Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ (۱) الْفِتَنِ · Chapter 1

كِتَابُ (۱) الْفِتَنِ

31 narrations · In source reading order

Hadith 5157

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٥٧ - عَنْ حُذَيْفَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : قَامَ 1 فِينَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ مَقَامًا مَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا حَدَّثَ بِهِ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ، قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هَؤُلَاءِ وَإِنَّهُ لَيَكُونُ مِنْهُ الشَّيْءُ قَدْ نَسِيتُهُ، فَأَرَاهُ فَأَذْكُرُهُ كَمَا يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ ثُمَّ إِذَا رَآهُ عَرَفَهُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ .
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6604 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2891b (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Chapter-heading commentary

Book of Trials

(1) His statement: “Book of Trials” – Trials, the plural of trial, is synonymous with test or affliction in both wording and meaning. The author of Al-Mishkat arranged the Book of Trials, organizing chapters within it until the end of the book. The specific reason for this, particularly for chapters like Virtues and Merits, is unclear, as the concept of trials does not seem to apply directly. If considered in terms of our obligation to believe and submit to them, then everything mentioned in the book falls under this category, so what is the reason for this specific designation? (As stated in Al-Lama’at)

Note 1

stood among us in a gathering

(1) His statement: “stood among us in a gathering” – the word “gathering” is either a verbal noun, a noun of place, or a noun of time. It is said: The negated clause, “did not leave out anything,” is a description. His statement: “that would occur” means that exists, describing “anything.” His statement: “in that gathering” relates to “leave out,” with “gathering” standing in place of the pronoun of the described. His statement: “that” describes “gathering,” referring to its time. His statement: “until the establishment of the Hour” is the limit for “occur.” The meaning is: He stood in a gathering where he did not omit anything that would happen, and it is fitting that he informed about the trials that would appear from that time until the Hour. (As stated in Al-Mirqat)

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله: كتاب الفتن الفتن جمع فتنة كالمحن والمحنة لفظا ومعنى الفتنة هي الاختبار والامتحان، ثم إن مؤلف المشكاة لله جعل كتاب الفتن، ورتب فيها أبوابا إلى آخر الكتاب، ولا يظهر له وجه خصوصا باب الفضائل والمناقب ولا يظهر معنى الافتنان، ولو اعتبر باعتبار إنا مكلفون باعتقادها وانقيادها، فكل ما ذكر في الكتاب من هذا القبيل، فما وجه التخصيص ؟ كذا في اللمعات».

Note 1

قوله

(۱) قوله: قام فينا رسول الله ﷺ مقاما: إما مصدر ميمي أو اسم مكان. وقيل: اسم زمان، والجملة المنفية وهي قوله: ما ترك شيئًا إلخ » صفة. وقوله: «يكون بمعنى يوجد صفة شيئًا. وقوله: «في مقامه» متعلق بـ «ترك» ووضع مقامه موضع ضمير الموصوف. وقوله: «ذلك صفة مقامه إشارة إلى زمانه . وقوله: «إلى قيام الساعة» غاية لـ يكون». والمعنى: قام مقام ما ترك شيئًا يحدث فيه، وينبغي أن يخبر بما يظهر من الفتن من ذلك الوقت إلى قيام الساعة إلا حدث به. كذا في «المرقاة».

