Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 6038

Chapter on the Mention of Yemen and Sham, and the Mention of Uwais al-Qarni (may Allah be pleased with him)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Mention of Yemen and Sham, and the Mention of Uwais al-Qarni (may Allah be pleased with him)

Zujajat al-Masabih 6038Volume 5

English

Ibn Hawalah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: “The matter 1 will come to you being armies mobilized: an army in Sham, an army in Yemen, and an army in Iraq.” Ibn Hawalah said: “Choose for me, O Messenger of Allah, if I witness that.” He said: “Go to Sham, for it is Allah’s chosen land, to which He gathers His chosen servants. But if you refuse, go to your Yemen and drink from your water pools, for Allah has guaranteed Sham and its people 2 for me.” 3
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2483 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (7)

Note 1

The matter

(1) His statement: “The matter” refers to Islam’s affair. “Armies” means its forces. “Mobilized” means gathered under Islam’s banner. “Choose for me” means select an army for me to join. “Chosen” means Allah’s selected land among all lands for residence in the end times. “He gathers His chosen servants” means Allah gathers His chosen ones to Sham. His statement: “If you refuse” means if you decline to go to Sham, then go to your Yemen and drink from your water pools. “Allah has guaranteed” means He has undertaken to preserve Sham and its people for my sake and honor in my nation. Torbushti said: His statement: “If you refuse” is a parenthetical remark between “Go to Sham” and “drink from your pools,” meaning stay in Sham and drink from your pools, but he permitted settling in Yemen, then returned to his initial point. He attributed Yemen to them as he addressed Arabs, and Yemen is part of Arab lands. His statement: “drink from your pools” means each should drink from their own pool to avoid disputes and trials. Tayyibi said: “If you refuse” is a rebuke, meaning Sham is Allah’s chosen land, so if you Arabs refuse what Allah chose and prefer your homelands, stay in Yemen and drink from its pools, as they are better than desert waters. Thus, Sham is the priMaryam (Mary) choice, and Yemen is for necessity. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

For Allah has guaranteed Sham and its people for me

(2) His statement: “For Allah has guaranteed Sham and its people for me” means, as Torbushti said, Allah ensured their protection from disbelievers’ harm and total destruction. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

