English
It is narrated from Ibrahim: "The Prophet (peace be upon him) would recite, and a man would also recite. Then this verse was revealed." [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
In a narration by Al-Bayhaqi from Imam Ahmad: "The people unanimously agreed that this verse pertains to prayer." Shaykh Ibn al-Humam and others said: "The command includes two things: listening and remaining silent. The first applies to audible prayers, and the second applies to silent prayers." This is the meaning: "And when the Qur’an is recited, listen to it if it is recited aloud, and remain silent if it is recited silently." This was the view of our Imam Abu Hanifah and his companions, as well as Jabir ibn Abdullah, Zaid ibn Thabit, Ali ibn Abi Talib, Umar ibn al-Khattab, Abdullah ibn Mas’ud, Sufyan al-Thawri, Sufyan ibn Uyaynah, Ibn Abi Layla, Al-Hasan ibn Salih, Ibrahim al-Nakha’i, and the companions of Ibn Mas’ud, among other prominent companions and successors. This was mentioned by Ibn Abd al-Barr in Al-Istidhkar and Al-Tamhid. Al-Ayni said: "It has been reported that eighty prominent companions, including Al-Murtada and the three Abdallahs, prohibited recitation behind the Imam. Their names are well-known among the scholars of Hadith. It is said that the number of those who issued fatwas on this matter exceeded eighty, making their agreement akin to consensus."
Shaykh Imam Abdullah ibn Ya’qub al-Harithi al-Sabadmuni mentioned in his book Kashf al-Asrar from Abdullah ibn Zaid ibn Aslam, from his father, who said: "Ten companions of the Messenger of Allah (peace be upon him) strongly prohibited recitation behind the Imam: Abu Bakr al-Siddiq, Umar ibn al-Khattab, Uthman ibn Affan, Ali ibn Abi Talib, Abd al-Rahman ibn Awf, Sa’d ibn Abi Waqqas, Abdullah ibn Mas’ud, Zaid ibn Thabit, Abdullah ibn Umar, and Abdullah ibn Abbas."
Our scholars said: "There is no evidence to restrict this verse to audible prayers, as listening and remaining silent are two separate rulings, not a single ruling combined. Even if the verse was revealed regarding audible prayers, it is not restricted to them, as the general wording is considered, not the specific context."
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح رہے کہ مذکورہ بالا حدیثیں قرأت خلف الامام کی ممانعت پر ہی دلالت کرتی ہیں امام ابن الہمام اور دیگر فقہاء رحمہم اللہ نے کہا ہے کہ نماز میں مقتدی کو قرأت کے متعلق دو حکم دئیے گئے ہیں (1) ایک استماع یعنی کان لگا کر سننا اور (2) دوسرے انصات یعنی چپ رہنا، پہلا حکم استماع یعنی امام کی قرأت کو کان لگا کر سننا جہری نمازوں سے متعلق ہے، اور دوسرا حکم یعنی انصات یعنی چپ رہنا سری نمازوں سے متعلق ہے۔ اب آیت کے معنی سنئے: ”(وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ) اِنْ جُهِرَ بِهِ“ (اگر قرآن پڑھا جائے تو اس کو کان لگا کر سنو جبکہ جہر سے پڑھا جا رہا ہو) ”( وَأَنْصِتُوا) وَاسْكُتُوا اِنْ أُسِرَّ بِهِ“ اور چپ رہو اور خاموشی اختیار کرو اگر قرآن آہستہ پڑھا جا رہا ہو۔ (امام ابن ہمام کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے ”استذکار“ اور ”تمہید“ میں کہا ہے کہ آیت ”فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا“ پر عمل کرتے ہوئے ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور آپ کے شاگردوں نے قرأت خلف الامام کے بارے میں جو مذہب اختیار کیا ہے وہ یہی ہے کہ مقتدی جہری نمازوں میں قرأت کو کان لگا کر سنے اور سری نمازوں میں چپ رہے اور خود کچھ نہ پڑھے چنانچہ جابر بن عبداللہ زید بن ثابت اور حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہم، کا بھی یہی قول ہے، اور حضرت عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے جو ارجح روایت آئی ہے وہ بھی یہی ہے نیز سفیان ثوری اور سفیان بن عیینہ اور ابن ابی لیلیٰ اور حسن بن صالح بن حی اور ابراہیم نخعی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم کے جملہ شاگرد اور ان سب کے سوا جن میں مشہور صحابہ اور تابعین ہیں وہ سب قرأت خلف الامام کی ممانعت کے قائل ہیں کہ مقتدی جہری نمازوں میں صرف قرأت سنے اور سری نمازوں میں چپ رہے۔ (یہاں ابن عبدالبر کا مضمون ختم ہوا۔) علامہ عینی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ترک قرأت خلف الامام کی ممانعت اسّی (80) جلیل القدر صحابہ سے مروی ہے جن میں حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم ہیں اور ان (80) صحابہ کے اسماء محدثین کے پاس محفوظ ہیں اور منقول ہے کہ قرأت خلف الامام کی ممانعت کے متعلق اس زمانہ میں فتویٰ دینے والوں کی تعداد (80) سے زائد تھی اور ان سب حضرات کا قرأت خلف الامام کی ممانعت پر اتفاق کر لینا اجماع کی طرح ہے اور شیخ امام عبداللہ بن یعقوب حارثی اسبذمونی نے ”کتاب کشف الاسرار“ میں عبداللہ بن زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے وہ اپنے والد زید سے روایت کرتے ہیں کہ زید بن اسلم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں دس صحابہ قرأت خلف الامام کی سخت ممانعت فرماتے تھے وہ دس صحابہ یہ ہیں: (1) حضرت ابوبکر صدیق، (2) حضرت عمر ابن خطاب، (3) حضرت عثمان بن عفان، (4) حضرت علی ابن ابی طالب، (5) عبدالرحمن بن عوف، (6) سعد بن ابی وقاص، (7) عبداللہ بن مسعود، (8) زید ابن ثابت اور (9) عبداللہ بن عمر (10) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم۔ (یہاں علامہ عینی کی عبارت ختم ہوئی۔) توضیحات مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ مقتدی کے لئے قرأت خلف الامام کی ممانعت ہے جیسا کہ آیت ”وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا“ سے واضح ہوتا ہے کہ امام جب آواز سے قرأت کرے تو مقتدی اس کو سنے اور امام جب آہستہ قرأت کرے تو مقتدی خاموش رہے۔ یہاں ایک شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت کے حکم کو صرف جہری نمازوں سے متعلق کیا جا سکتا ہے نہ کہ سری نمازوں میں مقتدی کو امام کی قرأت سننے کا موقع ہی نہیں ہے اس لئے کہ آیت میں ”أَنْصِتُوا“ کا کلمہ ”اسْتَمِعُوا لَهُ“ کی تاکید کے لئے ہے کہ دونوں کلموں سے ایک ہی حکم نکل رہا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مقتدی امام کی قرأت کو خاموش رہ کر سنے۔ ہمارے فقہاء رحمہم اللہ نے اس شبہ کا یہ جواب دیا ہے کہ آیت (وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا) کو صرف جہری نمازوں کے ساتھ ہی مخصوص کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، اس لئے کہ آیت ” فَاسْتَمِعُوا لَهُ“ اور ”أَنْصِتُوا“ دو مستقل کلمے ہیں۔ دوسرا کلمہ پہلے کلمہ کی تاکید کے لئے نہیں ہے جیسا کہ شبہ میں کہا گیا ہے بلکہ دوسرا کلمہ یعنی ”أَنْصِتُوا“، تخصیص (اصل قرآن) کے لئے ہے کہ پہلے کلمہ سے علیحدہ حکم نکلتا ہے اور دوسرے کلمہ سے علیحدہ حکم اور اصولیین کے قاعدے کے مطابق تخصیص تاکید سے افضل ہے، اس لحاظ سے آیت ” فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا“ سے مقتدی کو دو مستقل حکم دیئے گئے ہیں ایک استماع یعنی کان لگا کر سننا اور دوسرا انصات یعنی چپ رہنا، پہلا حکم استماع یعنی امام کی قرأت کو کان لگا کر سننا جہری نمازوں سے متعلق ہوگا اور دوسرا حکم انصات یعنی چپ رہنا، سرّی نمازوں سے متعلق رہے گا اور یہی حنفی مذہب ہے۔ مذہب حنفی کی تائید پر ذیل کی یہ حدیثیں دلالت کرتی ہیں:۔ (1) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ امام کی قرأت تمہارے لئے کافی ہے، خواہ امام (سرّی نماز میں) آہستہ قرأت کرے یا (جہری نماز میں) آواز سے قرأت کرے۔ (2) علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے قرأت نہیں کرتے تھے خواہ امام جہر سے قرأت کر رہا ہو، یا آہستہ، نہ تو پہلی دو رکعتوں میں قرأت کرتے تھے اور نہ آخری دو رکعتوں میں۔ (3) ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ مقتدی امام کے پیچھے قرأت نہ کرے، خواہ نماز جہری ہو یا سرّی۔ بنایہ میں مذکور ہے کہ مقتدی امام کے پیچھے قرأت نہ کرے خواہ امام جہر سے قرأت کرے یا آہستہ، چنانچہ ابن المسیب، عروۃ بن زبیر، سعید بن جبیر، زہری، شعبی، ثوری، نخعی، اسود، ابن ابی لیلی رضی اللہ عنہم اسی کے قائل ہیں، نیز ابن وہب اشہب، ابن عبدالحکم ابن حبیب رحمہم اللہ نے کہا ہے کہ مقتدی سرّی نمازوں اور جہری نمازوں دونوں میں قرأت نہ کرے۔ (یہ مضمون سعایہ سے ماخوذ ہے۔)