An-Nu'man ibn Bashir (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) would straighten our rows as if he were straightening arrows, until he saw that we had understood. Then one day, he came out and stood (for prayer) until he was about to say the Takbir. He noticed a man whose chest was protruding from the row, so he said: 'O servants of Allah, you must straighten your rows, or Allah will cause discord among your faces.'"
An-Nu'man ibn Bashir (may Allah be pleased with him) also reported: "The Messenger of Allah (peace be upon him) would straighten our rows when we stood for prayer. When we were aligned, he would say the Takbir."
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Iqamah was called, and the Messenger of Allah (peace be upon him) turned to us and said: 'Straighten your rows and stand close together, for I can see you from behind my back.'" [Narrated by Al-Bukhari]
In another agreed-upon narration, he said: "Complete the rows, for I can see you from behind my back."
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (peace be upon him) would say: 'Straighten, straighten, straighten! By the One in Whose Hand is my soul, I see you from behind me just as I see you in front of me.'"
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Straighten your rows, for straightening the rows is part of establishing the prayer." [Agreed upon]
In Muslim's version: "Straightening the rows is part of perfecting the prayer."
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) would say to his right: 'Align yourselves, straighten your rows,' and to his left: 'Align yourselves, straighten your rows.'"
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Straighten your rows, bring them close together, and align your necks. By the One in Whose Hand is my soul, I see Satan entering through the gaps in the rows as if they are small goats."
Jabir ibn Samurah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) came out to us and saw us in separate groups. He said: 'Why do I see you disunited?' Then he came out to us again and said: 'Will you not align your rows as the angels align themselves before their Lord?' We asked: 'O Messenger of Allah, how do the angels align themselves before their Lord?' He replied: 'They complete the front rows first and stand close together in the row.'"
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Complete the front row, then the one following it. If there is any deficiency, let it be in the last row."
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A group of people will continue to lag behind the front row until Allah will place them in the Fire."
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 679 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف۔ واضح ہو کہ نمازی کے صف اوّل میں کھڑے ہونے کی بہت بڑی فضیلت ہے لیکن صف
اول میں کھڑے ہونا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے اور اس پر تمام ائمہ کرام کا اتفاق ہے، یہ فتاویٰ عالمگیریہ
میں قنیہ سے منقول ہے۔
اب رہی وہ وعید جو صدر کی اس حدیث میں مذکور ہے تو وہ ایسے اشخاص سے متعلق ہے جو نیکیوں
اور فضیلت کے کاموں کے حاصل کرنے میں سستی اور غفلت کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں اور ان کے
دلوں میں نیکیوں کی رغبت نہیں رہتی اور خواہ مخواہ صف اول کو چھوڑ بیٹھتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد
ہے: ”فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ“ (لوگو! تم نیک کاموں کی طرف دوڑو) ایک اور جگہ ارشاد ہے
”سَابِقُوا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ“ (لوگو!
اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف دوڑو اور ایسی جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسمان اور زمین
دونوں کی وسعت کے برابر ہے)۔
ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں نیکیوں کے کرنے کی رغبت اور
نیکیوں کا خیال رہنا چاہئے اور یہ واجب ہے اگر کسی کے دل سے نیکیوں کی رغبت اور نیکیوں کا خیال نکل
جائے اور نیکیوں کے کرنے سے بے پرواہی کرے تو یہ دل کا گناہ ہے اور ایسا کرنے سے واجب ترک
ہوتا ہے تو ایسے شخص کا صف اول میں نہ شریک ہونا اور اس سے بے پرواہی کرنا واجب کو ترک کرنا ہوا،
اس لئے گناہ کا کام ہوا۔ اور اسی وجہ سے اس وعید کا مستحق ہوگا جو صدر کی حدیث میں مذکور ہے، بخلاف
اس کے اگر کسی کے دل میں نیکیوں کی رغبت ہے اور نیکیوں کے کرنے کا خیال جما ہوا ہے اور باوجود اس
کے یہ صف اول میں کسی وجہ سے شریک نہ ہو سکا تو وہ اس وعید کا مستحق نہ ہوگا۔
یہ بھی واضح رہے کہ صدر کی حدیث میں جو وعید مذکور ہے وہ اس شخص سے بھی متعلق ہوگی جو اولاً
صف اول میں جگہ حاصل کر لے پھر فرض نماز ادا کرنے سے پہلے کسی دنیوی غرض سے مثلاً نماز کے
بعد مسجد سے جلد نکلنے کا خیال یا گرمی کے موسم میں راحت حاصل کرنے کے لئے اندرون مسجد سے نکل
کر صحن مسجد میں آ جائے، ظاہر ہے کہ ایسے شخص کا ان اغراض کے لئے صف اول کو چھوڑ کر پچھلی صفوں
میں پہنچ جانا حصول تقرب سے اعراض ہوا، اس لئے ایسا شخص اس وعید کا مستحق ہوا۔ البتہ صف اول میں
احتراماً کسی اہل علم کو یا اپنے سے زیادہ عمر والے صاحب کو جگہ دینے کے لئے پچھلی صف میں منتقل ہونیوالا اس
وعید کا مستحق نہ ہوگا۔ اس لئے کہ یہ شرعاً مطلوب ہے۔ (یہ پورا مضمون تعلیق اعلاء السنن سے ماخوذ ہے)۔
Abu Sa'id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) noticed some of his companions lagging behind, so he said to them: 'Come forward and complete the row with me, and let those behind you follow your example. A group of people will continue to lag behind until Allah will place them behind (in the Fire).'"