for me

(3) His statement: “for me” means for my sake. Tayyibi said: It is not directly connected to “guaranteed” but to “on” or “with,” meaning Allah guaranteed Sham for my sake. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: سيصير الأمر : أمر الإسلام. وقوله: جنودا» أي عساكره. وقوله: «مجندة بتشديد النون المفتوحة، أي مجموعة في كلمة الإسلام. وقوله: «خر لي» بكسر الخاء وسكون الراء أمر من الخيرة بمعنى الاختيار، أي اخترلي جندا ألزمه. وقوله: «خيرة» أي مختارة الله من أرضه أي من بلاده ففيها خير عباده، والمعنى اختارها الله من جميع الأرض للإقامة في آخر الزمان. وقوله: يجتبي إليها خيرته من عباده من تبعيضية. فالمعنى يجمع الله إلى أرض الشام المختارين من عباده. وقوله: فأما إن أبيتم أي إن امتنعتم من القصد إلى الشام فعليكم بيمنكم، واسقوا بهمز الوصل، ويجوز قطعه، أي أنفسكم ودوابكم من غُدَركم بضم معجمة وفتح مهملة، أي حياضكم، فإن الله توكل» أي تكفل لي» أي لأجلي وإكراما لي في أمتي. قال التوربشتي: قوله: «فأما إن أبيتم هذا كلام معترض أدخله بين قوله: عليكم بالشام وبين قوله: واسقوا من غدركم أي الزموا الشام واسقوا من غدركم، فإن الله عز وجل قد تكفل لي بالشام وأهلها، رخص لهم في النزول بأرض اليمن، ثم عاد إلى ما بدئ منه، وإنما أضاف اليمن إليهم؛ لأنه خاطب به العرب، واليمن من أرض العرب ومعنى قوله: «واسقوا من غدركم ليسق كل واحد من غديره الذي يختص به، والأجناد المجندة بالشام، لا سيما أهل الثغور والنازلين في المروج من شأنهم أن يتخذ كل فرقة لنفسها غديرا تستنقع فيها الماء للشرب والتطهر وسقي الدواب، فوصاهم بالسقي مما يختص بهم وترك المزاحمة فيما سواه والتغلب؛ لئلا يكون سببا لاختلاف وتهييج الفتنة. وقال الطيبي: كان قوله : فأما إن أبيتم وارد على التأنيب والتغيير يعني أن الشام مختارة الله تعالى من أرضه، فلا يختارها الله إلا الخيرة الله من عباده، فإن أبيتم أيتها العرب ما اختاره الله تعالى واخترتم بلادكم ومَسْقَط رأسكم من البوادي، فالزموا يمنكم، واسقوا من غدرها؛ لأنه أوفق لكم من مياه البوادي. ألا ترى كيف جمع الضميرين في القرينتين بعد إفراده في قوله: عليك بالشام فعلم من هذا أن الشام أولى بالاختيار واليمن عند الاضطرار. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: فإن الله عز وجل توكل لي بالشام وأهله قال توربشتي: في سائر نسخ المصابيح»: «فإن الله قد توكل لي بالشام والصواب: قد تكفل لي وهو سهوا ما في أصل الكتاب، أو من بعض رواة الحديث، فنقل على ما وجد. قال القاضي: أراد بالتوكل التكفل، فإن من توكل في شيء فقد تكفل بالقيام به، والمعنى أن الله ضمن لي حفظها وحفظ أهلها من بأس الكفرة واستيلائهم بحيث يتخطفهم ويدمرهم بالكلية. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله : لي: قال الطيبي: قوله: «لي» ليس بصلة توكل». وصلته إما «على» أو الباء، ولا يجوز الأول فتعين الثاني، أي توكل بالشام لأجلي. وفي النهاية» يقال : توكل بالأمر إذا ضمن القيام به. كذا في «المرقاة».

