Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 944

Chapter on the Adhan

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on the Adhan

Zujajat al-Masabih 944Volume 1

English

It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When the Iqamah is called, do not come to it running. Come to it walking, and maintain tranquility. Pray what you catch, and complete what you miss." 1 [Narrated by Abu Dawud, At-Tahawi, and Ibn Abi Shaybah 2 with a Sahih chain from Abu Dharr] Ibn Hazm narrated it with a similar chain from Abu Hurairah, and Al-Bayhaqi narrated it with an acceptable chain from Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him). In a narration by Muslim: "When one of you is heading to prayer, he is in a state of prayer." Muhammad (may Allah have mercy on him) said: "Do not rush into bowing or starting until you reach the row and stand in it."
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 572 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 602a (unverified) 91% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

Complete what you miss

(1) Explanation of the statement: "Complete what you miss": Scholars have differed regarding the terms "Qada" (making up) and "Itmam" (completing) mentioned here. Are they synonymous, or do they have different meanings? This has led to differences in opinion regarding what a person who joins the prayer late catches. Is it the beginning of his prayer or the end? There are several opinions: It is the beginning of his prayer, and he continues upon it in actions and words. This is the opinion of Imam Shafi'i, Ishaq, Al-Awza'i, and a narration from Malik and Ahmad. They use as evidence the statement: "Complete what you miss," because the term "completion" applies to the remainder of something that has already begun. It is the end of his prayer, and he is making up for what he missed in actions and words. This is the opinion of Abu Hanifah, Ahmad in one narration, Sufyan, Mujahid, and Ibn Sirin. Ibn Battal narrated this from Ibn Mas'ud, Ibn 'Umar, Ibrahim An-Nakha'i, Ash-Sha'bi, and Abu Qilabah. They use as evidence the statement: "Complete what you miss." The response to the evidence used by Imam Shafi'i and his followers, which is the statement "Complete," is that the prayer of the follower is connected to the prayer of the Imam. Therefore, the statement "Complete" is interpreted to mean that whoever makes up what he missed has completed it because the prayer is incomplete due to what was missed, and making it up completes what was lacking. This is mentioned in 'Umdat Al-Qari.

Note 2

Ibn Abi Shaybah

(2) Explanation of the statement: "Ibn Abi Shaybah": This will be discussed in the chapter on the Khutbah and prayer.

Note 1

قوله

(۱) قوله: وما فاتكم فاقضوا اختلف العلماء في القضاء والإتمام المذكورين، هل هما بمعنى واحد أو بمعنيين وترتب على ذلك خلاف في ما يدركه الداخل مع الإمام، هل هو أول صلاته أو آخرها؟ على أقوال. منها: أنه أول صلاته وأنه يكون بانيا عليه في الأفعال والأقوال، وهو قول الشافعي وإسحاق والأوزاعي، ورواية عن مالك وأحمد. واستدلوا بقوله: وما فاتكم فأتموا؛ لأن لفظ الإتمام واقع على باقي من شيء قد تقدم سائره. ومنها : أنه آخر صلاته وأنه يكون قاضيا في الأفعال والأقوال، وهو قول أبي حنيفة وأحمد في رواية وسفيان ومجاهد وابن سيرين. وقال ابن بطال وروي ذلك عن ابن مسعود وابن عمر وإبراهيم النخعي والشعبي وأبي قلابة. واستدلوا على ذلك بقوله : وما فاتكم فاقضوا والجواب عما استدل به الشافعي ومن تبعه، وهو قوله: «فأتموا»: أن صلاة المأموم مرتبطة بصلاة الإمام، فحمل قوله: «فأتموا» على أن من قضى ما فاته فقد أتم؛ لأن الصلاة تنقص بما فات، فقضاؤه إتمام لما نقص، كذا في عمدة القاري».