Note 1

1 قولہ : کتاب الفتن (فتنوں کے مضامین) لفظ ”فتن“ فتنہ کی جمع ہے اور یہ لفظ اور معنی کے اعتبار سے ”محن“ کی طرح ہے جو ”محنة“ کی جمع ہے اور فتنہ آزمائش و امتحان کو کہتے ہیں، پھر صاحب مشکوۃ رحمہ اللہ نے کتاب الفتن قائم کیا اور کتاب کے آخر تک اس میں کئی ابواب بیان کئے جس کی اس میں کوئی خاص وجہ معلوم نہیں ہوتی خاص طور پر باب الفضائل والمناقب اسکے ضمن میں لانے کی کوئی وجہ معلوم ہوتی ہے اور نہ اس میں فتنہ کا کوئی مفہوم ظاہر ہوتا ہے اگر یہ سمجھا جائے کہ یہ ہمیں اس پر اعتقاد رکھنے اور اس پر عمل کرنے کے اعتبار سے ہے تو کتاب میں جو کچھ مذکور ہے سب اسی قبیل سے ہے، پھر وجہ تخصیص کیا ہے۔ (لمعات)۔ 2 قولہ : قام فينا رسول الله ﷺ مقاما (ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وقت قیام فرمایا) لفظ ”مقام“ یا تو مصدر میمی ہے یا ظرف مکان ہے۔ ایک قول ظرف زمان ہونے کا ہے اور شق جملہ یعنی آپ کا فرمان: ما ترك شيئا الخ اسکی صفت ہے اور آپ کا فرمان يكون يوجد کے معنی میں ہے جو شيئا کی صفت ہے اور آپ کا فرمان في مقامه ترك کے متعلق ہے اور لفظ مقام کو موصوف کی طرف لوٹنے والی ضمیر کی جگہ رکھا گیا ہے اور آپ کا فرمان ذلك مقامه کی صفت ہے اس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی طرف اشارہ ہے، اور آپ کا فرمان: الى قيام الساعة ليكون کی غایت ہے۔ مطلب یہ ہے اس طرح قیام فرمایا کہ اس میں ہونے والی کسی چیز کو ترک نہیں فرمایا اور مناسب یہ ہے کہ آپ نے ان سب فتنوں کی خبر دی جو اس وقت قیامت تک ظہور پذیر ہونگیں۔ (مرقات)۔ 1 قولہ : قائد فتنة (فتنہ کا قائد) یعنی گمراہی کی دعوت دینے والا اور بدعت نکالنے والا۔ (مرقات)۔ 2 قولہ : فهل بعد هذا الخير من شر الخ (اور کیا اس خیر کے بعد شر ہے) اس بارے میں کہا گیا کہ پہلے شر سے مراد وہ فتنے ہیں جو سیدنا عثمان رضی اللہ کی شہادت کے وقت اور اس کے بعد رونما ہوئے اور دوسرے خیر سے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ظاہر ہونے والا خیر مراد ہے۔ اور الذين تعرف منهم وتنكر سے وہ امراء مراد ہیں جو آپکے بعد ہوئے ان میں سے بعض وہ تھے جو سنت اور عدل کو تھامے رہے اور بعض وہ تھے جو بدعت کی طرف بلاتے اور ظلم کیا کرتے تھے یا ان میں سے بعض وہ ہیں جو کبھی اچھائی پر عمل کرتے اور کبھی خواہش نفس کی اتباع میں اور دنیوی معاملات سے متعلق اپنے اغراض حاصل کرنے کی خاطر برائی پر عمل کرتے ایسا نہیں کہ وہ زیادہ بہتر امر کی تلاش اور آخرت کی رعایت چاہتے ہوں جیسا کہ ہمارے زمانے کے بعض امراء کی حالت ہے۔ اور کہا گیا: شر اول سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور آپ کے بعد کا زمانہ مراد ہے اور خیر ثانی سے سیدنا امام حسن کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ صلح واقع ہونا اور اس پر اجماع مراد ہے اور دخن سے آپکے زمانے کے بعض امراء جیسے عراق میں۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ زیادہ تھا اور وہ اختلاف ہے جو اس بارے میں خوارج نے کہا تھا اور آپ کا فرمان: دعاة على ابواب جهنم داع کی جمع ہے محدث اشرف نے کہا: یعنی ایسی جماعت جو لوگوں کو گمراہی کی طرف بلاتی ہے اور انکو انواع و اقسام کے شبہ میں ڈالنے اور خیر سے شر کی طرف سنت سے بدعت کی طرف اور زہد سے رغبت کی طرف لے جانے کے ذریعہ ہدایت سے روکتی ہے، حضرت نبی اکرم ﷺ نے بلانے والوں کی دعوت اور بلائے جانے والوں کا قبول کرنا انکو جہنم میں لیجانے اور آگے جانے کا سبب بنایا اور شبہ میں ڈالنے کے اقسام میں سے ہر قسم کو جہنم کے دروازوں میں ایک دروازہ کے درجہ میں قرار دیا۔ (مرقات)۔ 1 قوله : فمت (تو انتقال کرلے) گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گمنامی اور عزلت نشینی کو موت سے تعبیر فرمایا کیونکہ زندگی کی لذت عموماً شہرت اور میل ملاپ سے ہوتی ہے اور آپ کا فرمان: انت عاض على جذل شجرة (تم درخت کی جڑ کو دانتوں سے پکڑلو، عزلت نشینی کو اختیار کرلو) جذل الشجر درخت کی جڑ اور عض جذل الشجر مصائب برداشت کرنے سے کنایہ ہے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ : فتنة صماء الخ (بہرہ فتنہ) مطلب یہ ہے کہ وہ اس فتنہ کے زمانہ میں حق اور باطل کے درمیان تمیز نہیں کرینگے اور نصیحت نہیں سنینگے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی نہیں کریں گے بلکہ جو اس میں حق بات کہے گا اسکو تکلیف دی جائیگی اور وہ آزمائشوں اور مصائب میں گرفتار ہوگا۔ (مرقات)۔ 2 قولہ : فتنة الاحلاس (ٹاٹ کا فتنہ) حلس کا مطلب تو حدیث شریف میں معلوم ہوگیا فتنہ کی نسبت حلس کی طرف اسکے دوام کی وجہ سے ہے؛ کیونکہ ٹاٹ فرش کے کپڑے کے نیچے ہمیشہ رہتا ہے یا اسکو کدورت سے تشبیہ دینا ہے یا یہ نسبت صرف اس لئے ہے کہ ٹاٹ گھروں میں بچھائے اور پھیلائے جاتے ہیں پس اس میں اس زمانے میں گوشہ نشینی اختیار کرنے اور گھروں میں ہی رہنے کی طرف اشارہ ہے۔ فتنہ السراء رفع کے ساتھ مبتداء ہے اور ”دخنها“ اسکی خبر ہے ”هي هرب و حرب“ پر اس کا عطف ہے اور نصب سے بھی پڑھا گیا ہے تو اس صورت میں اس کا عطف فتنة الاحلاس پر ہوگا اور دخنها الخ یہ جملہ مستانفہ ہے یہ اس فتنہ کے بیان کے لئے لایا گیا ہے یعنی اسی فتنہ سراء کا سبب تعیشات کی کثرت اور دولت کی زیادتی سے طرب و سرور ہوگا، یا یہ اس لئے فتنہ سراء ہے کہ مسلمانوں کے دین میں خلل اور سستی کی وجہ سے کفار کو سرور، و خوشی ہوگی۔ (لمعات قدرے تغیر کے ساتھ)۔ 3 قولہ : دخنها من تحت قدمي رجل من اهل بيتي (اس کی ابتداء میرے اہل بیت کے ایک آدمی کے پیروں کے نیچے سے ہوگی) صاحب البذل مجہود نے کہا: جو بات مجھے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ فتنہ وہی ہے جو ماہ رمضان ۱۳۳۴ھ میں واقع ہوا اور اسکی وجہ یہ ہوئی کہ شریف حسین بن علی ۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ ۔۔ ترکوں کی حکومت میں انکی حکومت کا شریف تابعدار گورنر تھا، پھر جنگ عظیم کے زمانے میں نصاریٰ کی ایک سلطنت سے خط و کتابت کی اور یہ جنگ حکومت ترک اور حکومت نصاریٰ کے درمیان تھی پس اس نے نصرانی حکومت سے راز داری میں جا ملا اور ترکوں سے جنگ کرنے پر ان سے موافقت کر لیا اور مکہ مکرمہ میں رہنے والے ترکی لشکر کو قتل کیا اور انکی عورتوں کو قید کیا، پھر خود مختار حکومت بنا لیا اور خود کو ملک الحجاز کا نام دیا اور اسکی حکومت تقریباً دس سال رہی پھر اس کا معاملہ کمزور پڑ گیا تو لوگ اس کے بیٹے علی بن حسین سے حکومت پر مصالحت کر لے لیکن ان کا نظام مضبوط نہیں رہا اور یہ ایسا ہو گیا جیسے سرین چھپلی پر ہو، اس فتنہ کو فتنہ السراء سے موسوم کیا گیا کیونکہ اسکی بنیاد اور ان دونوں کی گفتگو کے اسباب پوشیدہ تھے کیونکہ نصرانی حکومت نے راز دارانہ طور پر اسکو مائل کیا اور ہزاروں روپات پوشیدہ طور پر اسکی طرف روانہ کیا تا کہ سلطنت اسلامی پر چڑھائی کرے اور اس سے منحرف ہو جائے، پھر ان روپات کو مختلف دیہاتوں میں تقسیم کیا اور مسلمان ترکوں سے جنگ کرنے پر ان سے اتفاق کر لیا اور یہ سب خفیہ طور پر ہوا، اتفاق سے مکہ میں موجود ترکی قائد کو اس فتنے کی کچھ خبر مل گئی تو وہ شریف کے سے اس کے بارے میں پوچھ گچھ کیا تو اس نے کعبہ کے پاس قسم کھائی کہ اس کی کوئی اصل نہیں یہاں تک کہ اس سے ترکی قائد مطمئن ہو گیا، پھر مسلمانوں کو قتل کرنے اور انکی عورتوں کو قید کرنے اور انکو کفار کے حوالے کرنے کا جو واقعہ بھی ہونا تھا ہوا۔ لا حول ولا قوة الا بالله العلي العظيم۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ” سراء“ سرور سے ہو، کیونکہ اس زمانے میں تجدیدات اور سخت تنگی اور انتہائی فقر کے بعد اہل عرب کے پاس روپات اور ہر قسم کے غلے اور کھانوں کی اس قدر کثرت ہوئی کہ تنگدست عربوں میں سے ایک شخص جو دو پیسے کا مالک نہیں تھا بیس ہزار جنیہ روپوں کا مالک ہو گیا اور یہ شخص عبید اللہ بن ہویمل حائزی ہے اسی طرح اور بھی دوسرے ہیں میں نے یہ بات علماء مدینہ منورہ کے ایک معتبر ثقہ عالم سے سنا ہے۔ 1 قولہ : كورك على ضلع (جو پسلی اور سرین کی طرح ہوگا) یہ ایک مثال ہے مطلب یہ ہے کہ وہ ثابت قدم نہ رہے گا کیونکہ سرین بوجھل ہونے کی وجہ سے پسلی پر اسکے باریک ہونے کی وجہ سے ثابت نہیں رہتی، معنی یہ ہے کہ وہ اپنی کم علمی اور کمزور رائے اور کم بردباری کی وجہ سے بادشاہت کا اہل نہ ہوگا۔ (مرقات)۔ 1 قولہ : فسطاط نفاق لا ايمان فيه (نفاق کا خیمہ جس میں کچھ بھی ایمان نہ ہوگا) اس سے مراد اصل ایمان ہے یا کمال ایمان ہے، اس میں منافقین کے اعمال جیسے جھوٹ، خیانت، عہد شکنی اور اس جیسی چیزیں ہونے کی وجہ سے ہے۔ (مرقات)۔ 2 قولہ : قوله كقطع الليل المظلم (تاریک رات کے ٹکڑوں کے جیسا) یعنی ہر فتنہ اپنی شدت اور تاریکی میں اور اس کا معاملہ غیر واضح ہونے میں تاریک رات کے ٹکڑے کی طرح ہوگا۔ (مرقات)۔ 3 قولہ : يمسى مؤمنا ويصبح كافرا (شام کرے گا ایمان کی حالت میں اور صبح کرے گا کافر ہو کر) راجح قول یہ ہے کہ اصباح اور امساء سے وقتاً فوقتاً لوگوں کی تبدیلی مراد ہے اس سے وہ خاص دو وقت مراد نہیں ہیں، اس میں کنایہ ہے کہ ان کے احوال بدلتے جائیں اور ان کی باتوں میں تذبذب ہوگا اور ان کے کام قسم قسم کے ہوتے جائیں گے، جیسے عہد کرنا توڑنا، امانت اور خیانت اچھائی اور برائی سنت و بدعت ایمان و کفر کہ ہر وقت ایک ایک قسم کا کام کریں گے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ : بادروا بالاعمال الخ (نیک کاموں میں جلدی کرو) اس کا خلاصہ یہ ہیکہ تاریک فتنے جیسے قتل و غارتگری ہے، مسلمانوں کے درمیان دین و دنیا کے معاملہ میں اختلافات کے رونما ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو، کیونکہ ان فتنوں میں کامل طور پر عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے، یہاں مراد فتنوں کی حالت کو تشدید دیکر بیان کرنا ہے کہ وہ زمانہ نہایت خراب اور برا ہے، فتنے کے سبب کا پتہ نہیں چلے گا فتنے سے نکلنے اور بچنے کا راستہ بھی معلوم نہیں ہوسکتا۔ (مرقات)۔ 1 قوله : خير مال المسلم (مسلمان کا بہترین مال) اگر آپ یہ کہیں کہ اس میں گوشہ نشینی افضل ہونا ثابت ہے اور اسلامی اصول و قواعد تو میل جول افضل ہونے کے متقاضی ہیں اسی لئے اہل محلہ کے میل جول کیلئے پنجگانہ نمازوں میں جماعت اور اہلیان شہر کے میل جول کیلئے جمعہ، شہر اور اس کے اطراف و اکناف کے افراد کے میل جول کے لئے عید اور اہل آفاق کے اجتماع کے لئے۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔۔ ۔۔باقی حاشیہ۔۔۔میدان عرفات کا وقوف مقرر کیا گیا، اسی لئے لفظ کو یعنی نہیں گرایا ہوا، پرچل جائے تو اس کو شہر سے گاؤں کی طرف لے جانا منع ہے اور اس کا عکس جائز ہے یعنی گاؤں سے شہر کو لانا جائز ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اوقات و احوال مختلف ہوتے ہیں تو نیک صالح ہمنشین تنہائی سے بہتر ہے اور تنہائی برے ہمنشین سے بہتر ہے۔ (کرمانی)۔ 1 قوله : تعفف (صبر کرو) صیغہ امر کے ساتھ ہے بھوک کی تکلیف میں صبر و عفت تقویٰ و پرہیزگاری اور حرام سے بچنے کو لازم کر لو۔ اسی طرح شبہ کی چیزوں سے اور مخلوق سے مانگنے اور مخلوق سے امید لگائے رکھنے اور اسکی ذلت و رسوائی سے بچو۔ (مرقات)۔ 2 قوله : انه يباع القبر بالعبد (قبر کو غلام کے عوض فروخت کیا جائیگا) یہ لفظ ”بیت“ سے ہونے والے ابہام کی وضاحت ہے ظاہریہ میں ہے یہاں پر بیت سے مراد قبر ہے حضور ﷺ کی مراد یہ ہے قبروں کی جگہ تنگ ہو جائیگی تو لوگ ہر قبر کو غلام کے عوض فروخت کریں گے۔ تورپشتی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: یہ قول محل نظر ہے اگرچہ کہ زندوں کو مسلسل موت آجائے اور ان میں پوری طرح سے پھیل جائے تب بھی وہ اس حد تک نہیں پہنچ سکتی؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے جگہ وسیع اور کشادہ بنا رکھا ہے اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ وہ قبور کیلئے مقررہ خاص مقام ہے عام طور پر عادت یہ ہے کہ لوگ اس علاقہ سے تجاوز نہیں کرتے شرح السنہ میں ہے اس کے مفہوم کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ قبر کھودنے بنانے والے اپنی صورت حالت کی بناء پر مردوں کی تدفین سے اعراض کریں گے، یہاں تک کہ قبر کھودنے اور تدفین کرنے والا کوئی نہیں ملے گا مگر یہ کہ اسکو ایک غلام یا ایک غلام کی قیمت ادا کی جائے۔ علامہ خطابی نے کہا: اس حدیث سے ان حضرات کا استدلال ہے جن کے پاس کفن چور کے ہاتھ کاٹنا واجب ہے کیونکہ حضور نبی کریمﷺ نے قبر کو بیت کہا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ گھروں کی طرح محفوظ مقام ہے۔ میں کہتا ہوں خصوصاً جب کہ یہ بات بھی ثابت ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے کفن چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا۔ لیکن، ہمارے اصحاب نے اسکو سیاست پر محمول کیا ہے۔ (مرقات) حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسی سے متعلق ایک دوسری جگہ فرمایا: قبر پر لفظ بیت کے حقیقۃ یا حکماً اطلاق کرنے سے اس کا محفوظ مقام ہونا لازم نہیں آتا، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کسی نے ایسے گھر سے کوئی چیز لے لی جس کا دروازہ بند نہیں تھا یا جس کا کوئی پہریدار نہیں تھا تو بلا کسی اختلاف اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ 1 قوله : تعمر الدماء احجار الزيت (خون ڈبو دے گا احجار زیت کو) تورپشتی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: وہ حرہ مقام ہے جہاں یزید کے زمانے میں سانحہ پیش آیا تھا اور اس سرکش افواج کے سربراہ مسلم بن عقبہ المری کے زمانے میں جس نے رسول اللہﷺ کے حرم پاک کو مباح قرار دیا تھا وہ اپنی فوج کے ساتھ مدینہ شریف کے حرہ مقام غربی جانب پر اُتر آیا تھا اس نے اسی حرمت کو جائز قرار دیا اور اس کے حضرات کو قتل کیا تین دن بعض روایات میں پانچ دن اس میں فساد پھیلایا رہا، تو یقیناً وہ ایسا گھل گیا جیسا کہ نمک پانی میں گھل جاتا ہے اور کچھ وقت نہیں گزرا جب کہ وہ حرمین شریفین کے درمیان تھا موت اسکو لپٹ لی اور باطل پرست وہاں پر خسارہ میں ہوگئے۔ (مرقات)۔ بذل المجہود میں ہے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حجاج نے مدینہ شریف کے علماء کبار کو شہید کیا، کہا جاتا ہے کہ اس نے دس ہزار علماء کا قتل کیا مولانا یحییٰ مرحوم نے ”التقریر“ میں اس کو تحریر کیا ہے۔ 1 قولہ: تعرض الفتن (فتنے آئیں گے یعنی آزمائش ومصائب) یہ بھی کہا گیا اس سے مراد فاسد عقائد اور باطل خواہشات ہیں۔ 2 قولہ: حدیثین (دو باتیں بیان فرمائیں) یعنی فتنے کے زمانہ میں۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ امانت کے معاملہ میں پیش آنے والی باتیں، اسی سے ان دونوں کو باب میں ذکر کرنے کی وجہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: پہلی روایت ’حدثنا ان الامانة نزلت الى اخره‘ آپ نے ہم کو بیان کیا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی جڑوں میں اتری (الیٰ آخرہ)۔ دوسری روایت ”حدثنا عن رفعها،“ (آپ نے ہم کو اس کے اٹھائے جانے کے بارے میں بیان فرمایا) امانت سے مراد وہ تکلیف ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو مکلف کیا ہے اور وہ عہد و پیمان جو ان سے لیا ہے۔ شارحین نے کہا جذر کل شئی اصله کے معنی کسی بھی چیز کی جڑ ہے یعنی امانت جو سب سے پہلے مردان خدا کے قلوب میں اتری اور ان پر جم گئی اور وہی کتاب و سنت کو تھامنے کا باعث ہوئی، حضور ﷺ کا قول ”ثم علموا“ کے یہی معنی ہیں اور حضور ﷺ کا قول ”النومة“، سونا و دیا تو اپنی حقیقت پر ہے جو اس کے بعد ہے وہ امر اضطراری ہے۔ نیند وہ کنایہ ہے ایسی غفلت سے جو برائی کے ارتکاب کا سبب بنتی ہے اور امانت و ایمان میں کمی کا باعث ہوتی ہے اور شرح مسلم میں ہے صاحب التحریر نے کہا: اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ امانت دلوں سے تھوڑی تھوڑی ختم ہو جائے گی جب اسکا پہلا حصہ زائل ہو جائے گا تو اسکا نور بھی زائل ہو جاتا ہے اور اس کے پیچھے چھالے کی طرح ایک تاریکی آ جاتی ہے اور وہ اپنے سے پہلے والے رنگ کے خلاف ایک نئے رنگ کا آ جانا ہے اور جب اس کے بعد کل حصہ زائل ہو جاتا ہے تو وہ آبلے کی طرح رہ جاتا ہے اور وہ ایک مضبوط دھبہ ہوتا ہے جو ایک مدت کے بعد ہی زائل ہوتا ہے اور یہ تاریکی پہلے والی سے بڑھ کر ہوتی ہے، پھر اس نور کے دل میں وقوع پذیر ہو کر زائل ہونے اور اس کے اس (دل) میں قرار پانے کے بعد نکلنے اور اس کے پیچھے تاریکی کے آ جانے کو ایک چنگاری سے تشبیہ دی جس کو وہ اپنے پیر پر ڈالتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس میں اثر انداز ہوتی ہے، پھر وہ چنگاری ہٹ جاتی ہے اور وہ آبلے کے مانند باقی رہ جاتا ہے جس کو تم پھولا ہوا اونچا اور بڑا پاتے ہو جس کے نیچے کچھ نہیں ہوتا۔ ہمارے علماء میں سے ایک شارح نے کہا کہ امانت کا دلوں سے اٹھا لیا جانا (امانت) والوں کیلئے ان کے ارتکاب کئے گئے گناہ کی سزا ہے یہاں تک کہ جب وہ اپنی نیند سے بیدار ہوتے ہیں تو وہ اپنے قلوب کو اسکی سابقہ حالت پر نہیں پاتے اور اس میں ایک دھبہ باقی رہ جاتا ہے کبھی تو وہ چھالے کی طرح ہوتا ہے اور کبھی آبلہ کی طرح جیسے کام کی وجہ ہاتھ پر گٹھا آ جانا ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔ 1 قوله : واختلفوا الخ (وہ آپس میں اختلاف کریں گے) وہ ایک دوسرے میں گڈمڈ پڑیں گے اور ان کے دین کا معاملہ مشتبہ ہو جائے گا تو امانت دار اور خائن نیک اور بد پہچانے نہیں جائیں گے۔ (مرقات)۔ 1 قوله : يتقارب الزمان (زمانہ قریب قریب ہو جائے گا) یعنی دنیا و آخرت کا زمانہ قریب ہو جائے گا اس سے مراد قیامت کا قریب ہونا ہے علامہ تورپشتی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اس سے حضور ﷺ کی مراد قرب قیامت ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے حضور ﷺ کی مراد زمانہ والوں کا شر میں بعض کا بعض سے قریب ہونا ہے، یا نفس زمانہ کا ایک دوسرے سے شر میں قریب ہونا ہے یہاں تک کہ پہلا اور آخری ایک دوسرے کے مشابہ ہو جائیں گے یہ بھی کہا گیا کہ اہل (زمانہ) کی عمریں کم ہو جائیں گی یہ بھی احتمال ہے کہ یہ کنایہ ہے کہ کثرت سے نافرمانی کی وجہ سے زمانہ میں برکت کم ہو جائے گی۔ علامہ قاضی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اس میں احتمال ہے اس کی مراد یہ ہے کہ حکومتیں اور زمانے ختم ہونے کو ہوں گے تو ان کا زمانہ قریب ہو جائے گا اور ان کا وقت بھی قریب آ جائے گا۔ (مرقات)۔ 2 قوله : القاتل والمقتول في النار (قاتل و مقتول دوزخ میں ہوں گے) امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اب رہا قاتل تو ظاہر ہے اور مقتول کیوں کہ وہ اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اس میں صحیح اور مشہور مذہب کی دلیل موجود ہے کہ جو برائی کی نیت کیا اور اسی نیت پر مصر رہا تو گناہ گار ہوگا اگرچہ وہ اس پر عمل نہ کیا ہو اور اس کو بولابھی نہ ہو۔ (مرقات)۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دوسری جگہ کہا: قاتل اور مقتول کا اہل دوزخ سے ہونا یہ ایسے شخص پر محمول کیا جائے جس کیلئے کوئی تاویل نہیں ہے اور دونوں کا لڑنا عصبیت وغیرہ۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔ کی وجہ سے ہوگا، پھر اس کے آگ میں ہونے کا مطلب یہ ہے وہ اس کا مستحق ہوگیا ہے ہوسکتا ہے اس کی سزا دی جائے اور ہوسکتا اللہ تعالیٰ اس کو درگزر فرمائے اور یہ اہل حق کا مذہب ہے، اس پر اس جیسے اور امور کی اسی طرح تاویل کی جائے گی، اس بات کو جان لو کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے درمیان جو خون بہا وہ اس وعید میں داخل نہیں ہے۔ اہل سنت وحق کا مذہب یہ ہے کہ ان سے متعلق اچھا گمان کیا جائے جو امور ان کے درمیان رونما ہوئے ان چیزوں سے کف لسان کیا جائے اور ان کے درمیان جنگوں کی اچھی تاویل کی جائے گی جب یہ سب حضرات مجتہد ہیں اور وہ اس کی اچھی تاویل رکھتے ہیں انہوں نے نہ کسی نافرمانی کا قصد کیا اور نہ دنیا کا بلکہ ہر فریق نے یہی اعتقاد رکھا کہ وہ حق پر ہے اور ان کا مخالف باغی ہے جس سے لڑنا واجب ہے تاکہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ کر آ جائیں ان میں سے بعض حق پر تھے اور بعض اجتہادی خطا پر تھے اور اس خطا میں وہ معذور ہیں؛ کیونکہ وہ اجتہاد کی وجہ سے تھا اور جب مجتہد خطا کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ان جنگوں میں حق اور درستگی پر تھے یہ اہل سنت کا مذہب ہے، معاملات مشتبہ تھے یہاں تک کہ صحابہ کی ایک جماعت حیران تھی اور انہوں نے دونوں جماعتوں سے علیحدگی اختیار کی اور قتال نہیں کئے اور انہیں صواب کا یقین نہیں ہوا۔ 1 قوله : في الهرج (عام فتنہ) یعنی کہ فتنہ اور مسلمانوں کے درمیان جنگوں کے زمانہ میں۔ (مرقات)۔ 1 قوله : قوله فواه (کس قدر اچھا ہے) اس کے معنی حسرت و رنج کرنے کے ہیں اور کبھی کسی چیز پر خوش ہونے اور اچھا سمجھنے کے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی کیا ہی خوب اور کیا ہی اچھا اس کا صبر ہے جس نے صبر کیا اور یہ بھی کہا گیا کہ اس کے معنی ”اس کیلئے خوشخبری ہے“۔ 2 قوله : فلم يبق من اصحاب بدر احد (اصحاب بدر سے کوئی باقی نہیں رہا) یعنی وہ لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے فتنے سے واقعہ حرہ کے فتنے تک انتقال کر گئے، کیونکہ وہ سب اس فتنے میں شہید کئے گئے اور حضرات بدریین میں جنہوں نے سب سے اخیر میں انتقال کیا وہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہیں وہ واقعہ حرہ سے چند سال پہلے وصال فرمائے، اس کا خلاصہ یہ ہے --- بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر--- ۔۔۔ باقی حاشیہ ۔۔۔ کہ وہ دو مرتبہ فتنہ میں مبتلا نہیں ہوئے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر کی برکت سے ان کی حفاظت و صیانت فرمائی حضور ﷺ کا قول پھر تیرا فتنہ واقع ہوگا کہا گیا تیرے فتنے سے مراد ابن حمزہ خارجی کا خروج کرنا جو مروان بن محمد بن مروان بن حکم کے زمانے میں ہوا اور یہ بھی کہا گیا کہ ازارقہ کا فتنہ ہے لیکن پہلا قول مناسب ہے کیونکہ وہ مدینہ شریف کے ساتھ مخصوص ہے اور ازارقہ کا فتنہ اس کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ ظاہر حدیث سے پہلے دو فتنوں کی طرح اس فتنہ کا بھی اختصاص سمجھ میں آتا ہے جیسا کہ حواشی میں ہے۔ (لمعات)۔ 1 قوله : على يدى غلمة من قريش (قریش کے چند نوجوان لڑکوں کے ہاتھ پر ہلاکت ہوگی) علامہ مظہر نے کہا: ہوسکتا ہے ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو خلفاء راشدین کے بعد تھے جیسے یزید اور عبدالملک بن مروان اور ان کے علاوہ۔ (مرقات)۔ 2 قوله : لم يرفع الخ (تلوار نہیں اٹھائی جائے گی) اگر وہ ایک شہر میں نہیں چلی تو کسی دوسرے شہر میں چلتی رہے گی۔ (مرقات)۔