Note 1

(15) قوله: سيصير الامر. امر سے امر الاسلام (اسلام کا معاملہ) مراد ہے۔ وقوله: جنودا. یعنی اس کے لشکر وقوله: مجندة. نون کو تشدید اور زیر ہے یعنی کلمہ اسلام پر قائم جماعت۔ وقوله: خر لي. خا کو زیر (کسرہ) اور را کو جزم ہے یہ خيرة سے امر ہے۔ یہ اختیار کے معنی میں ہے یعنی میرے لئے کوئی لشکر اختیار فرمایئے تاکہ میں اس کے ساتھ رہوں۔ وقوله: خيرة. یعنی اللہ کی زمین کا منتخب حصہ یعنی اس کے شہروں میں کا منتخب شہر پس اس میں اللہ کے نیک بندے ہوں گے مطلب یہ ہے کہ اخیر زمانے میں رہنے کیلئے ساری سرزمین سے اللہ اس زمین کا انتخاب کرے گا۔ وقوله: يجتبي اليها خيرته من عباده. اس میں من تبعیضیہ ہے مطلب یہ ہے اللہ تبارک وتعالیٰ سرزمین شام میں اپنے منتخب بندوں کو جمع کرے گا۔ وقوله: فاما ان ابيتم. یعنی اگر تم ملک شام کی طرف جانے کا ارادہ نہیں کرتے ہو (فعليكم بيمنكم واسقوا) اس میں ہمزہ وصل ہے اور ہمزہ قطعی بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی خود کو اور اپنے جانوروں کو سیراب کرو۔ (من غدر كم) اس میں غین کو پیش دال کو زیر ہے۔ یعنی اپنے حوضوں (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) سے (فان الله توكل لي) میری خاطر اور میرے اکرام کے لئے میری امت میں اس کا ذمہ لیا ہے۔ علامہ توربشتی نے فرمایا قولہ: فاما إن أبيتم یہ جملہ معترضہ ہے۔ عليكم بالشام اور واسقوا من غدركم کے درمیان یعنی ملک شام کو لازم کر لو اور اس کے تالابوں سے سیراب کرتے رہو کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے میری خاطر ملک شام اور وہاں کے رہنے والوں کی ذمہ داری لے لی ہے ان کو سرزمین یمن میں بھی جانے کی اجازت دی، پھر جس سے کلام کی ابتداء کی گئی تھی اس کی طرف لوٹتے ہوئے گفتگو فرمائی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کو ان کی طرف جو منسوب فرمایا اس لئے کہ اس میں اہل عرب سے خطاب ہے اور یمن عرب کی سرزمین کا ایک حصہ ہے (ومعنى قوله: واسقوا من غدركم) ہر ایک اپنے حوض سے جو اس سے مختص ہے پیتے پلاتے رہے، ملک شام میں جمع شدہ لشکر خاص طور پر سرحدوں پر رہنے والا لشکر اور وہ جو سبزہ زاروں میں اترینگے ان کا حال یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے لئے ایک حوض مختص کرے اور اس میں پینے کیلئے نظافت وطہارت کیلئے اور جانوروں کو پلانے کیلئے صاف ستھرا پانی مہیا کر لے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو وصیت فرمائی ہر ایک اپنے مختص حوض سے پئے اور پلایا کرے، اس کے سوا دوسرے میں غلبہ اور مزاحمت نہ کرے تاکہ فتنہ کو بھڑکانے اور اختلاف کا سبب نہ بنے، علامہ طیبی نے فرمایا آپ کا ارشاد (فاما ان ابيتم) بطور زجر اور نفرت کے ہے، یعنی ملک شام اللہ کی سرزمین میں اس کا پسندیدہ مقام ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو اپنے نیک بندوں ہی کیلئے انتخاب کرتا ہے اے عرب والو! اگر تم اللہ کے پسند کردہ مقام کو اختیار نہ کرو اور اپنے شہروں کو اور اپنے پیدائشی مقامات صحراوں کو اختیار کرتے ہو تو تم اس صورت میں یمن کو لازم کر لو اور تم اس کے حوضوں سے پیو اور پلاؤ کیونکہ وہ تمہارے لئے جنگل کے پانی سے زیادہ موافق ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ آپ کے ارشاد عليكم بالشام میں ضمیر کو مفرد لانے کے بعد دوبارہ کی ضمیروں کو کس طرح سے جمع کر دیا گیا ہے پس اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ملک شام کو اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے اور یمن کو اختیار کرنا مجبوری کی صورت میں ہے۔ (مرقات) (16) قوله: فان الله عزوجل توكل لي بالشام واهله. علامہ توربشتی نے فرمایا مصابیح کے تمام نسخوں میں (فان الله قد توكل لي بالشام) ہے اور درست بات (قد تكفل لي) ہے اور یہ یا تو اصل کتاب میں ہی سہو ہے یا (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) حدیث کے کسی راوی کی طرف سے ہے اور جیسا تھا ویسا نقل کر دیا گیا۔ علامہ قاضی نے فرمایا توکل سے تکفل مراد ہے کیونکہ جو شخص کسی چیز میں توکل کرتا ہے تو اس کے اہتمام کا ذمہ دار بھی ہوتا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری خاطر اس کی اور اس کے رہنے والوں کی کافروں کے خوف اور ان کے غلبہ سے اس طرح کہ وہ ان کو اغوا کریں اور ان کو بالکلیہ ہلاک کر دیں ان سے حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔ (مرقات) (17) قولہ: (لی) علامہ طیبی نے کہا قولہ: لی توکل کا صلہ نہیں ہے اس کا صلہ یا تو (علی) ہے یا (باء) ہے اور علی کا صلہ ہونا یہاں جائز نہیں ہے تو باء کا صلہ ہونا متعین ہو گیا۔ یعنی میرے خاطر اللہ نے ملک شام کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔ کتاب النہایۃ میں ہے جب کسی چیز کے انتظام کی ذمہ داری لی جاتی ہے تو توکل بالامر کہا جاتا ہے۔