it is recommended for a woman who is performing ghusl (ritual bath) after menstruation or childbirth to use perfume on all the areas of her body that were affected by blood. Al-Mahmali stated that this is because it helps in conceiving quickly and also prevents bad odors. There is a difference of opinion regarding when it should be used. Some say it should be applied after the ghusl, while others say it should be applied before. It is also recommended to use perfume on a woman's private parts by taking a piece of cotton or something similar, applying musk or something similar on it, and inserting it into her private parts after the ghusl, with the same practice recommended for a woman after childbirth.
Note 1
قوله
(۱) قوله: خذي فرصة من مسك إلخ : قال العيني في عمدة القاري في بيان استنباط الأحكام فيه استحباب التطيب للمغتسلة من الحيض والنفاس على جميع المواضع التي أصابها الدم من بدنها. قال المحاملي: لأنه أسرع إلى العلوق وأدفع للرائحة الكريهة، واختلف في وقت استعمالها لذلك. فقال بعضهم: بعد الغسل. وقال آخرون: قبله. وفيه استحباب تطيب فرج المرأة بأخذ قطعة من صوف ونحوها، وتجعل عليها مسكا أو نحوه، وتدخلها في فرجها بعد الغسل والنفساء مثلها.
Note 1
علامہ عینی رحمة اللہ علیہ نے عمدۃ القاری میں استنباط احکام کے بیان میں کہا ہے کہ اس حدیث
میں اس چیز کی دلیل ہے کہ حیض و نفاس سے فارغ ہوکر غسل کرنے والی عورت کے لئے مستحب ہے کہ
اس کے بدن میں جن جگہوں کو خون لگا تھا ان پر خوشبو لگائے۔ اور محاملی نے کہا کہ خوشبو لگانے سے جلد
حمل قرار پاتا ہے اور بہت جلد بدبو دور ہوتی ہے البتہ اس میں اختلاف ہے کہ خوشبودار کپڑا کب
استعمال کیا جائے، بعضوں نے کہا کہ غسل حیض یا نفاس کے بعد استعمال کیا جائے اور دوسروں نے کہا
ہے کہ غسل کے پیشتر استعمال کیا جائے اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عورت کے لئے
مستحب ہے کہ اپنی شرمگاہ کو ایسے کپڑے سے خوشبودار کرے جس کو مشک یا کسی اور خوشبو میں بسایا گیا ہو،
اور غسل کے بعد اس خوشبودار کپڑے کو اپنی شرمگاہ میں رکھ لے اور نفاس والی عورت کے لئے بھی یہی
مستحب ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: عورتوں کے سر کے بال اگر گوندھے ہوئے ہوں اور وہ بوقت غسل اپنے سر کے بالوں پر
اس طرح پانی ڈالیں کہ بالوں کی جڑیں اچھی طرح تر ہو چکی ہوں تو ایسی صورت میں عورتیں اپنے بالوں
کو نہ کھولیں، اگر یہ معلوم ہے کہ بالوں کو کھولے بغیر جڑیں تر نہ ہوں گی تو پھر بالوں کا کھولنا ضروری ہے،
بخلاف مردوں کے کہ وہ بوقت غسل اپنے سر کے بال ضرور کھول لیا کریں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 201 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 325a (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سیر مقدار پانی سے
وضوء اور 4 سیر سے لے کر 5 سیر مقدار پانی سے غسل فرمایا کرتے، اس کے بارے میں علامہ شامی رحمۃ
اللہ علیہ نے رد المحتار میں بحوالہ حلیہ یہ تحقیق بیان فرمائی ہے کہ وضوء اور غسل میں پانی کی مقدار کے متعلق
بہت سے علماء نے مسلمانوں کا یہ اجماع نقل کیا ہے کہ وضوء اور غسل میں پانی کی کوئی خاص مقدار مقرر
نہیں ہے البتہ ظاہر الروایہ میں وضوء میں کم سے کم پانی کی مقدار ایک سیر اور غسل میں 4 سیر سے لے کر
5 سیر جو بیان کی گئی ہے وہ بخاری اور مسلم کی اسی زیر بحث حدیث کی بناء پر ہے، لیکن یہ ایسی مقدار نہیں
کہ جس کی پابندی لازمی ہے بلکہ یہ وضوء اور غسل کی کم سے کم مسنون مقدار ہے، چنانچہ بحر میں لکھا ہے کہ
جس کسی کا وضوء یا غسل اس سے کم مقدار پانی سے پورا ہو جاتا ہے تو اس مقدار سے کم سے اس کا وضوء یا
غسل جائز ہے اور اگر یہ مقدار اس کے لئے کافی نہیں تو اس مقدار سے زیادہ پانی استعمال کر سکتا ہے
کیونکہ انسانوں کی طبیعتیں اور احوال مختلف ہوا کرتے ہیں، بدائع اور رد المحتار اور دیگر کتابوں میں یہی توضیح
مذکور ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ پانی کے استعمال میں اسراف نہیں ہونا چاہئے جہاں تک ہو سکے پانی کافی
احتیاط سے استعمال کیا کریں اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے استعمال میں اسی احتیاط
کو عملاً کر کے دکھایا ہے۔ (یہ پورا مضمون رد المحتار شامی سے لیا گیا ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: چار شاخوں سے مراد عورتوں کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر ہیں، اس کا حاصل یہ ہے کہ بوقت جماع ذکر کے سر داخل ہو جانے سے غسل لازم ہو جاتا ہے خواہ منی نکلے یا نہ نکلے، خلفاء راشدین اور اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور چاروں اماموں کا یہی مذہب ہے۔