English
Ali ibn Zayd reported from Umayyah that she asked Aisha (may Allah be pleased with her) about the verse: "Whether you show what is within yourselves or conceal it, Allah will bring you to account for it" (Qur'an 2:284) and about the verse: "Whoever does evil will be recompensed for it" (Qur'an 4:123). Aisha said: "No one asked me about this since I asked the Messenger of Allah (ﷺ). He said: 'This is about the servant being tested with fever, calamity, or even losing a commodity he places in his pocket, until Allah forgives the servant's sins as pure gold is purified in the furnace'"
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2991 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ آخرت میں دل میں چھپے ہوئے گناہوں کے خطرات اور برے خیالات کا بھی حساب لیا جائے گا، اس سے بچنا بہت مشکل ہے) ایسا ہی دوسری آیت: ”مَنْ يَعْمَلْ سُوْءًا يُجْزَ بِهٖ“۔ (سورۃ نساء، پ:5، ع:18، آیت نمبر:123) دنیا میں جو کچھ برائی کی جائے گی (صغیرہ ہو یا کبیرہ ظاہر میں کئے ہوں یا چھپ کر آخرت میں) اس کی سزا دی جائے گی (اس سے بھی بچنا بہت مشکل ہے)۔ یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ (جیسا تم کو ان آیتوں کے مفہوم کے بارے میں شبہ ہوا ہے مجھے بھی اس کے متعلق شبہ ہوا تھا اور) میں نے اس کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے متعلق مجھے جو جواب دئے تھے اس سے مجھے تسکین ہوگئی تھی) اس وقت سے آج تک کوئی مجھ سے ان آیتوں کے متعلق (ایسا شبہ) دریافت نہیں کیا (آج تم ہی ہو کہ ان آیتوں کے متعلق اپنے شبہ کو مجھ سے دریافت کر رہی ہو، جو جواب مجھ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم دئے تھے وہ جواب میں تم کو سناتی ہوں سنو! ان دونوں آیتوں کا مصداق تم سمجھ رہی ہو کہ آخرت میں ہوگا، نہیں گناہوں کے) جو خطرات تمہارے دل میں گزرتے ہیں یا چھوٹی بڑی جو برائی تم کرتے ہو، اس کا بدلہ دنیا ہی میں اس طرح دیا جائے گا کہ بیماریوں میں بخار میں تکلیف و رنج میں مبتلا ہوں گے یا کوئی چیز تم نے جیب میں رکھی تھی (اس کو کسی نے چرا لیا) کہیں گر گئی اس سے جو رنج ہوگا ان سب کی وجہ سے (دل میں گناہوں کے جو خطرات ہیں، یا چھوٹے بڑے جو گناہ ہیں وہ سب ان مذکورہ پریشانیوں سے دنیا ہی میں مٹائے جاتے ہیں اور مذکورہ آیتوں کے جو مصداق ہیں) ان کو ایسا پاک کیا جاتا ہے جیسے خالص سرخ سونا بھٹی سے صاف ہو کر نکلتا ہے۔ (خلاصہ یہ ہے کہ تم سمجھ رہی ہو کہ آخرت میں ان گناہوں کی سزا دی جائے گی، نہیں بلکہ دنیا ہی میں ان کی سزا دے کر پاک و صاف کر دیتے ہیں اور دونوں آیتوں سے یہی مراد ہے۔) اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