Hadith 5158

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٥٨ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: وَاللهِ مَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَصْحَابِي أَمْ تَنَاسَوْا وَاللَّهِ مَا تَرَكَ رَسُوْلُ اللهِ مِنْ قَائِدِ1 فِتْنَةٍ إِلَى أَنْ تَنْقَضِيَ الدُّنْيَا يَبْلُغُ مَنْ مَعَهُ ثَلَاثَ مِائَةٍ فَصَاعِدًا إِلَّا قَدْ سَمَّاهُ لَنَا بِاسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ وَاسْمِ قَبِيلَتِهِ». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4243 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

leader of a trial

(1) His statement: “leader of a trial” – meaning a caller to misguidance and an instigator of innovation. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : قائد فتنة : أي داعي ضلالة وباعث بدعة. كذا في «المرقاة».

Hadith 5159

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٥٩ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ ﷺ عَنِ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرِّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ، فَهَلْ 1 بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرِّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَفِيهِ دَخَنٌ قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟ قَالَ: قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي، وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي، تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ قُلْتُ: فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرِّ؟ قَالَ: «نَعَمْ، دُعَاةٌ إِلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا، فَقَالَ: «هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ: «تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ»، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامُ، قَالَ: «فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: قَالَ: «يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةً لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ قَالَ حُذَيْفَةُ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ وَأُخِذَ مَالُكَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ».
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3606 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1847a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Is there after this good any evil

(1) His statement: “Is there after this good any evil” – it is said: The first evil refers to the trials that occurred during the killing of Uthman (may Allah be pleased with him) and afterward. The second good refers to what occurred during the caliphate of Umar ibn Abd Al-Aziz (may Allah be pleased with him). Those “you recognize and disapprove of” refer to the rulers after him, some adhering to the Sunnah and justice, others calling to innovation and acting unjustly, or some doing good at times and evil at others, depending on their pursuit of desires and worldly goals, not aiming to prioritize the Hereafter or uphold it, as some rulers of our time do. Alternatively, the first evil refers to the trial of Uthman and what followed, the second good to the reconciliation of Al-Hasan with Muawiyah and the consensus upon him, and the taint to what occurred in his time from some rulers like Ziyad in Iraq and the opposition of the Khawarij. His statement: “callers at the gates of Hell” – the plural of caller. Al-Ashraf said: A group calling people to misguidance and blocking them from guidance through various deceptions, from good to evil, Sunnah to innovation, and asceticism to worldly desire. The Prophet (ﷺ) made the callers’ invitation and the response of the invited a cause for casting them into Hell and their entry into it, likening each type of deception to a gate of Hell. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : فهل بعد هذا الخير من شر إلخ : قيل : المرد بالشر الأول الفتن التي وقعت عند قتل عثمان الله وما بعده، وبالخير الثاني ما وقع في خلافة عمر بن عبد العزيز الله وبالذين تعرف منهم وتنكر الأمراء بعده، فكان فيهم من يتمسك بالسنة والعدل، ومنهم من يدعو إلى البدعة ويعمل بالجور، أو ومنهم من يعمل بالمعروف تارة ويعمل بالمنكر أخرى، بحسب ما يقع لهم من تتبع الهوى وتحصيل غرضهم من أمور الدنيا، لا أنهم يريدون تحري الأخرى، ورعاية الدار الأخرى كما عليه بعض أمراء زماننا. وقيل: المراد من الشر الأول فتنة عثمان الله وما بعده، وبالخير الثاني ما وقع من صلح الحسن مع معاوية والإجماع عليه، وبالدخن ما كان في زمنه من بعض الأمراء كزياد بالعراق، وخلاف من خالف عليه من الخوارج. وقوله: دعاة على أبواب جهنم جمع داع، قال الأشرف أي جماعة يدعون الناس إلى الضلالة ويصدونهم عن الهدى بأنواع من التلبيس، ومن الخير إلى الشر، ومن السنة إلى البدعة، ومن الزهد إلى الرغبة، جعل النبي دعوة الدعاة وإجابة المدعوين سببًا لإدخالهم إياهم في جهنم ودخولهم فيها، وجعل كل نوع من أنواع التلبيس بمنزلة باب من أبواب جهنم. كذا في «المرقاة».

Hadith 5170

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٧٠ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ أَيَكُوْنُ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَةُ؟ قَالَ: «السَّيْفُ» قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ هَذَا السَّيْفِ بَقِيَّةٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ، تَكُوْنُ إِمَارَةً عَلَى أَقْذَاءٍ وَهُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «ثُمَّ تَنْشَأُ دُعَاةُ الضَّلَالَةِ فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ يَوْمَئِذٍ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ جَلَدَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ فَأَطِعْهُ وَإِلَّا فَمُتْ1 وَأَنْتَ عَاضٌ عَلَى جِذْلِ شَجَرَةٍ قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «يَخْرُجُ الدَّجَّالُ بَعْدَ ذَلِكَ، مَعَهُ نَهَرُ وَنَارُ، فَمَنْ وَقَعَ فِي نَارِهِ وَجَبَ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ، وَمَنْ وَقَعَ فِي نَهَرِهِ وَجَبَ وِزْرُهُ وَحُطَ أَجْرُهُ» قَالَ: قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «ثُمَّ يُنْتَجُ الْمُهْرُ ، فَلَا يُرْكَبُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ». وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ وَجَمَاعَةً عَلَى أَقْدَاءٍ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْهُدْنَةُ عَلَى الدَّخَنِ مَا هِيَ؟ قَالَ: «لَا تَرْجِعُ قُلُوبُ أَقْوَامٍ عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ قُلْتُ: هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ ، عَلَيْهَا دُعَاةُ عَلَى أَبْوَابِ النَّارِ، فَإِنْ مِتَّ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٌ عَلَى جِذْلٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتَّبِعَ أَحَدًا مِنْهُمْ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. .
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4244 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

die

(1) His statement: “die” – it is as if he expressed obscurity and isolation with death, for the greatest pleasure of life comes from fame, mingling, and prominence. His statement: “biting onto the root of a tree” – the root being its base – is a metaphor for enduring hardships. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فمت: كأنه عبر عن الخمول والعزلة بالموت؛ فإن غالب لذة الحياة تكون بالشهرة والخلطة والجلوة. وقوله: وأنت عاض على جذل شجرة وعض جذل الشجرة - وهو أصلها - كناية عن مكابدة الشدائد. كذا في «المرقاة».

