English
Narrated Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) that the Prophet ﷺ said: "The time for Maghrib prayer lasts until the red twilight disappears." [Narrated by Muslim]
In a narration from Anas (may Allah be pleased with him), he asked the Prophet ﷺ, "When should I pray Isha?" The Prophet ﷺ replied, "When the horizon has turned completely dark."
In a narration by Abu Dawood, it is mentioned: "Isha should be prayed when the horizon becomes completely dark." Ibn Khuzaymah and others have authenticated this narration.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 612a (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "When the horizon turns dark": In Al-Istikhara, it is said that "the twilight" refers to the whiteness of the sky, and this was the view of Abu Bakr, Mu'adh ibn Jabal, and Aisha. I said: [Narrated by Abdul Razzaq from Abu Huraira and Umar ibn Abd al-Aziz, and al-Bayhaqi only narrated the red twilight from Ibn Umar, and the full narration is in his work. When the narrations and reports contradict each other, the time for Maghrib should not be determined by doubt, as mentioned in Al-Hidaya and others. The scholar Qasim stated that the opinion of the Imam is the most correct, and it is followed in Al-Bahr. However, the general practice of people today in many areas is based on the opinion of the two (other scholars), which has been supported in Al-Nahr following Al-Naqaya, Al-Waqaya, Al-Durr, Al-Islah, Durar al-Bihar, Al-Imdad, Al-Mawahi, Sharh al-Burhan, and others who have explicitly stated that this is the view upon which fatwas are given. In Al-Siraj, it is mentioned that the opinion of these two is broader, while the opinion of the Imam is more cautious, as noted in Radd al-Muhtar.
Note 1
(۱) قوله: حين يسود الأفق: قال في الاختيار»: «الشفق»: البياض، وهو مذهب الصديق ومعاذ بن جبل وعائشة قلت: ورواه عبد الرزاق عن أبي هريرة وعن عمر بن عبد العزيز، ولم يرو البيهقي الشفق الأحمر إلا عن ابن عمر، وتمامه فيه. وإذا تعارضت الأخبار والآثار فلا يخرج وقت المغرب بالشك، كما في الهداية» وغيرها. قال العلامة قاسم فثبت أن قول الإمام هو الأصح، ومشي عليه في البحر». ولكن تعامل الناس اليوم في عامة البلاد على قولهما، وقد أيده في النهر» تبعا لـ «النقاية» و«الوقاية» و«الدر» و «الإصلاح» و درر البحار» و«الإمداد» و«المواهب» وشرحه البرهان» وغيرهم مصرحين بأن عليه الفتوى. وفي «السراج»: قولهما أوسع، وقوله أحوط. كذا في رد المحتار».
Note 1
ف: ”كِتَابُ الاِخْتِيَار“ میں لکھا ہے کہ شفق سے مراد سفید شفق ہے اس سے معلوم ہوا کہ سفیدی ختم ہونے تک مغرب کا وقت رہتا ہے اور سفیدی ختم ہونے کے بعد عشاء کا وقت شروع ہوجاتا ہے، چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق، معاذ بن جبل اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہم کا یہی قول ہے اور صاحب درالمختار کہتے ہیں کہ اس کی روایت عبدالرزاق نے ابوہریرہ اور عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہما سے بھی کی ہے۔ اسی وجہ سے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے شفق سے سفید شفق مراد لی ہے۔ البتہ شفق سے سرخ شفق مراد ہونے کی روایت بیہقی نے صرف ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کی ہے اور اس حدیث کی پوری روایت بیہقی میں موجود ہے اور اس لئے صاحبین نے شفق سے سرخ شفق مراد لیا ہے۔ ”ہدایہ“ وغیرہ میں مذکور ہے کہ جب احادیث و آثار میں تعارض پیدا ہوگیا کہ شفق سے کیا مراد لیں؟ شفق کے بارے میں کسی حدیث سے سفیدی اور کسی حدیث سے سرخی معلوم ہوتی ہے تو شک پیدا ہوگیا اس لئے اس شک کی وجہ سے سرخ شفق کے غائب ہونے سے مغرب کا وقت ختم نہیں ہوگا۔ علامہ قاسم نے فرمایا ہے کہ اس سے ثابت ہوا کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول صحیح ترین قول ہے اور ”بحرالرائق“ نے اسی کو اختیار کیا ہے، لیکن اس زمانہ میں اکثر ممالک میں لوگوں کا تعامل صاحبین کے قول پر ہوچلا ہے۔ نہر نے نقایہ، وقایہ، درہ، الاصلاح، دررالبحار، الامداد، المواہب اور اس کی شرح البرہان نے بھی ان ساری کتابوں کے حوالے سے صاحبین کے قول کی تائید کی ہے اور ان سب نے صراحت کی ہے کہ فتویٰ صاحبین کے قول پر ہی ہے اور سراج میں مذکور ہے کہ صاحبین کے قول پر عمل کرنے میں سہولت ہے اور امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کے قول پر عمل کرنے میں احتیاط ہے یہ پورا مضمون ردالمحتار سے ماخوذ ہے۔ عمدۃ الرعایہ میں لکھا ہے کہ اس اختلاف کی وجہ سے اولیٰ یہ ہے کہ نماز مغرب سرخ شفق تک ادا کر لی جائے اور نماز عشاء سفید شفق کے ختم ہونے کے بعد شروع کی جائے تاکہ ہر دو نمازیں مغرب اور عشاء بالاتفاق اپنے اپنے وقت پر ادا ہو جائیں۔12