English
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, “You will conquer Egypt, a land where the qirat is mentioned. When you conquer it, treat its people well, for they 1 have a covenant and kinship—or he said: a covenant and marriage ties. When you see two men disputing over the place of a brick in it, leave 3 it.” He said, “I saw Abd al-Rahman ibn Shurahbil ibn Hasanah and his brother Rabi’ah disputing over the place of a brick, so I left 4 it.”
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2543a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (9)
Note 1
(1) His statement: where the qirat is mentioned: Qadi said: Meaning its people frequently mention qirats in their transactions due to their strictness and lack of generosity. The Hadith’s meaning: The people have baseness or vulgarity in their speech. His statement: treat its people well: Meaning with forgiveness and pardon for what you disapprove of, and do not let their bad actions or words lead you to harm them. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: they have a covenant: Meaning its people have a covenant of protection and safety through Ibrahim, the son of the Prophet (ﷺ), and kinship through Hajar, the mother of Isma’il (peace be upon her), as Hajar and Mariyah were Copts. Or he said: a covenant and marriage ties, due to the narrator’s doubt. The commentator said: In this narration, marriage ties refer to Mariyah, and the covenant to Hajar. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
(3) His statement: leave it: Meaning Abu Dharr, leave Egypt. It seems the command was addressed to him out of concern to protect him from falling into fitnah if he stayed among them. (As stated in Al-Mirqat)
Note 4
(4) His statement: so I left it: This occurred toward the end of Uthman’s era when they criticized his appointment of Abdullah ibn Sa’d ibn Abi Sarh, his foster brother. This is among what the Prophet (ﷺ) was shown of the unseen, that this event would occur in Egypt, followed by trials and evils, such as the Egyptians’ rebellion against Uthman initially, and their killing of Muhammad ibn Abi Bakr, who was their governor under Ali, hiding in a donkey’s carcass and being burned. This was a sign of those trials, and he ordered Abu Dharr to leave when he saw it. This is the apparent meaning relied upon by commentators. At-Tibi said: Or he knew the people’s nature included baseness and haggling, as the Hadith’s beginning indicates, so when they dispute over something trivial like a brick, one should avoid mixing with or living among them. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: هي أرض يسمى : أي يذكر فيها القيراط. قال القاضي: أي يكثر أهلها ذكر القراريط في معاملاتهم لتشددهم فيها وقلة مرواتهم. ومعنى الحديث: أن القوم لهم دناءة وخسة أو في لسانهم بذاء وفحش، وقوله: «فأحسنوا إلى أهلها أي بالصفح والعفو عما تنكرون، ولا يحملنكم سوء أفعالهم وأقوالهم على الإساءة. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: فإن لها: أي لأهلها ذمة، أي حرمة وأمانا من جهة إبراهيم ابن النبي ، ورحما بفتح فكسر، أي قرابة من قبل هاجر أم إسماعيل عليها، فإن هاجر ومارية كانتا من القبط، أو قال ذمة وصهرا شك من الراوي. قال شارح: فعلى هذه الرواية الصهر يختص بمارية والذمة بهاجر. كذا في «المرقاة».
Note 3
(۳) قوله: فأخرج أي أبا ذر منها» أي من مصر، والظاهر المطابق لـ «رأيتم أن يقال: فاخرجوا، ولعله ﷺ خص الأمر به شفقة عليه من وقوعه في الفتنة لو أقام بينهم. كذا في «المرقاة».
Note 4
(٤) قوله: فخرجت منها وقد وقع هذا في آخر عهد عثمان حين عتبوا عليه ولاية عبد الله بن سعد بن أبي سرح أخيه من الرضاعة، فهذا من قبيل ما كوشف للنبي الله من الغيب أنه ستحدث هذه الحادثة في مصر، وسيكون عقيب ذلك فتن وشرور بها، كخروج المصريين على عثمان ، أولا ، وقتلهم محمد بن أبي بكر ثانيا، وهو وال عليهم من قبل علي، فاختبأ حين أحس بالشر في جوف حمار میت فرموه بالنار فجعل ذلك علامة وإمارة لتلك الفتن، وأمر أبا ذر بالخروج منها حيثما رآه. وهذا هو الظاهر عليه اقتصر الشراح. وقال الطيبي: أو علم أن في طباع سكانها خسة ومماكسة كما دل عليه صدر الحديث، فإذا اقتضت الحال إلى أن يتخاصموا في هذا المحقر، فينبغي أن يتحرز عن مخالطتهم ويجتنب عن مساكنتهم. كذا في «المرقاة».
