Al-Bukhari mentioned in a suspended (Mu'allaq) narration: "When Al-Hasan ibn Al-Hasan ibn Ali (may Allah be pleased with him) died, his wife set up a tent over his grave for a year, then removed it. They heard Salih say, 'Have they found what they lost?' Another replied, 'No, they have despaired and returned.'"
(میت کو دفن کرنے کے بعد اہل میت کو اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوجانا چاہئے، حضرت حسن مثنیٰ
کی بیوی ایسا نہ کرکے ایک سال تک قبر کے پاس بیٹھی رہیں تو اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہ آیا، چونکہ یہ خاندان
نبوت سے تعلق رکھتی تھیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو متنبہ کردیا اور ہاتف غیبی کے ذریعہ ان کا یہ کام
ناپسند ہونا ظاہر فرما دیا) ایک سال کے بعد جب انہوں نے ڈیرہ اٹھایا تو ایک ہاتف غیبی نے یہ ندا دی
کہ حسن مثنیٰ کی بیوی ان کی قبر کے پاس ایک سال تک جو بیٹھی رہیں تو کیا حسن مثنیٰ پھر ان کو مل گئے؟
دوسرے ہاتف غیبی نے اس کا جواب اس طرح دیا (حسن مثنیٰ ان کو پھر ملے تو نہیں) ’’یہ خود تھک کر
مایوس چلے گئیں‘‘۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(میت کو دفن کرنے کے بعد اہل میت کو اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوجانا چاہئے، حضرت حسن مثنیٰ کی بیوی ایسا نہ کرکے ایک سال تک قبر کے پاس بیٹھی رہیں تو اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہ آیا، چونکہ یہ خاندان نبوت سے تعلق رکھتی تھیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو متنبہ کردیا اور ہاتف غیبی کے ذریعہ ان کا یہ کام ناپسند ہونا ظاہر فرما دیا) ایک سال کے بعد جب انہوں نے ڈیرہ اٹھایا تو ایک ہاتف غیبی نے یہ ندا دی کہ حسن مثنیٰ کی بیوی ان کی قبر کے پاس ایک سال تک جو بیٹھی رہیں تو کیا حسن مثنیٰ پھر ان کو مل گئے؟ دوسرے ہاتف غیبی نے اس کا جواب اس طرح دیا (حسن مثنیٰ ان کو پھر ملے تو نہیں) ’’یہ خود تھک کر مایوس چلے گئیں‘‘۔