Hadith 5171

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٧١ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «سَتَكُونُ فِتْنَةٌ1 صَمَّاءُ بَكْمَاءُ عَمْيَاءُ، مَنْ أَشْرَفَ لَهَا اسْتَشْرَفَتْ لَهُ، وَإِشْرَافُ اللِّسَانِ فِيهَا كَوُقُوعِ السَّيْفِ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4264 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

a trial, deaf, mute, and blind

(1) His statement: “a trial, deaf, mute, and blind” – meaning they do not distinguish between truth and falsehood in it, nor hear advice or the command to good and prohibition of evil. Rather, whoever speaks the truth in it is harmed and falls into trials and afflictions. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فتنة صماء إلخ والمعنى لا يميزون فيها بين الحق والباطل، ولا يسمعون النصيحة والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، بل من تكلم فيها بحق أوذي ووقع في الفتن والمحن كذا في «المرقاة».

Hadith 5172

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٧٢ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ فَذَكَرَ الْفِتَنَ فَأَكْثَرَ فِي ذِكْرِهَا حَتَّى ذَكَرَ فِتْنَةَ 1 الْأَحْلَاسِ فَقَالَ قَائِلٌ: وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ؟ قَالَ: هِيَ هَرَبٌ وَحَرْبٌ ثُمَّ فِتْنَةُ السَّرَّاءِ دَخَنُهَا2 مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَزْعُمُ أَنَّهُ مِنِّي وَلَيْسَ مِنِّي، وَإِنَّمَا أَوْلِيَائِي الْمُتَّقُونَ، ثُمَّ يَصْطَلِحُ النَّاسُ عَلَى رَجُلٍ كَوَرِكِ3 عَلَى ضِلَعٍ، ثُمَّ فِتْنَةُ الدُّهَيْمَاءِ، لَا تَدَعُ أَحَدًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا لَطَمَتْهُ لَطْمَةً، فَإِذَا قِيلَ: انْقَضَتْ تَمَادَتْ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، حَتَّى يَصِيرَ النَّاسُ إِلَى فُسْطَاطَيْنِ: فُسْطَاطِ إِيمَانٍ لا نِفَاقَ فِيهِ ، وَفُسْطَاطِ4 نِفَاقٍ لَا إِيمَانَ فِيهِ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَانْتَظِرُوا الدَّجَّالَ مِنْ يَوْمِهِ أَوْ مِنْ غَدِهِ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4242 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 5403 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 5403

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (8)

Note 1

trial of Al-Ahlas

(1) His statement: “trial of Al-Ahlas” – the meaning of Ahlas is known, and the trial is attributed to it due to its persistence, as Ahlas remains constantly under clothing, or likened to it in its murkiness, or because Ahlas is spread in homes, indicating the necessity of staying home and isolating in that time. The trial of As-Sarra is the subject, and “its taint” is its predicate, conjoined with “It is flight and war.” It is also narrated with the accusative, conjoined with “trial of Al-Ahlas.” “Its taint” is an independent clause explaining it, meaning the cause of its occurrence is excessive prosperity, abundant wealth, or because it delights the disbelievers due to the flaw in religion and weakness among Muslims. (As stated in Al-Lama’at with modifications)

Note 2

its taint coming from beneath the feet of a man from my household

(2) His statement: “its taint coming from beneath the feet of a man from my household” – the author of Bazl Al-Majhud said: It appears to me that this is the trial that occurred in Ramadan of the year 1334 AH, caused by Sharif Husayn ibn Ali, who was a governor under the Ottoman rule, then secretly corresponded with a Christian state during the great war between the Ottoman state and the Christian state. He joined the Christian state secretly, agreed with them to fight the Ottomans, killed the Ottoman soldiers in Mecca, and took their women captive. He then assumed rule, calling himself King of the Hijaz, and his rule lasted about ten years before collapsing. People reconciled on his son, Ali ibn Al-Husayn, but his rule was unstable, like a hip on a rib. This trial was called As-Sarra because its foundation and causes were secret. The Christian state enticed him secretly, sending him thousands in secret to rebel against the Islamic state and deviate from it. He distributed some of these funds among the Bedouins, agreeing with them to fight the Muslim Ottomans, all in secret. The Ottoman commander in Mecca learned of some of this trial and asked the Sharif about it, who swore at the Ka‘bah that it was baseless, reassuring the commander. Then what happened occurred: the killing of Muslims, capturing their women, and sending them to the disbelievers. There is no power or strength except with Allah, the Exalted, the Mighty. It is also possible that As-Sarra refers to joy, as after severe siege and hardship, money, grains, and food were distributed to the Arabs after extreme poverty, such that one of the poorest Bedouins, who did not own two coins, owned forty-eight thousand, like Ubayd Allah ibn Huwaymil Al-Hazimi, and others. I heard this from a scholar of Medina known to me for trustworthiness and precision.

Note 3

like a hip on a rib

(3) His statement: “like a hip on a rib” – a metaphor, meaning he is unstable, as a hip, due to its weight, does not stay firm on a rib due to its thinness. It means he is unfit for leadership due to lack of knowledge, weak judgment, and patience. (As stated in Al-Mirqat)

Note 4

a camp of hypocrisy with no faith

(4) His statement: “a camp of hypocrisy with no faith” – meaning none at all or incomplete, due to the actions of hypocrites like lying, betrayal, breaking covenants, and the like. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فتنة الأحلاس : قد علم معنى الحلس، وإنما أضيفت الفتنة إليها لدوامها؛ لأن الحلس يبقى تحت الثياب دائما، أو تشبيها به في الكدرة، أو بمجرد أن الأحلاس تفرش وتبسط في البيوت، ففيه إشارة إلى التزام البيوت والعزلة في ذلك الزمان. وفتنة السراء بالرفع مبتدأ، و «دخنها خبره، فهو عطف على جملة هي هرب وحرب، ويروى بالنصب عطفا على فتنة الأحلاس»، و«دخنها» إلخ جملة مستأنفة لبيانها، أي السبب في وقوعها السرور كثرة النعم وفضول الأموال، أو لأنها تسر الكفار لوقع الخلل في الدين والفترة في المسلمين. كذا في «اللمعات» مع تغير.

Note 2

قوله

(۲) قوله : دخنها من تحت قدمي رجل من أهل بيتي إلخ قال صاحب البذل المجهود والذي يظهر لي أنه هي الفتنة التي حدثت في رمضان سَنَةَ ألف وثلاث مائة وأربع وثلاثين، ومنشؤها أن الشريف حسين بن علي كان في زمن حكومة الأتراك شريفا تابعا لحكومتهم، ثم راسل إحدى سلطنة من النصارى في زمان الحرب الكبير، وكان الحرب بين سلطنة الأتراك وحكومة النصرانية فلحق بالحكومة النصرانية سرّا و وافق معهم على حرب الأتراك، فقتل الأتراك الذين كانوا في مكة المكرمة من جند الأتراك وسبى نساءهم، ثم تولى الحكومة بنفسه، وسمى نفسه ملك الحجاز، وبقي حكومته قريبا من عشر سنين، ثم اضمحل أمره واصطلح الناس على حكومة ابنه علي بن الحسين، ولم ينتظم له أمر، فبقي كورك على ضلع. وإنما سميت هذه الفتنة فتنة السراء؛ لأن مبناها وأسباب حديثهما كانت في السر، فإن الحكومة النصرانية أماله إليها سرا، وأرسل إليها من الجنيات ألوفًا في السر ، ليبغي على حكومة الإسلام وينحرف عنها، فقسم من هذه الجنيات في أهل البدو، وتوافق معهم على قتال الأتراك المسلمين، وكل ذلك في السر، واتفق أن قائد الأتراك الذي كان بمكة أخبر بشيء من هذه الفتنة، فسأل الشريف عنها، فحلف عند الكعبة أنه لا أصل له حتى اطمأن قائد الأتراك، ثم وقع ما وقع من قتل المسلمين وسبى نسائهم وإرسالهم إلى الكفار، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم. ويحتمل أن يكون السراء من السرور؛ لأن في ذلك الزمان بعد الحصار والمضايقة الشديدة نثرت على العرب الجنيات والحبوب وسائر الأطعمة بعد الفقر الشديد، حتى أن أحدهم من أفقر العربان لا يملك جنيتين ملك ثمانية وأربعين ألف جنيا، وهو عبيد الله بن هويمل الحازمي، وكذلك غيره سمعت هذا من أحد علماء المدينة كان عندي موصوفا بالثقة والإتقان.

Note 3

قوله

(۳) قوله: كورك على ضلع وهذا مثل، والمراد أنه لا يكون على ثبات؛ لأن الورك لثقله لا يثبت على الضلع لدقته، والمعنى أنه يكون غير أهل الولاية لقلة علمه وخفة رأيه وحلمه. كذا في «المرقاة».

Note 4

قوله

(٤) قوله: فسطاط نفاق لا إيمان فيه : أي أصلا أو كمالا، لما فيه من أعمال المنافقين من الكذب والخيانة ونقض العهد وأمثال ذلك. كذا في «المرقاة».

