اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1147
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ
عنہا کے پاس ایک باریک رنگین باتصویر پردہ تھا جس کو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے اپنے حجرہ مبارک
کی دیوار کی زینت کیلئے باندھ رکھا تھا۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
تم اس پردہ کو ہمارے سامنے سے نکال دو اس لئے کہ اس کی تصویریں مجھے نماز میں دکھائی دینے سے
میری مشغولیت ان کی طرف ہو جاتی ہے۔(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 374 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں، ایک(1) یہ کہ نماز ادا کرتے وقت نمازی کے لباس پر یا نمازی کے سامنے تصویریں نہیں ہونی چاہیئے اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویروں کو نکال دینے کا حکم فرمایا ہے،(2) دوسرے یہ کہ نمازی کے سامنے یا لباس پر تصویریں ہونے سے نماز مکروہ ہوتی ہے، فاسد نہیں ہوتی، کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نماز کی حالت میں تصویریں تھیں تو آپ نے ان کو نکالنے کا حکم دیا مگر نماز کا اعادہ نہیں فرمایا، چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا اعادہ نہیں فرمایا، اسی وجہ سے نماز کے فاسد ہو جانے کا حکم نہیں لگایا جائے گا بلکہ نماز کے مکروہ ہونے کا حکم لگایا جائے گا، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے۔(عمدۃ القاری)