Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2172

Chapter on Burial of the Deceased

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on Burial of the Deceased

Zujajat al-Masabih 2172Volume 1

English

It is also reported from him: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited plastering graves, writing on them, or walking over them." 1
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1052 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Writing on them.

(1) The statement: "Writing on them." In Al-Muhit, it is said: "If there is a need for writing to preserve the grave's mark and prevent disrespect, there is no harm in it. However, writing without a valid reason is not permissible. It is disliked to write Quranic verses, poetry, or praise on graves." This is summarized in Al-Hilyah and mentioned in Radd Al-Muhtar.

Note 1

قوله

(۱) قوله: أن يكتب عليها: فصل في المحيط» فقال: وإن احتيج إلى الكتابة حتى لا يذهب الأثر، ولا يمتهن فلا بأس به، فأما لكتابة بغير عذر فلا. حتى إنه يكره كتابة شيء عليه من القرآن أو الشعر أو اطراء مدح له، ونحو ذلك. حلية» ملخصا. قاله في رد المحتار».

Note 1

ف: یہ حدیث اس زمانہ کی ہے کہ جس زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبروں کی زیارت کرنے سے منع فرمائے تھے جب زیارت قبور سے منع فرمایا گیا تو قبروں کو گچ کرنے سے بھی منع فرمایا گیا تھا اس لئے کہ جب زیارت قبور ہی جائز نہ تھی تو قبروں کو گچ کر کے پختہ کرنے کی کیا ضرورت تھی اور جب قبور کی زیارت کرنے کی ممانعت منسوخ ہوگئی تو حدیث کے دونوں حکم کہ قبروں پر گچ نہ کی جائے اور قبروں پر لکھا نہ جائے بھی منسوخ ہوگئے (جیسا کہ مرقات میں حاکم کے حوالہ سے لکھا ہے۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: (فَزُوْرُوْهَا) یعنی قبروں کی زیارت کرو تو اس سے قبروں کو گچ کر کے پختہ کرنے کی اجازت بھی مل گئی اور قبروں پر لکھنے اور کتبے لگانے کی بھی اجازت ہوگئی، اس لئے کہ کچی قبر چند روز میں زمین کے برابر ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی نشان باقی نہیں رہتا، اس سے لازم آتا ہے کہ قبروں کو گچ سے پختہ کریں اور اوپر لکھیں یا کتبے لگائیں تاکہ زیارت کی جاسکے یہ قول مبارک ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آپ کے اس فعل سے بھی دلیل ملتی ہے، قبروں کو گچ سے پختہ کرنے کی اس لئے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر پر ایک بڑا پتھر رکھنے کا حکم دئے اور صحابی اس کو اٹھا نہ سکے تو حضور خود اٹھا کر قبر (یہ حدیث ابوداؤد میں مذکور ہے جو آگے آرہی ہے۔12) پر رکھ دئے تا کہ قبر یادگار رہے اور اس کی زیارت کرسکیں، اس سے بھی معلوم ہوا کہ قبروں کو گچ سے پختہ کیا جائے تاکہ لوگ زیارت کرسکیں۔ حدیث مذکور کے یہ دونوں حکم منسوخ ہونے کی یہ بھی ایک دلیل ہے کہ سارے عالم اسلام میں مشرق سے مغرب تک سلف (جیسا کہ ردالمحتار میں مذکور ہے) سے خلاف تک قبروں کو گچ سے پختہ کیا جاتا رہا ہے اور قبروں پر لکھا جاتا رہا ہے یا ان پر کتبے لکھ کر سرہانے لگائے جاتے رہے ہیں اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث شریف ہے: ”مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ حَسَنٌ“، جس فعل کو صالحین مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے۔ چونکہ صالحین مسلمان قبروں کو گچ سے پختہ کرنے اور قبروں پر لکھنے اور کتبے یا تختیاں لگانے کو پسند کئے ہیں، اس لئے قبروں کو گچ سے پختہ بنانا اور قبروں پر لکھنا یا کتبے اور تختیاں لگانا اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ (جیسا کہ مرقات اور ردالمحتار میں مذکور ہے۔12) ہے۔ حدیث مذکور کا تیسرا جز، کہ قبر کو روندا نہ جائے منسوخ نہیں ہے۔ اس لئے قبروں پر چلنا اور قبروں کو روندنا ناجائز ہے۔12