Hadith 5173

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٧٣ - وَعَنْ أَبِي مُوسَى (رضي الله عنه) عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنَّا كَقِطَعِ1 اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي2 مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي فَكَسِّرُوا قِسِيَّكُمْ وَقَطَّعُوا أَوْتَارَكُمْ، وَاضْرِبُوا سُيُوفَكُمْ بِالْحِجَارَةِ، فَإِنْ دُخِلَ عَلَى أَحَدٍ مِنْكُمْ فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: ذُكِرَ إِلَى قَوْلِهِ: خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ثُمَّ قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «كُونُوا أَحْلَاسَ بُيُوتِكُمْ». وَفِي رِوَايَةِ التَّرْمِذِيِّ: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ فِي الْفِتْنَةِ: «كَسَّرُوا فِيهَا قِسِيَّكُمْ، وَقَطَّعُوا فِيهَا أَوْتَارَكُمْ، وَالْزَمُوا فِيهَا أَجْوَافَ بُيُوتِكُمْ، وَكُونُوا كَابْنِ آدَمَ»، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثُ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4259 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2204 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

like patches of dark night

(1) His statement: “like patches of dark night” – meaning each trial is like a patch of dark night in its severity, darkness, and inability to discern its matter. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

a believer in the evening and a disbeliever by morning

(2) His statement: “a believer in the evening and a disbeliever by morning” – the apparent meaning is that it refers to people’s shifting states at times, not specific to these times, as a metaphor for their fluctuating conditions, wavering statements, and varied actions between keeping and breaking promises, trustworthiness and betrayal, good and evil, Sunnah and innovation, faith and disbelief. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: كقطع الليل المظلم : أي كل فتنة كقطعة من الليل المظلم في شدتها وظلمتها وعدم تبين أمرها. كذا في «المرقاة».

Note 2

(۲) قوله يمسي مؤمنا ويصبح كافرا والظاهر أن المراد بالإصباح والإمساء تقلب الناس فيها وقتا دون وقت لا بخصوص الزمانين، فكأنه كناية عن تردد أحوالهم وتذبذب أقوالهم وتنوع أفعالهم من عهد ونقض وأمانة وخيانة ومعروف ومنكر وسنة وبدعة وإيمان وكفر. كذا في «المرقاة».

Hadith 5174

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٧٤ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ : بَادِرُوا 1 بِالْأَعْمَالِ فِتَنَّا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا». رَوَاهُ مُسْلِمٌ .
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 118 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Hasten to do good deeds

(1) His statement: “Hasten to do good deeds” – the meaning is: Hurry to perform righteous deeds before the arrival of dark trials of killing, plundering, and discord among Muslims in matters of the world and religion, for you will not be able to perform deeds perfectly in them. The metaphor illustrates the trials’ dreadful and severe nature, their unknown causes, and the lack of a clear path to escape or purpose. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: بادروا بالأعمال إلخ وحاصل المعنى: تعجلوا بالأعمال الصالحة قبل مجيء الفتن المظلمة من القتل والنهب والاختلاف بين المسلمين في أمر الدنيا والدين، فإنكم لا تطيقون الأعمال على وجه الكمال فيها، والمراد من التشبيه بيان حال الفتن من حيث إنه بشيع فظيع، ولا يعرف سببها، ولا طريق الخلوص، والمراد منها. كذا في «المرقاة».

Hadith 5175

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٧٥ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : سَتَكُونُ فِتَنَّ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفْهُ، فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأَ أَوْ مَعَاذَا فَلْيَعُذْ بِهِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: قَالَ: «تَكُوْنُ فِتْنَةٌ، النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْيَقْطَانِ، وَالْيَقْظَانُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأَ أَوْ مَعَاذًا فَلْيَسْتَعِذْ بِهِ».
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7081 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2886a (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2886b (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 5176

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٧٦ - وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنُ، أَلَا ثُمَّ تَكُونُ فِتْنَةُ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي فِيهَا ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي إِلَيْهَا. أَلَا فَإِذَا وَقَعَتْ فَمَنْ كَانَ لَهُ إِبِلُ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمُ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضُ فَلْيَلْحَقُ بِأَرْضِهِ»، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللهِ! أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِبِلُ وَلَا غَنَمُ وَلَا أَرْضُ؟ قَالَ: «يَعْمِدُ إِلَى سَيْفِهِ، فَيَدُقُّ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنْ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ، اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ثَلَاثًا، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ أُكْرِهْتُ حَتَّى يُنْطَلَقَ بِي إِلَى أَحَدِ الصَّفَّيْنِ فَضَرَبَنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ أَوْ يَجِيءُ سَهْمُ فَيَقْتُلُنِي؟ قَالَ: «يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِكَ، وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2887 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 5177

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٧٧ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ1 غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 19 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7088 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

the best wealth of a Muslim

(1) His statement: “the best wealth of a Muslim” – if you say: It suggests isolation is preferable, yet Islamic principles prioritize mingling, as evidenced by the congregation for prayers for the people of a locality, Friday prayer for the people of a town, Eid for the people of the countryside, standing at Arafat for people of all regions, and the prohibition of moving a foundling from a city to a village but allowing the reverse. I say: Times and circumstances differ. A righteous companion is better than solitude, and solitude is better than a corrupt companion, as Al-Kirmani said.

Note 1

قوله

(۱) قوله : خير مال المسلم إلخ فإن قلت فيه أن الاعتزال أولى، والقواعد الإسلامية تقتضي أولوية الاختلاط، ولهذا شرع الجماعة في الصلوات لاختلاط أهل المحلة، والجمعة لأهل البلد، والعيد لأهل السواد، والوقوف بعرفات لأهل الآفاق، ومنع نقل اللقيط من البلد إلى القرية وجواز العكس. قلت: الأوقات والأحوال مختلفة، فالجليس الصالحخير من الوحدة، وهي من الجليس الطالح، قاله الكرماني.

Hadith 5178

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٧٨ - وَعَنْ أُمِّ مَالِكِ الْبَهْزِيَّةِ (رضي الله عنها)، قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ خَيْرُ النَّاسِ فِيهَا؟ قَالَ: رَجُلٌ فِي مَاشِيَتِهِ يُؤَدِّي حَقَّهَا وَيَعْبُدُ رَبَّهُ، وَرَجُلٌ آخِذُ بِرَأْسِ فَرَسِهِ يُخِيفُ الْعَدُوَّ وَيُخِيفُونَهُ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2177 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 5179

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٧٩ - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ (رضي الله عنه)، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفًا خَلْفَ رَسُوْلِ اللَّهِ ﷺ يَوْمًا عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا جَاوَزْنَا بُيُوتَ الْمَدِينَةِ قَالَ: كَيْفَ بِكَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ جُوْعٌ تَقُوْمُ عَنْ فِرَاشِكَ وَلَا تَبْلُغُ مَسْجِدَكَ حَتَّى يَجْهَدَكَ الْجُوْعُ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: تَعَفَّفْ1 يَا أَبَا ذَرٍّ قَالَ: كَيْفَ بِكَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ مَوْتُ يَبْلُغُ الْبَيْتَ الْعَبْدُ حَتَّى أَنَّهُ2 يُبَاعُ الْقَبْرُ بِالْعَبْدِ»، قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «تَصَبَّرْ يَا أَبَا ذَرٍّ قَالَ: كَيْفَ بِكَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا كَانَ بِالْمَدِينَة قَتْلٌ تَغْمُرُ 3 الدَّمَاءُ أَحْجَارَ الزَّيْتِ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «تَأْتِي مَنْ أَنْتَ مِنْهُ قَالَ: قُلْتُ: وَأبس السَّلَاحُ؟ قَالَ: «شَارَكْتَ الْقَوْمَ إِذَا»، قُلْتُ: فَكَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ: «إِنْ خَشِيْتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ فَأَلْقِ نَاحِيَةَ ثَوْبِكَ عَلَى وَجْهِكَ لِيَبُوءَ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4261 (unverified) 86% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (6)

Note 1

Remain chaste

(1) His statement: “Remain chaste” – in the imperative form, meaning adhere to chastity, endure the harm of hunger, maintain piety, refrain from the forbidden and doubtful, and avoid asking or desiring from people or humiliating oneself before them. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

even a grave is sold for a slave

(2) His statement: “even a grave is sold for a slave” – this clarifies the ambiguity of “house” before it. In An-Nihayah: The “house” here refers to the grave, meaning burial places become scarce, so each grave is bought with a slave. Al-Turpushti said: This is questionable, as even if death spreads widely among the living, it would not reach that extent, and Allah has provided ample places. It was answered that the intended burial place is the known cemetery, as it is customary not to go beyond it. In Sharh As-Sunnah: It is said the meaning is that grave robbers are preoccupied, so no one digs a grave for the dead unless given a slave or its value. Al-Khattabi said: This Hadith may be used to argue for the obligation of cutting off the hand of a grave robber, as the Prophet (ﷺ) called the grave a house, indicating it is a protected space like homes. I say: Especially since it is established that the hand of a grave robber is cut off, though our scholars interpret it as a matter of governance. (As stated in Al-Mirqat) Ali Al-Qari said elsewhere in it: Calling a grave a house, literally or legally, does not necessitate it being a protected space. Do you not see that if someone takes something from a house without a locked door or guard, their hand is not cut off, without dispute.

Note 3

blood engulfs the stones of oil

(3) His statement: “blood engulfs the stones of oil” – Al-Turpushti said: This refers to the Harrah event during Yazid’s time, led by Muslim ibn Uqbah Al-Murri, who violated the sanctity of the Messenger of Allah (ﷺ). He camped with his army in the western Harrah of Medina, desecrated its sanctity, killed its men, and ravaged it for three days, or some say five. Thus, he melted away as salt dissolves in water and soon died between the Two Sanctuaries, where the falsifiers were ruined. (As stated in Al-Mirqat) In Bazl Al-Majhud: This was when Al-Hajjaj killed prominent scholars of Medina; it is said he killed ten thousand scholars, as written by Mawlana Muhammad Yahya, the deceased, in his commentary.

Note 1

قوله

(۱) قوله: تعفف بصيغة الأمر: أي التزم العفة والتصبر على أذى الجوع والتقوى والكف عن الحرام والشبهة، وعن السؤال من المخلوق والطمع فيه والمذلة عنده. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله : أنه يباع القبر بالعبد: هذا توضيح لما قبله من إبهام البيت، ففي النهاية»: المراد بالبيت ههنا القبر، وأراد أن موضع القبور يضيق فيبتاعون كل قبر بعبد، قال التوربشتي : وفيه نظر؛ لأن الموت وإن استمر بالأحياء وفشا فيهم كل الفشو لم ينته بهم إلى ذلك، وقد وسع الله عليهم الأمكنة، انتهى كلامه وأجيب بأن المراد بموضع القبور الجبانة المعهودة، وقد جرت العادة بأنهم لا يتجاوزون عنها. وفي شرح السنة: قيل : معناه أن النباش يشتغلون عن دفن الموتى بما هم فيه حتى لا يوجد من يحفر قبر الميت، فيدفنه إلا أن يعطي عبدا أو قيمة عبد. قال الخطابي: قد يحتج بهذا الحديث من يذهب إلى وجوب قطع النباش، وذلك أن النبي ﷺ سمى القبر بيتا، فدل على أنه حرز كالبيوت. قلت: لا سيما وقد ثبت أنه القطع النباش، لكن حمله أصحابنا على أنه للسياسة. كذا في المرقاة». وقال علي القاري في موضع آخر منه لا يلزم من جواز إطلاق البيت على القبر حقيقة أو حكما أن يكون حرزًا، ألا ترى أنه لو أخذ أحد شيئا من بيت لم يكن له باب مغلق أو حارس لم يقطع بلا خلاف.

Note 3

قوله

(۳) قوله: تغمر الدماء أحجاز الزيت قال التوربشتي لله هي من الحرة التي كانت بها الوقعة زمن يزيد، والأمير على تلك الجيوش العاتية مسلم بن عقبة المري المستبيح بحرم رسول الله ، وكان نزوله بعسكره في الحرة الغربية من المدينة، فاستباح حرمتها وقتل رجالها وعاث فيها ثلاثة أيام. وقيل: خمسة، فلا جرم أنه انماع كما ينماع الملح في الماء ولم يلبث أن أدركه الموت، وهو بين الحرمين وخسر هناك المبطلون كذا في «المرقاة». وقال في بذل المجهود وكان ذلك حين قتل الحجاج كبار علماء المدينة، يقال: إنه قتل عشرة آلاف من العلماء، كتبه مولانا محمد يحيى المرحوم في التقرير .

Hadith 5180

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٨٠ - وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: أَشْرَفَ النَّبِيُّ ﷺ عَلَى أُطْمٍ مِنْ أَطَامِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ: «هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى؟» قَالُوا: لَا ، قَالَ: «إِنِّي لَأَرَى مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7060 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2885 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 5181

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٨١ - وَعَنْ حُذَيْفَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «تُعْرَضُ1 الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ كَالحَصِيرِ عُودًا عُودًا، فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ، وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ، حَتَّى تَصِيرَ عَلَى قَلْبَيْنِ عَلَى أَبْيَضَ مِثْلِ الصَّفَا، فَلَا تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، وَالْآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًا كَالْكُوزِ مُجَنِّيًا، لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا، إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 144a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Trials are presented

(1) His statement: “Trials are presented” – meaning afflictions and hardships. It is said: Corrupt beliefs and base desires. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: تعرض الفتن: أي البلايا والمحن. وقيل: العقائد الفاسدة والأهواء الكاسدة. كذا في «المرقاة».

Hadith 5182

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٨٢ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ حَدِيثَيْنِ1 رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ، حَدَّثَنَا أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَدْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ، ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ، وَحَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا، قَالَ: «يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ، فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ، فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا، وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ ، فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ، فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ، فَيُقَالُ: إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا، وَيُقَالُ لِلرَّجُلِ: مَا أَعْقَلَهُ وَمَا أَظْرَفَهُ وَمَا أَجْلَدَهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6497 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 143a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

two narrations

(1) His statement: “two narrations” – meaning concerning trustworthiness in the time of trials, which shows the relevance of mentioning them in this chapter. Al-Nawawi said: The first is: He told us that trustworthiness descended, and so on. The second is: He told us about its removal. The apparent meaning is that trustworthiness refers to the responsibility that Allah obligated upon His servants and the covenant He took from them. The commentator said: The root of something is its foundation, meaning trustworthiness first descended into the hearts of Allah’s men and dominated them, prompting them to adhere to the Book and Sunnah. This is the meaning of “then they learned.” His statement: “sleep” is either literal, making what follows involuntary, or a metaphor for heedlessness causing sins that diminish trustworthiness and faith. In Sharh Muslim, the author of At-Tahrir said: The meaning of the Hadith is that trustworthiness disappears from hearts gradually. When the first part of it is removed, its light vanishes, leaving darkness like a faint mark, which is a contrasting color. When another part is removed, it becomes like a blister, a firm mark that hardly fades except after time, and this darkness is greater than the previous one. The removal of that light after settling in the heart and its departure after being established, followed by darkness, is likened to an ember rolled on a foot, leaving a mark, then the ember is gone, leaving a blister that appears raised and large but empty. A commentator from our scholars said: It means trustworthiness is removed from hearts as a punishment for their owners’ sins. When they awaken from their sleep, their hearts are not as they were, sometimes leaving a trace like a faint mark, sometimes like a blister, which is the swelling of the hand from work. (Excerpted from Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : حديثين: أي في أمر الأمانة الحادثة في زمن الفتنة، وبهذا يظهر وجه مناسبة ذكرهما في الباب، قال النووي : الأول: حدثنا أن الأمانة نزلت إلى آخره، والثاني: حدثنا عن رفعها الظاهر أن المراد بالأمانة التكليف الذي كلف الله تعالى به عباده، والعهد الذي أخذه عليهم. قال شارح: جذر كل شيء أصله أي أن الأمانة أول ما نزلت في قلوب رجال الله واستولت عليها، فكانت هي الباعثة على الأخذ بالكتاب والسنة. وهذا هو المعنى بقوله: «ثم علموا». وقوله: «النومة» وهي إما على حقيقتها فما بعده أمر اضطراري، وإما النومة كناية عن الغفلة الموجبة لارتكاب السيئة الباعثة على نقص الأمانة ونقص الإيمان، وفي شرح مسلم»: قال صاحب «التحرير»: معنى الحديث أن الأمانة تزول عن القلوب شيئًا فشيئًا، فإذا زال أول جزء منها زال نورها، وخلفته ظلمة كالوكت، وهو اعتراض لون مخالف للون الذي قبله، فإذا زال شيء آخر صار كالمجل، وهو أثر محكم لا يكاد يزول إلا بعد مدة، وهذه الظلمة فوق التي قبلها، ثم شبه زوال ذلك النور بعد وقوعه في القلب وخروجه بعد استقراره فيه، واعتقاب الظلمة إياه بجمر يدحرجه على رجله حتى يؤثر فيها، ثم يزول الجمر، ويبقى بمثابة نفطة تراها منتفطة مرتفعة كبيرة لا طائل تحتها. وقال شارح من علمائنا يريد أن الأمانة ترفع عن القلوب عقوبة لأصحابها على ما اجترحوا من الذنوب، حتى إذا استيقظوا من منامهم لم يجدوا قلوبهم على ما كانت عليه، ويبقى فيه أثر تارة مثل الوكت، وتارة مثل المجل، وهو انتفاط اليد من العمل. التقطته من المرقاة».

Hadith 5183

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٨٣ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رضي الله عنهما)أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «كَيْفَ إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرَجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ، وَاخْتَلَفُوا 1 فَكَانُوْا هَكَذَا»، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ؟ قَالَ: فَبِمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: «عَلَيْكَ بِمَا تَعْرِفُ، وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ، وَعَلَيْكَ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ، وَإِيَّاكَ وَعَوَامَهُمْ». وَفِي رِوَايَةٍ: الْزَمْ بَيْتَكَ وَامْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ، وَخُذْ بِمَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ، وَعَلَيْكَ بِأَمْرِ خَاصَّةِ نَفْسِكَ وَدَعْ أَمْرَ الْعَامَّةِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 5390 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 5390

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

and they differ

(1) His statement: “and they differ” – meaning they mix with one another, and their religious affairs become confused, so the trustworthy cannot be distinguished from the treacherous, nor the righteous from the wicked. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: واختلفوا إلخ : أي يموج بعضهم في بعض ويلتبس أمر دينهم، فلا يعرف الأمين من الخائن، ولا البر من الفاجر. كذا في «المرقاة».

Hadith 5184

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٨٤ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: يَتَقَارَبُ1 الزَّمَانُ، وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ، وَيُلْقَى الشُّحُ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ: «الْقَتْلُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 157a (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7061 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Time will draw near

(1) His statement: “Time will draw near” – meaning the time of the world and the Hereafter, referring to the approach of the Hour. Al-Turpushti said: It means the approach of the Hour. It may mean people of that time drawing near to one another in evil, or time itself drawing near in evil, so its beginning resembles its end. It is also said: The lifespans of its people will shorten. It may be a metaphor for the lack of blessing in time due to abundant disobedience. Al-Qadi said: It may mean that states will vie for collapse and generations for extinction, so their time draws near and their era approaches. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: يتقارب الزمان أي زمان الدنيا وزمان الآخرة، فيكون المراد اقتراب الساعة، قال التوربشتي ه: يريد به اقتراب الساعة، ويحتمل أنه أراد بذلك تقارب أهل الزمان بعضهم من بعض في الشر، أو تقارب الزمان نفسه في الشر حتى يشبه أوله آخره. وقيل: يقصر أعمار أهله. ويحتمل أن يكون كناية عن قلة بركة الزمان من كثرة العصيان. وقال القاضي: يحتم أن يكون المراد به أن يتنازع الدول إلى الانقضاء والقرون إلى الانقراض، فيتقارب زمانهم ويتدانى إبانهم. كذا في «المرقاة».

