English
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah ﷺ said: "The pure soil is the ablution of the Muslim, even if he does not find water for ten years. When he finds water, let him touch his skin with it; indeed, that is better." [Narrated by Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawood, and Nasa'i similarly, with the addition "for ten years"]
Al-Zajjaj said: "The word 'sa'id' (pure soil) refers to the surface of the earth, whether it is covered in dust or not, whether it is earth or stone, as long as it has no dust on it. I am unaware of any disagreement among the linguists regarding the meaning of 'sa'id' as the surface of the earth."
Our scholars have said that this hadith indicates that tayammum removes the state of ritual impurity (hadath), not merely permitting it. Also, the passing of time does not invalidate the tayammum. It is like wudu in that it is valid both during the time and before the time, and one may pray any obligatory or voluntary prayer with it. However, it does not combine with wudu, as it represents an alternative to the latter. The generality of this narration suggests that tayammum is not invalidated by the mere fact of finding water outside of prayer.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 124 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 332 (unverified) 94% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 322 (unverified) 85% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
زجاج نے کہا کہ ”صعید“ زمین کی سطح کو کہتے ہیں خواہ اس پر مٹی ہو یا نہ ہو یا ایسی چٹان ہو کہ اس پر گرد نہ ہو، زجاج نے یہ بھی کہا ہے کہ ”صعید“ کو سطح زمین کہنے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے۔ ہمارے علماء نے وضاحت کی ہے کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ تیمم وضوء کا مطلقاً یعنی کامل طور پر قائم مقام ہے تیمم کا وضوء کے کامل طور پر قائم مقام ہونے کی حیثیت سے تیمم پانی کے ملنے تک رافع حدث یعنی ناپاکی کو ایسا ہی دور کر دینے والا ہے جیسا کہ پانی اور تیمم اپنے اصل یعنی پانی کی طرح ایسا ہی پاک کرنے والا ہوگا، جیسا کہ خود پانی اور نماز کے وقت کا گزر جانا تیمم کو نہیں توڑے گا جس طرح وقت کے گزرنے سے وضوء نہیں ٹوٹتا بلکہ تیمم کا حکم بعینہ وضوء کے حکم کی طرح ہے کہ وقت کے اندر اور وقت کے قبل بھی جائز ہے اور تیمم سے فرض اور نفل جتنی نمازیں چاہیں ادا کر سکتے ہیں اور ان ہی وجوہ کی بنا پر تیمم اور وضوء کو جمع نہیں کیا جا سکتا کہ بدل اور مبدل یعنی قائم مقام اور اصل کا جمع کرنا درست نہیں ہے اور تیمم کے مطلق قائم مقام ہونے کی وجہ سے یہ ضروری نہیں کہ خارج نماز پانی کے ملنے پر بھی تیمم باطل ہو جائے بلکہ جس طرح خارج نماز پانی مل جانے سے تیمم باطل ہو جاتا ہے بالکل اسی طرح دوران نماز میں بھی پانی کے مل جانے کے علم سے بھی تیمم باطل ہو جائے گا، علاوہ ازیں اس حدیث کے الفاظ (عشر سنین) یعنی دس برس تک پانی نہ ملنے کی صورت میں بھی برابر تیمم کرنا رہے، سے اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ تیمم مطلقاً وضوء کا قائم مقام ہے نہ کہ ضرورتاً، یہ حنفی مذہب ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تیمم ضرورتاً وضوء کا قائم مقام ہے، تیمم کے ضرورتاً قائم مقام ہونے کی حیثیت سے امام موصوف کے پاس تیمم حقیقت میں حدث کو دور کرنے والا نہ ہوگا بلکہ حدث کے باقی رکھتے ہوئے ادائی فرض کے لئے تیمم ان کے پاس جائز ہوگا، یہی وجہ ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ کے مسلک کے لحاظ سے وقت کے پہلے تیمم جائز نہیں کیوں کہ وقت نماز کے شروع ہونے پر ادائی فرض کے لئے تیمم کی ضرورت لاحق ہوتی ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ)12