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Straighten the rows, align your shoulders, fill the gaps, be gentle with your brothers, and do not leave openings for Satan. Whoever joins a row, Allah will join him (with His mercy), and whoever breaks a row, Allah will cut him off (from His mercy)."
Al-Bara' ibn 'Azib (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) used to say: 'Allah and His angels send blessings upon those who join the front rows. There is no step more beloved to Allah than a step taken to join a row.'"
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The best among you are those who are most gentle with their shoulders in prayer."
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 672 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(یعنی کوئی مونڈھے پر ہاتھ رکھ کر صف میں برابر کرے تو اس کا کہنا مانتے ہیں، یا صف میں گنجائش ہے
اور کوئی آنا چاہے تو اس کو آنے دیتے ہیں اور اپنے بازوؤں کو دبائے ہوئے رکھتے ہیں اور مزاحمت
نہیں کرتے، یا اپنے مونڈھوں سے اپنے ساتھی کے مونڈھوں کو دھکا نہیں دیتے بلکہ اپنے بازوؤں کو
دبائے ہوئے رکھتے ہیں تاکہ اس کو تکلیف نہ ہو، اور نماز سکون اور وقار سے ادا کرتے ہیں یا کوئی اکیلا
شخص صف کے آخری شخص کو دوسری صف میں لانے کے لئے مونڈھے پر ہاتھ رکھے تو اس کا
کہا مان کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور اس کے ساتھ صف ثانی میں نماز ادا کرتے
ہیں)۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف۔ واضح ہو کہ نمازی کے صف اوّل میں کھڑے ہونے کی بہت بڑی فضیلت ہے لیکن صف اول میں کھڑے ہونا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے اور اس پر تمام ائمہ کرام کا اتفاق ہے، یہ فتاویٰ عالمگیریہ میں قنیہ سے منقول ہے۔ اب رہی وہ وعید جو صدر کی اس حدیث میں مذکور ہے تو وہ ایسے اشخاص سے متعلق ہے جو نیکیوں اور فضیلت کے کاموں کے حاصل کرنے میں سستی اور غفلت کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں اور ان کے دلوں میں نیکیوں کی رغبت نہیں رہتی اور خواہ مخواہ صف اول کو چھوڑ بیٹھتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ“ (لوگو! تم نیک کاموں کی طرف دوڑو) ایک اور جگہ ارشاد ہے ”سَابِقُوا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ“ (لوگو! اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف دوڑو اور ایسی جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسمان اور زمین دونوں کی وسعت کے برابر ہے)۔ ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں نیکیوں کے کرنے کی رغبت اور نیکیوں کا خیال رہنا چاہئے اور یہ واجب ہے اگر کسی کے دل سے نیکیوں کی رغبت اور نیکیوں کا خیال نکل جائے اور نیکیوں کے کرنے سے بے پرواہی کرے تو یہ دل کا گناہ ہے اور ایسا کرنے سے واجب ترک ہوتا ہے تو ایسے شخص کا صف اول میں نہ شریک ہونا اور اس سے بے پرواہی کرنا واجب کو ترک کرنا ہوا، اس لئے گناہ کا کام ہوا۔ اور اسی وجہ سے اس وعید کا مستحق ہوگا جو صدر کی حدیث میں مذکور ہے، بخلاف اس کے اگر کسی کے دل میں نیکیوں کی رغبت ہے اور نیکیوں کے کرنے کا خیال جما ہوا ہے اور باوجود اس کے یہ صف اول میں کسی وجہ سے شریک نہ ہو سکا تو وہ اس وعید کا مستحق نہ ہوگا۔ یہ بھی واضح رہے کہ صدر کی حدیث میں جو وعید مذکور ہے وہ اس شخص سے بھی متعلق ہوگی جو اولاً صف اول میں جگہ حاصل کر لے پھر فرض نماز ادا کرنے سے پہلے کسی دنیوی غرض سے مثلاً نماز کے بعد مسجد سے جلد نکلنے کا خیال یا گرمی کے موسم میں راحت حاصل کرنے کے لئے اندرون مسجد سے نکل کر صحن مسجد میں آ جائے، ظاہر ہے کہ ایسے شخص کا ان اغراض کے لئے صف اول کو چھوڑ کر پچھلی صفوں میں پہنچ جانا حصول تقرب سے اعراض ہوا، اس لئے ایسا شخص اس وعید کا مستحق ہوا۔ البتہ صف اول میں احتراماً کسی اہل علم کو یا اپنے سے زیادہ عمر والے صاحب کو جگہ دینے کے لئے پچھلی صف میں منتقل ہونیوالا اس وعید کا مستحق نہ ہوگا۔ اس لئے کہ یہ شرعاً مطلوب ہے۔ (یہ پورا مضمون تعلیق اعلاء السنن سے ماخوذ ہے)۔