Note 2

(۲) قوله وابن أبي شيبة وسيجيء في باب الخطبة والصلاة». منه

Note 1

ف(1): اس حدیث میں مذکور ہے ”إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلٰوةُ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ“(جب نماز کی اقامت ہونے لگے تو تم نماز کیلئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو) واضح ہو کہ اقامت سن کر دوڑنے کی جو ممانعت یہاں وارد ہے وہ بھی تنزیہی ہے، چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث جو اس حدیث کے بعد آرہی ہے اس سے جماعت کیلئے بغیر مشقت کے تیزی سے آنا ثابت ہو رہا ہے۔ (التعلیق الممجد)12 ف(2): اس حدیث میں یہ بھی وارد ہے کہ ”فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَافَاتَكُمْ فَاقْضُوا“ (جو کچھ نماز تم کو مل جائے اُسے جماعت کے ساتھ پڑھ لو اور جو باقی رہ جائے بعد میں اس کی قضاء کرلو۔) اس کی تفصیل یہ ہے کہ کسی شخص کو امام کے ساتھ ابتداء نماز سے جماعت میں شرکت کا موقع نہ مل سکا اور جماعت میں وہ ایسے وقت شریک ہوا جب کہ نماز کا کچھ حصہ ہو چکا تھا، ایسے شخص کو مسبوق کہتے ہیں، ایسے لوگوں کے متعلق حدیث میں دو طرح کے الفاظ وارد ہیں۔ (1)”وَمَافَاتَكُمْ فَاقْضُوا“ (نماز کا جو حصہ امام کے ساتھ نہ ملنے سے فوت ہو گیا ہے اس کی قضاء کرلو۔) دوسرے ”وَمَافَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا“ (نماز کا جو حصہ امام کے ساتھ نہ ملنے سے فوت ہو گیا ہے اس کو تمام کرلو۔) ایک میں قضاء اور دوسرے میں اتمام کا لفظ مذکور ہے، اب اتمام اور قضاء کے معنی میں علماء کے درمیان یہ اختلاف ہے کہ کیا ان دونوں لفظوں کا مطلب ایک ہے یا دونوں کے معنی الگ الگ ہیں؟۔ اس اختلاف کی بناء پر مسبوق کے متعلق یہ اختلاف پیدا ہوا کہ مسبوق جب سے امام کے ساتھ نماز میں شریک ہوا ہے تو امام کے ساتھ ادا کی ہوئی نماز مسبوق کی ابتداء ہوگی یا اُس کی آخری نماز ہوگی؟ اس بارے میں دو قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ مسبوق جہاں سے نماز میں شریک ہوا ہے وہاں سے اس کی نماز شروع ہوئی ہے، اس لئے یہ اس کی نماز کا ابتدائی حصہ ہوگا، اور یہ شخص امام کے نماز سے فارغ ہونے کے بعد اپنی بقیہ نماز کی تکمیل کرے گا اور نماز کا وہ حصہ جس کو یہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد ادا کر رہا ہے، اس کی نماز کا آخری حصہ سمجھا جائے گا اور یہ بعد والی نماز جس کو یہ تنہا پڑھ رہا ہے امام کے ساتھ ادا شدہ نماز کا تتمہ کہلائے گی، یہ امام شافعی، امام اسحاق اور امام اوزاعی رحمہم اللہ کا قول ہے اور امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ سے بھی ایک روایت میں اسی طرح منقول ہے اور ان سب حضرات نے حدیث کے الفاظ ”وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا“ سے استدلال کیا ہے اس لئے کہ اتمام کا تعلق ایسی شئے سے ہوتا ہے جس کی ابتداء پہلے سے ہو اور اس کا کچھ حصہ باقی رہ جائے تو اس قول کی بناء پر امام کے بعد مسبوق کی جو نماز ادا ہو رہی ہے وہ نماز کا آخری حصہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مسبوق جہاں سے جماعت میں شریک ہوا ہے وہ مسبوق کی نماز کا آخری حصہ ہے جیسے کہ خود امام کی نماز کا آخری حصہ ہے، اس لئے یہ شخص امام کے نماز سے فارغ ہونے کے بعد قضاء نماز جو ادا کرے گا، وہ اس کی نماز کے فوت شدہ ابتدائی حصہ کی قضاء ہوگی اور نماز کا وہ حصہ جس کو یہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد ادا کر رہا ہے اس کی نماز کا ابتدائی حصہ کہلائے گا جو قضاء ہو گیا تھا، اب وہ اس کو ادا کر رہا ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک روایت اسی طرح کی ہے۔ نیز حضرت سفیان، مجاہد اور ابن سیرین رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے، ابن بطال نے کہا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کی تائید حضرات ابن مسعود ابن عمر، ابراہیم نخعی، شعبی اور ابوقلابہ رضی اللہ عنہم کی روایتوں سے ہوتی ہے اور اس قول ثانی کے قائلین نے ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا“ سے استدلال کیا ہے اور امام شافعی اور ان کے اصحاب نے فَأَتِمُّوا سے جو استدلال کیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ مقتدی کی نماز امام کی نماز سے مربوط ہوتی ہے اور اس سے جدا نہیں ہوسکتی، اس لئے امام کی نماز کا جو آخری حصہ ہے وہ مسبوق کی نماز کا بھی لازماً آخری حصہ متصور ہوگا ورنہ امام کی اقتداء کے منشاء کے خلاف ہوگا، اس بناء پر ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”فَأَتِمُّوا“ کو بمعنی ”فَاقْضُوا“ اس طرح محمول کیا جائے گا کہ جس نے نماز کے فوت شدہ حصہ کی قضاء کی تو اس نے اپنی نماز کو تمام کر لیا یعنی مکمل کر لیا اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کے فوت شدہ حصہ کے باقی رہ جانے سے اس شخص کی نماز ناقص تھی اور اس شخص نے امام کے نماز ختم کرنے کے بعد نماز کے باقی حصہ کو ادا کر کے اپنی اس ناقص نماز کو تمام کر لیا۔ (یہ عمدۃ القاری میں مذکور ہے)۔ اس کو مثال سے اس طرح سمجھئے: ایک شخص ظہر کی جماعت میں امام کے ساتھ ایسے وقت شریک ہوا جبکہ امام کی دو رکعتیں ہو چکی تھیں اور اس نے امام کے ساتھ آخری دو رکعتیں ادا کر لیں تو امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کے لحاظ سے امام کے ساتھ اس نے آخری جو دو رکعتیں ادا کی ہیں اس کی پہلی دو رکعتیں ہوں گی اور اب وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد جو دو رکعتیں ادا کر رہا ہے اس کی آخری دو رکعتیں ہیں کہ وہ ان دو رکعتوں سے اپنی نماز کو تمام کر رہا ہے اس لئے وہ ان دونوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھے گا، ضم سورہ نہیں کرے گا، اس کے برخلاف امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے لحاظ سے اس مسبوق نے امام کے ساتھ جو دو رکعتیں ادا کی ہیں وہ امام کی رکعتوں کی طرح اس کی بھی آخری دو رکعتیں ہیں اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد یہ جو دو فوت شدہ رکعتیں ادا کرے گا اس کی پہلی دو رکعتیں ہیں جو قضاء ہوئی ہیں، جن کو یہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد ادا کر رہا ہے اس وجہ سے وہ ان دونوں رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ ضم سورہ بھی کرے گا اور جن حدیثوں میں ”فَاقْضُوا“ کا ذکر ہے اس کی یہی تفصیل ہے۔12