Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Medicine and Healing Charms

Hadith 4430

The Chapter on Soothsaying

In this book

Current reading

Medicine and Healing Charms

The Chapter on Soothsaying

Zujajat al-Masabih 4430Volume 3

English

Mu’awiyah bin Al-Hakam (may Allah be pleased with him) narrated: I said: O Messenger of Allah, we did things in Jahiliyyah, like visiting soothsayers. He said: Do not visit soothsayers. 1 I said: We took omens. He said: That is something one of you feels, but let it not deter you. I said: Some men draw lines. 2 He said: A prophet among the prophets drew lines; whoever matches his drawing, that is it .
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 537a (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2227a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (6)

Note 1

Do not visit soothsayers

(1) The statement: "Do not visit soothsayers": In Al-Durr al-Mukhtar: Knowledge is obligatory for one’s religion, communal for others’ benefit, recommended for deep jurisprudence or heart knowledge, and forbidden for philosophy, trickery, astrology, geomancy, natural sciences, magic, and soothsaying. In Radd al-Muhtar: Soothsaying is claiming knowledge of future events or secrets. In Nihayat al-Hadith: Arabs had soothsayers like Shiqq and Satih. Some claimed a familiar spirit gave them news, others inferred from signs, words, or actions, called arraf (diviners), like those claiming knowledge of stolen items. The hadith “Whoever visits a soothsayer” includes diviners and astrologers, as Arabs called anyone with subtle knowledge a soothsayer.

Note 2

Draw lines

(2) The statement: "Draw lines": This is geomancy, a science of shapes, lines, and dots with known rules, forming letters and sentences indicating outcomes. It is absolutely forbidden, attributed to Idris (peace be upon him), a repealed law. In Fatawa Ibn Hajar: Learning or teaching it is strictly forbidden, as it misleads people to believe the practitioner shares Allah’s knowledge of the unseen. Thus, in Radd al-Muhtar.

Note 1

قوله

(١) قوله: فلا تأتوا الكهان: قال في (الدر المختار): واعلم أن تعلم العلم يكون فرض عين وهو بقدر ما يحتاج لدينه،وفرض كفاية وهو ما زاد عليه لنفع غيره، ومندوبا وهو التبحُّر في الفقه. وعلم القلب، وحراما وهو علم الفلسفةوالشعبدة والتنجم والرمل وعلوم الطبائعين والسحر والكهانة. وقال في (رد المحتار): الكهانة وهي تعاطي الخبرعن الكائنات في المستقبل، وادعاء معرفة الأسرار. قال في نهاية الحديث: وقد كان في العرب كَهَنَةٌ كشق وسطيح،فمنهم من كان يزعم أن له تابعا يلقي إليه الأخبار، ومنهم أنه يعرف الأمور بمقدمات يستدل بها على موافقها منكلام من يسأله أو حاله أو فعله، وهذا يخصونه باسم العراف كالمدعي معرفة المسروق ونحوه، وحديث(من أتىكاهنا) يشمل العراف والمنجم والعرب تسمى كل من يتعاطى علما دقيقا كاهنا.

Note 2

قوله

(٢) قوله: يخطون خطا: وهو الرمل هو علم بضروب أشكال من الخطوط والنقط بقواعد معلومة تخرج حروفا تجمع،ويستخرج جملة دالَّة على عواقب الأمور. وقد علمت أنه حرام قطعًا، وأصله لإدريس عليه السلام، أي فهو شريعة منسوخة.وفي (فتاوى ابن حجر): أن تعلمه وتعليمه حرام شديد التحريم؛ لما فيه من إيهام العوام أن فاعله يشارك اللّٰه تعالى فيغيبه. كذا في (رد المحتار).

Note 1

صاحب ردالمحتار نے کہا ہے کہ کہانت سے مراد کائنات کے تعلق سے مستقبل کی خبروں میں مشغول رہنا اور اسرار کو جاننے کا دعوی کرنا ہے انہوں نے اس گفتگو کے اخیر میں کہا: عرب میں کئی کاہن تھے جیسے شق، اور سطیح، ان میں کے بعض کا یہ دعوی تھا کہ ان کا ایک جن ہے جو ان کے پاس خبریں لاتا ہے اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو معاملات کو ایسے چند مقدمات سے جن کے ذریعہ ان کے موافق پر استدلال کیا جا سکتا ہے مثلاً ان سے پوچھنے والے کی گفتگو سے یا اس کی حالت سے یا اس کے کام سے جس کو وہ کرتے ہیں اس کو عراف کہا جاتا ہے تو یہ مال مسروق وغیرہ کو جاننے کا دعوی کرنے والے کی طرح ہے اور من اتى كاهنا (جو کاہن کے پاس جائے) کی حدیث شریف عراف اور منجم کو شامل ہے اور عرب ہر اس شخص کو جو کسی باریک باتوں میں مشغولیت رکھتا تھا کاہن کہتے ہیں۔

Note 2

1 قولہ: فلا تأتوا الكهان (تم کاہنوں کے پاس مت جایا کرو) صاحب درمختار نے کہا: جانو! (1) کہ علم کا سیکھنا فرض عین ہے وہ جو اپنے دین کی ضرورت کے بقدر ہے (2)۔ اور فرض کفایہ ہے وہ جو دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ضرورت سے زائد علم حاصل کرنا ہے (3)۔ اور مستحب ہے وہ جو علم فقہ اور علم تصوف میں مہارت حاصل کرنا ہے (4) اور حرام ہے وہ علم جو فلسفہ، شعبدہ بازی، علم نجوم، رمل، علوم طبعیات، جادو اور کہانت ہے (علم نجوم و فلسفہ کی تفصیل ص 240 پر آ رہی ہے)۔ 2 قولہ: يخطون خطا (جو لکیروں کا عمل کرتے ہیں) وہ علم رمل ہے اور یہ مقررہ قواعد کے مطابق اشکال کے خطوط اور نقطوں کا علم ہے جس سے حروف کو نکال کر جمع کیا جاتا ہے پھر اس سے معاملات کے نتائج کو بتانے والے ایک جملہ کو برآمد کیا جاتا ہے اور تم کو معلوم ہے کہ قطعاً حرام ہے اور یہ ادریس علیہ السلام کے لئے تھا۔ یعنی یہ منسوخ شریعت ہے۔ اور فتاوی ابن حجر میں ہے کہ اس کا سیکھنا اور سکھانا سخت ترین حرام ہے۔ اس لئے کہ یہ بات عوام کو وہم میں ڈالنے والی ہے کہ اس کا کرنے والا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے غیب میں شریک ہے۔ (ردالمحتار) 1 قولہ: من اتى عرافا (جو کوئی عراف کے پاس جائے) امام نووی نے کہا ہے کہ عراف کاہنوں کی ایک قسم سے ہے خطابی وغیرہ نے کہا کہ عراف وہ ہے کہ مسروقہ شئی کی جگہ اور گمشدہ شئی کی جگہ کی جانکاری میں مشغول رہتا ہے۔ اور ملا علی قاری نے فرمایا: کاہن اور عراف کے درمیان فرق یہ ہے کہ کاہن آئندہ زمانہ سے متعلق غیب کی خبر دینے میں مشغول رہتا ہے اور اسرار کی معرفت کا دعوی کرتا ہے جب کہ عراف مسروقہ چیز کی اور گمشدہ چیز کے مقام وغیرہ کی معرفت میں مشغولیت رکھتا ہے۔ (مرقات)