Hadith 5185

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٨٥ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ يَوْمُ لَا يَدْرِي الْقَاتِلُ فِيمَ قَتَلَ وَلَا الْمَقْتُولُ فِيمَ قُتِلَ فَقِيلَ: كَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «الْهَرْجُ الْقَاتِلُ 1 وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2908b (unverified) 88% confidence · Validation similarity: 0.853

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

The killer and the killed are in the Fire

(1) His statement: “The killer and the killed are in the Fire” – Al-Nawawi said: The killer’s case is clear. As for the killed, it is because he intended to kill his companion. This supports the well-known, correct opinion that one who intends a sin and persists in that intention is sinful, even if he does not act or speak it. (As stated in Al-Mirqat) Al-Nawawi said elsewhere: The killer and the killed being in the Fire applies to those with no valid interpretation, fighting for tribalism or the like. Being in the Fire means deserving it, and they may be punished for it or Allah may forgive them. This is the view of the people of truth, and similar narrations are interpreted accordingly. Know that the bloodshed among the Companions is not included in this warning. The position of Ahl As-Sunnah and the truth is to think well of them, refrain from discussing their conflicts, and interpret their fighting as based on ijtihad. They did not intend disobedience or mere worldly gain; each group believed they were right and their opponent was a transgressor, so they fought to return to Allah’s command. Some were correct, and some erred but were excused due to ijtihad, as the one who errs in ijtihad bears no sin. Ali (may Allah be pleased with him) was the correct one in those wars. These matters were ambiguous, so some Companions were confused and abstained from fighting either side, not certain of the truth.

Note 1

قوله

(۱) قوله: القاتل والمقتول في النار : قال النووي له: أما القاتل فظاهر، وأما المقتول فإنه أراد قتل صاحبه، وفيه دلالة للمذهب الصحيح المشهور أن من نوى المعصية وأصر على النية يكون آثما وإن لم يفعلها ولم يتكلم بها. كذا في المرقاة». وقال النووي في موضع آخر : وأما كون القاتل والمقتول من أهل النار فمحمول على من لا تأويل له ويكون قتالهما عصبية ونحوها، ثم كونه في النار فمعناه مستحق لها، وقد يجازى بذلك، وقد يعفو الله تعالى عنه، هذا مذهب أهل الحق، وعلى هذا يتأول كل ما جاء من نظائره. وأعلم أن الدماء التي جرت بين الصحابة له ليست بداخلة في هذا الوعيد، ومذهب أهل السنة والحق إحسان الظن بهم والإمساك عما شجر بينهم، وتأويل قتالهم أنهم مجتهدون متأولون لم يقصدوا معصية ولا محض الدنيا، بل اعتقد كل فريق أنه المحق ومخالفه باغ، فوجب عليه قتاله ليرجع إلى أمر الله، وكان بعضهم مصيبا وبعضهم مخطئا معذورا في الخطأ؛ لأنه لاجتهاد، والمجتهد إذا أخطأ لا إثم عليه، وكان علي الله هو المحق المصيب في ذلك الحروب. هذا مذهب أهل السنة، وكانت القضايا مشتبهة حتى أن جماعة من الصحابة تحيروا فيها، فاعتزلوا الطائفتين، ولم يقاتلوا ولم يتيقنوا الصواب.

Hadith 5186

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٨٦ - وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارِ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ1 كَهِجْرَةٍ إِلَيَّ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2948 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

during killing

(1) His statement: “during killing” – meaning the time of trials and warfare among Muslims. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: في الهرج : أي زمن الفتنة ووقت المحاربة بين المسلمين. كذا في «المرقاة».

Hadith 5187

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٨٧ - وَعَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٌّ (رضي الله عنه) قَالَ: أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: اصْبِرُوا؛ فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ، حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ، سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7068 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 5188

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٨٨ - وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ الْأَسْوَدِ (رضي الله عنه) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُوْلُ: «إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنَّبَ الْفِتَنَ، إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنّبَ الْفِتَنِ، إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنَّبَ الْفِتَنُ، وَلَمَنْ ابْتُلِي فَصَبَرَ فَوَاهًا. 1 رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4263 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

how excellent

(1) His statement: “how excellent” – Ibn Al-Malik said: It means lamentation, or it may express admiration and approval, meaning how good and pleasant is the patience of one who is patient. It is also said: It means blessings for him. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فواها : قال ابن الملك : معناه التلهف، وقد يوضع موضع الإعجاب بالشيء والاستطابة له، أي ما أحسن وما أطيب صبر من صبر. وقيل : معناه فطوبى له. كذا في «المرقاة».

Hadith 5189

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٨٩ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرِّ قَدْ اقْتَرَبَ أَفْلَحَ مَنْ كَفَّ يَدَهُ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4249 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 5190

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٩٠ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو (رضي الله عنهما)قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «سَتَكُونُ فِتْنَةٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ قَتْلَاهَا فِي النَّارِ اللَّسَانُ فِيهَا أَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّيْفِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2178 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3967 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 5191

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٩١ - وَعَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ الْأُولَى يَعْنِي مَقْتَلَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَبْق1 مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ أَحَدٌ، ثُمَّ وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ الثَّانِيَةُ يَعْنِي الْحَرَّةَ فَلَمْ تُبْقِ مِنْ أَصْحَابِ الحُدَيْبِيَةِ أَحَدًا، ثُمَّ وَقَعَتِ الثَّالِثَةُ فَلَمْ تَرْتَفِعْ وَلِلنَّاسِ طَبَاخُ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4024 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

no one from the Companions of Badr remained

(1) His statement: “no one from the Companions of Badr remained” – meaning they died between the trial of Uthman’s killing and the subsequent trial at Harrah, not that they were killed in that trial. The last of the Badr Companions to die was Sa‘d ibn Abi Waqqas, who died a few years before the Harrah event. The point is that they were spared being tested by trials twice due to Allah’s protection through the blessing of the Battle of Badr. His statement: “Then the third trial occurred” – it is said: The third trial refers to the rebellion of Ibn Hamzah the Kharijite during the time of Marwan ibn Muhammad ibn Marwan Al-Hakam. It is also said: It is the trial of the Azariqah. The first view is preferable, as it is specific to Medina, like the first two trials, while the Azariqah trial was not specific, and the Hadith’s apparent meaning suggests specificity. (As stated in Al-Lama’at)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فلم يبق من أصحاب بدر أحد يعني أنهم ماتوا منذ قامت الفتنة لقتل عثمان إلى أن قامت الفتنة الأخرى بوقعة الحرة، لا أنهم قتلوا في هذه الفتنة، وكان آخر من مات من البدريين سعد بن أبي وقاص، ومات قبل وقعة الحرة ببضع سنين. والحاصل أنهم ما ابتلوا بالفتنة مرتين لما صانهم الله ببركة غزوة بدر. قوله : «ثم وقعت الفتنة الثالثة»، قيل : المراد بالفتنة الثالثة خروج ابن حمزة الخارجي في زمن مروان بن محمد بن مروان الحكم. وقيل: هي فتنة الأزارقة والأول الأولى؛ لأنها مخصوصة بالمدينة، وفتنة الأزارقة غير مخصوصة، وظاهر الحديث يفهم منه الاختصاص كالفتنتين الأوليين، كذا في الحواشي. قاله في «اللمعات».

Hadith 5192

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٩٢ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: هَلَكَةُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ1 غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7058 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

at the hands of youths from Quraysh

(1) His statement: “at the hands of youths from Quraysh” – Al-Muzhir said: Perhaps it refers to those after the Rightly Guided Caliphs, such as Yazid and Abdul Malik ibn Marwan and others. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله على يدي غلمة من قريش

(۱) قوله على يدي غلمة من قريش: قال المظهر : لعله أريد بهم الذين كانوا بعد الخلفاء الراشدين، مثل يزيد وعبد الملك بن مروان وغيرهما. كذا في «المرقاة».

Hadith 5193

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٩٣ - وَعَنْ ثَوْبَانَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلَّينَ وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ1 عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4252 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

it will not be lifted

(1) His statement: “it will not be lifted” – if not in one land, it will be in another. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : لم يرفع إلخ فإن لم يكن في بلد يكن في بلد آخر. كذا في «المرقاة».

Hadith 5194

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٩٤ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: ( وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ، وَحَتَّى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الْأَوْثَانَ، وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ، ظَاهِرِينَ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4252 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2219 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 5195

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٩٥ - وَعَنْ سَفِينَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ سَنَةً، ثُمَّ تَكُونُ مَلِكًا» ثُمَّ قَالَ سَفِينَةُ : أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ (رضي الله عنه) سَنَتَيْنِ وَخِلَافَةَ عُمَرَ (رضي الله عنه) عَشْرَ سِنِينَ وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ (رضي الله عنه) اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَخِلَافَةَ عَلَيَّ سِتَّةً. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2226 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4646 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 5196

Volume 4

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٩٦ - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ (رضي الله عنه) عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «تَدُورُ رَحَى الْإِسْلَامِ لِخَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، أَوْ سِ وَثَلَاثِينَ، أَوْ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ يَهْلَكُوا فَسَبِيلُ مَنْ هَلَكَ، وَإِنْ يَقُمْ لَهُمْ دِينُهُمْ يَقُمْ لَهُمْ سَبْعِينَ عَامًا، قَالَ: قُلْتُ: أَمِمَّا بَقِيَ أَوْ مِمَّا مَضَى؟ قَالَ: «مِمَّا مَضَى». رَوَاهُ وَأَبُو دَاوُدَ .
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4254 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.