Note 1
(18) وقوله: هى ارض يسمى۔ یعنی اس سرزمین میں قیراط کا ذکر ہوگا۔علامہ قاضی نے فرمایا وہاں کے باشندے معاملات میں ان کی تنگی اور مروت کی کمی کی وجہ سے وہ اپنے معاملات میں کثرت سے قیراط کا ذکر کریں گے،اور حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ وہ قوم خسیس اور بدزبان ہوگی۔وقوله: فاحسنوا الى اهلها۔ یعنی ان کے (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) برے سلوک پر ان کو درگزر کرو اور ان کی بدسلوکی اور بدزبانی تمہیں ان کے ساتھ بدسلوکی پر آمادہ نہ کرے۔(مرقات)۔ (19) وقوله : فان لها۔ یعنی وہاں کے باشندگان کے لئے ذمہ ہے، اس سے مراد احترام اور امان ہے اور یہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے جو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کے صاحبزادے ہیں۔ وَرَحِمًا ر کو زبر (فتح) اور ح کو زیر (کسرہ) ہے، یعنی حضرت بی بی ہاجرہ کی طرف سے جو حضرت سیدنا اسمعیل علیہ السلام کی والدہ محترمہ ہیں کیونکہ سیدتنا ہاجرہ اور سیدتنا ماریہ دونوں قبطی خاندان سے ہیں۔ اوقال ذمة وصهرا۔ یہ راوی کا شک ہے یا آپ نے یہ فرمایا امان اور سسرالی رشتہ ہے، ایک شارح نے فرمایا اس روایت کی صورت میں صہر سسرالی رشتہ یہ حضرت ماریہ کے ساتھ خاص ہے اور ذمہ یعنی حرمت والی یہ بی بی ہاجرہ کی وجہ سے ہے۔(مرقات)۔ (20) وقوله : فاخرج۔ ای ابا ذر منها۔ منها سے مراد من مصر ہے، یعنی شہر مصر سے تم نکل جاؤ۔ فاذا اتيتم کے اعتبار سے بظاہر فاخرجوا ہونا چاہئے تھا۔(تم سب وہاں سے نکل جاؤ) مگر شاید کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکل کر چلے جانے کا حکم حضرت ابوذر کے ساتھ خاص فرمایا اس اندیشے سے کہ اگر وہ ان کے درمیان میں رہیں تو کہیں فتنے میں پڑ جائیں گے۔(مرقات)۔ (21) وقوله : فخرجت منها۔ میں اس شہر سے نکل گیا۔ یہ واقعہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے آخری زمانہ میں اس وقت پیش آیا جب آپ کے رضاعی بھائی عبداللہ بن سعد بن ابوسرح کی گورنری پر لوگ آپ کے سامنے ناراضگی کا اظہار کئے تھے اور یہ منجملہ علم غیب کے واقعات میں سے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف کئے گئے تھے کہ شہر مصر میں یہ واقعہ پیش آئے گا اور اس کے بعد اس میں شر و فساد اور فتنے رونما ہوں گے۔ جیسا کہ باشندگان مصر کا اولاً حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کرنا اور ثانیاً حضرت محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہما جو سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہ کی طرف سے اہل مصر پر گورنر تھے اہل مصر کا ان کو قتل کردینا آپ نے جب ان کے شر کو محسوس کیا تو مرے ہوئے گدھے کے پیٹ میں چھپ گئے تو وہ لوگ ان پر آگ کے شعلے پھینکے، اس کو آپ نے ان فتنوں کی علامت بنایا اور ابوذر کو اس شہر سے نکل جانے کا حکم فرمایا یہ ایک واضح بات ہے، شارحین حدیث نے ان ہی (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) واقعات پر اختصار کیا ہے اور علامہ طیبی نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ وہاں کے باشندگان کی طبیعتوں میں نخوت اور جھگڑالو پن ہے، جیسا کہ حدیث شریف کے ابتدائی متن سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے پس جب صورت حال اس قدر بگڑ جائے کہ ایک حقیر چیز کے لئے وہ آپس میں لڑ پڑیں تو مناسب یہ ہے کہ ان کے ساتھ رہنے اور ان میں بود و باش اختیار کرنے سے احتراز کریں۔(مرقات)۔