English
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "We attended the burial of the daughter of the Messenger of Allah (ﷺ), and the Prophet (ﷺ) was sitting by the grave. I saw his eyes filled with tears. He then said, 'Is there anyone among you who did not commit a sin last night?'"
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کو دفن کرنے کے لئے قبر میں اترے اور حضرت ابو طلحہ اجنبی تھے، حضرت ابو طلحہ کو قبر میں اترنے کا جو حکم دیا گیا، اس سے ابن الہمام نے یہ مسائل اخذ کئے ہیں کہ عورتوں کو قبر میں اتارنے کے لئے یا کسی ضرورت پر قبر سے نکالنے کے لئے مرد ہی قبر میں اتریں، اگرچہ کہ مرد اجنبی ہوں عورتیں قبر میں نہ اتریں، اس لئے کہ ضرورت پر اجنبی مرد عورت کو جس طرح زندگی میں کپڑے وغیرہ کو حائل کر کے ہاتھ لگا سکتا ہے، ایسے ہی مرنے کے بعد بھی کپڑے وغیرہ کو حائل کر کے ہاتھ لگا سکتا ہے اور کفن بھی حائل ہو جاتا ہے، اگر کسی عورت کی وفات ہو جائے اور اس کے ساتھ اس کے محرم رشتہ دار موجود نہ ہوں تو ایسی صورت میں اس کے پڑوس کے سن رسیدہ نیک اور صالح لوگ اس کو دفنا سکتے ہیں اور اگر یہ بھی نہ ہوں تو نوجوان نیک اور صالح لوگ اس کو دفن کر سکتے ہیں۔ یہ مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔12