English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, “By the One in Whose hand is my soul, the son of Mary will soon descend among you as a just judge. He will break the cross, kill the swine, abolish the jizyah, and wealth will abound until no one accepts it, and a single prostration will be better than the world and all it contains.” Then Abu Hurairah said, “Recite if you wish: ‘There is none among the People of the Book but will believe in him before his death’ [Qur’an 4:159].”
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3448 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 155a (unverified) 94% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 5505 (unverified) 86% confidence
Mishkat (candidate) 5505
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) His statement: “break the cross”: Meaning, he will abolish Christianity and rule by the upright religion. His statement: “kill the swine”: Meaning, he will prohibit keeping or eating it and permit its killing. His statement: “abolish the jizyah”: Meaning, he will not accept it from the People of the Book, obliging them to embrace Islam and accept nothing but the true religion. His statement: “a single prostration will be better than the world and all it contains”: Meaning, people will desire Allah’s command and disdain the world, so a single prostration will be dearer to them than the world and its contents. (As stated in Al-Mirqat) (2) His statement: “There is none among the People of the Book but will believe in him before his death”: Al-Tayyibi said this verse proves Jesus’ descent (peace be upon him) at the end of time, fulfilling the Hadith. The pronouns “in him” and “before his death” refer to Jesus, meaning none of the People of the Book at the time of his descent will fail to believe in him before his death, and the religion will be one: Islam. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: فيكسر الصليب أي فيبطل النصرانية ويحكم بالملة الحنيفية. وقوله: ويقتل الخنزير أي يحرم اقتنقاءه وأكله، ويبيح قتله. وقوله: ويضع الجزية أي عن أهل الكتاب ويحملهم على الإسلام، ولا يقبل منهم غير دين الحق. وقوله: حتى تكون السجدة خيرا من الدنيا وما فيها، وإن ما أراد بذلك أن الناس يرغبون في أمر الله، ويزهدون عن الدنيا حتى تكون السجدة الواحدة أحب إليهم من الدنيا وما فيها. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمن به قبل موته قال الطيبي الله: استدل الآية على نزول عيسى عليه السلام والسلام في آخر الزمان مصداقا للحديث، وتحريره أن الضميرين في «به وقبل موته لعيسى، والمعنى: وإن من أهل الكتاب أحد إلا ليؤمنن بعيسى قبل موت عيسى، وهم أهل الكتاب الذين يكونون في زمان نزوله، فتكون الملة واحدة، وهي ملة الإسلام. كذا في «المرقاة».
Note 1
1 قولہ: فيكسر الصليب (پس صلیب کو توڑینگے) یعنی عیسائیت کو مٹائینگے اور ملت حنیفیہ کو تقویت دینگے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد(”ويقتل الخنزير“ خنزیر کو قتل کرینگے) کا مطلب یہ ہے کہ اسکے شکار کرنے اور کھانے کی حرمت کو نافذ کرینگے اور اسکے قتل کی اجازت دینگے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ”ويضع الجزية“(جزیہ کو ختم کردینگے) کے معنی یہ ہیکہ اہل کتاب سے جزیہ کو ساقط کردینگے، انہیں اسلام پر آمادہ کرینگے اور دین حق کے سوا ان سے کچھ قبول نہ کرینگے حضور کے ارشاد ”یہاں تک کہ ایک سجدہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہوگا“ سے یہی مراد ہے کہ لوگ اللہ کے حکم بجالانے میں رغبت رکھیں گے اور دنیا سے اس قدر بے رغبت ہوجائینگے کہ ایک سجدہ انکو دنیا اور اسکی ساری چیزوں سے عزیز ہوگا۔ (مرقات)۔ 2 قولہ: ”وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ“۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پرـــــ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ (اہل کتاب میں سے ہر شخص حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وصال سے پہلے ضرور بضرور اُن پر ایمان لائے گا) علامہ طیبی رحمہ اللہ نے کہا: آخری زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نازل ہونے پر حدیث کے مصداق کے مطابق اس آیت سے استدلال کیا گیا اور اس کی توجیہ یہ ہے کہ ”بہ“ اور ” قَبْلَ مَوْتِهِ“ کی دونوں ضمیریں عیسیٰ علیہ السلام کیلئے ہیں، جسکے معنی یہ ہے کہ جو کوئی اہل کتاب میں سے ہوگا وہ ضرور عیسیٰ علیہ السلام پر عیسیٰ علیہ السلام کے وصال سے پہلے ایمان لائے گا اور یہ وہ اہل کتاب ہیں جو آپ کے نزول کے زمانہ میں رہیں گے، پس ساری ملت ایک ہوگی اور وہ ملت اسلام ہے۔ (مرقات)۔ 1 قوله وليتركن القلاص فلا يسعى عليها (اور جوان اونٹنیوں کو چھوڑ دیں گے ان سے کام لینے کی کوشش نہیں کی جائے گی) علامہ مظہر نے کہا: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام صدقہ کے اونٹوں کو چھوڑ دینے اور کسی کو حکم نہیں دیں گے کہ اُنکے (وصول کرنے کے) لئے سعی کرے یا اُنکو لے لے، کیونکہ اس سے لوگوں کی بے نیازی کی وجہ سے آپ اسے قبول کرنے والے کو نہ پائیں گے۔ (مرقات)۔ 2 قوله ولتذهبن الشحناء (اور کینہ کا خاتمہ ہو جائے گا) یہ سب خرابیاں دنیا سے محبت کا نتیجہ ہیں۔ پس دلوں سے دنیا کی محبت نکل جانے سے یہ تمام عیوب ختم ہو جائیں گے۔ (مرقات)۔ 3 قوله وامامكم منكم (اور تمہارے امام تم میں سے ہوں گے) یعنی تمہارے دین کے پیروکاروں میں سے ہوں گے اور وہ مہدی علیہ السلام ہیں۔ (مرقات)۔ 1 قوله فيقول لا الخ (تو آپ کہیں گے نہیں) علامہ تفتازانی نے شرح عقائد میں بیان کیا ہے کہ زیادہ راجح بات یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام لوگوں کو نماز پڑھائیں گے اور انکی امامت فرمائیں گے، امام مہدی انکی اقتداء کریں گے آپ افضل ہیں اور آپ کی امامت اولیٰ ہے، ابن ابی شریف رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں: یہ حدیث، مسلم شریف کی حدیث ”وامامكم منكم“ کے موافق ہے، لیکن مسلم شریف میں ہی اسکے خلاف روایت ہے اور وہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ اور دونوں حدیثوں کے درمیان تطبیق اس طرح ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے نزول کے ابتدائی زمانہ میں امامت کریں گے، یہ بتلانے کے لئے کہ آپ انکی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے میں پیشوا اور مقتدیٰ ہیں، پھر آپکو نماز پڑھانے کیلئے بلایا جائے گا تو آپ اس امت کو اللہ تعالیٰ نے امام مہدی کے ذریعہ جو اعزاز بخشا ہے، اسکے اظہار کے لئے اشارہ کریں گے کہ انکی امامت مہدی علیہ السلام کریں گے۔ میں کہتا ہوں کہ تطبیق اسکے برعکس طریقہ سے بھی ہوسکتی ہے اور ہوسکتا ہے یہ دعویٰ کیا جائے کہ امام مہدی ہی زیادہ اولیٰ ہیں، اس بنیاد پر کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ”امامكم منكم“ اس بارے میں واضح ہے کہ امام مہدی ہی امام ہوں گے اور اللہ تعالیٰ اس کی مراد کو بہتر جانتا ہے۔ انہوں نے کہا: اب رہا عیسیٰ علیہ السلام کا افضل ہونا تو اس سے دوسروں کی اقتداء باطل ہونا ضروری نہیں۔ اب رہا فضیلت کی بناء پر اولیٰ ہونا تو اس کے مقابل اللہ تعالیٰ کا اپنی شریعت دائمی بنا کر اس امت کو اعزاز عطا کرنے کا اظہار ہے جیسا کہ حدیث شریف سے واضح ہے۔ (مرقات)۔ 1 قوله فى قبرى (میری مزار میں) یعنی میری قبر کے مقام سے، قبر کی جگہ کو قبر سے تعبیر کیا گیا اسلئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی قبر انور کے اسقدر قریب ہوگی کہ گویا آپ دونوں ایک ہی قبر میں ہوں۔ (مرقات)۔ 1 قوله الساعة. (قیامت) اور قیامت کو ”الساعة“ کہا گیا ہے؛ کیونکہ وہ اچانک اور یک بیک آئے گی، تو اسکا آنا اتنے کم سے کم وقت میں ہوگا جس کو زمانہ کا نام دیا جاسکے، اگرچیکہ وہ قیامت اپنی انتہاء کے اعتبار سے دراز ہوگی اور یہ بھی کہا گیا کہ قیامت کو اسکی درازی کی وجہ سے ”ساعت“ کہا گیا، جیسا کہ حبشی کو اسکی ضد کا نام کافور دیا گیا۔ (مرقات)۔ 2 قوله وان من مات فقد قامت قيامته (اور جو وفات پا جائے اسکی قیامت قائم ہوچکی) وہ قیامت صغریٰ ہے، اور اب رہا کتاب اللہ میں تو میں نہیں سمجھتا کہ لفظ ”الساعة“ اس معنی میں آیا ہے، مگر ہاں وہ حدیث جسکو امام دیلمی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے، جسکے الفاظ یہ ہیں ”اذامات أحدكم فقد قامت قيامته“ (جب تم میں کا کوئی وفات پا جائے تو اسکی قیامت قائم ہوگی) اور اس باب میں جس حدیث کو عنوان بنایا گیا ہے اسکی مناسبت سے کوئی دوسری حدیث نہیں لائی گئی ہے جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ (مرقات)۔ 3 قوله بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ (میں اور قیامت ان دونوں (انگلیوں) کی طرح بھیجے گئے) علامہ ابن تین رحمہ اللہ نے کہا: اسکے معنی میں مختلف اقوال ہیں، چنانچہ کہا گیا: شہادت کی انگلی اور وسطیٰ کے درمیان کی درازی کی طرح، اور اسکے ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں، علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: حدیث شریف کا خلاصہ قیامت کی ۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ ۔۔۔ قریب ہونے اور اس کی تیز رفتاری بتانا ہے، یہ بات علامہ عینی رحمہ اللہ نے بیان فرمائی اور علامہ کرمانی رحمہ اللہ علیہ نے کہا: اس سے غرض یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت علامات قیامت میں سے ہے اور یہ دونوں باہم قریب ہیں۔ انتہی، اور علامہ سید نے کہا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ”بعثت أنا والساعة“ میں ”الساعة“ عطف کی بناء پر مرفوع ہے۔ یعنی میرے بھیجے جانے اور قیامت کے آنے میں صرف اس قدر فاصلہ ہے جیسا کہ درمیانی انگلی کے کنارہ کو شہادت کی انگلی کے کنارہ پر ہے۔ اور معیت کے معنی مراد لینے کی صورت میں ”الساعة“ منصوب پڑھا جائے گا۔ اور ایسی صورت میں دونوں انگلیوں کے درمیان کی درازی کے معنی جو حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہیں وہ درست نہ ہوں گے۔ بلکہ اس کے متعلق یہ کہا گیا کہ اس میں ایک دوسرے معنی کا احتمال ہے، وہ یہ کہ آپ کی دعوت کا تسلسل اور آپ کا دین قیامت تک مربوط رہے، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے جس طرح کہ شہادت کی انگلی اور وسطی کے درمیان ایسی چیز سے جدائی نہیں ہے جو ان سے نہیں ہے۔ 1 قولہ بعثت فی نفس الساعة (میں قیامت کے وقت میں بھیجا گیا ہوں) اس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد قیامت کا قریب ہونا ہے، یعنی جس وقت وہ نمایاں ہوئی ہے اور اس کے آثار و علامات ظاہر ہو چکے ہیں اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ“، یعنی قسم ہے صبح کی جب اس کے طلوع ہونے کے آثار ظاہر ہوں اور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بعثت قیامت کی اولین علامتوں میں سے ہے، یہ علامہ تورپشتی کے کلام کا مفہوم ہے۔ (مرقات)۔ اور صاحب ”کوکب دری“ نے کہا: ”نفس“ فاء کی حرکت (فتحہ) سے ہے اور اس سے مراد قریب ہونا ہے؛ کیونکہ جو شخص کسی چیز سے اس قدر قریب ہو جائے کہ اگلے آدمی تک اس کی سانس پہنچتی ہو تو وہ یقیناً اس کے بہت قریب ہے۔ اسی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کو اور اپنے آپ کو اپنی دو انگلیوں سے تشبیہ دی، اور یقیناً درمیانی انگشت کو شہادت کی انگلی پر تقدم و درازی ہے۔ 1 قولہ تسألونی عن الساعة (تم لوگ مجھ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہو) علامہ تورپشتی رحمہ اللہ نے کہا: ”الساعة“ زمانہ کے اجزاء میں سے ایک جز ہے، اور یہ لفظ قیامت کے لئے بولا جاتا ہے۔ اور کتاب اللہ اور حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث شریف میں اس کی تین قسمیں وارد ہوئی ہیں: