Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1030

(یہ باب ستر عورت (ستر ڈھانکنے کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب ستر عورت (ستر ڈھانکنے کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 1030Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1158
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرمائیں کہ کیا عورت بغیر تہ بند کے کرتے اور اوڑھنی میں نماز پڑھ سکتی ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں (عورت بغیر تہ بند کے بھی نماز پڑھ سکتی ہے۔) جبکہ اس کا کرتا اس قدر دراز ہو کہ اس کے پشت قدم کرتے میں چھپ جاتے ہوں۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 640 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

It covers the tops of her feet.

(1) The statement: "It covers the tops of her feet." According to Abu Hanifah, the feet are part of the private area (awrah), and this is also the opinion of Ash-Shafi'i, based on this hadith. It is mentioned in Sharh An-Nuqayah. In Al-Khaniyyah, it is stated: "The correct view is that exposing a quarter of the foot invalidates the prayer, just like exposing other parts of the body that are considered private."

Note 1

قوله

(۱) قوله: يغطي ظهور قدميها وعن أبي حنيفة: أن القدم عورة، وبه قال الشافعي؛ لهذا الحديث، قاله في شرح النقاية». وقال في «الخانية: الصحيح أن انكشاف ربع القدم يمنع جواز الصلاة كسائر الأعضاء التي هي عورة.

Note 1

ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت کیلئے پشت قدم کو چھپانا فرض ہے (پشت قدم تلوے) اسی لئے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ عورت کے قدم بھی ستر میں داخل ہیں، اور اس حدیث کی وجہ سے امام شافعی رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ (یہ شرح الوقایہ میں مذکور ہے۔) عورت کا قدم ستر میں داخل ہونے کی وجہ سے خانیہ میں کہا ہے کہ نماز کے وقت عورت کے قدم کا چوتھائی حصہ دکھائی دینے سے نماز نہیں ہوگی جیسا کہ جسم کے دیگر اعضاء کا چوتھائی حصہ نظر آنے سے نماز جائز نہیں ہوتی ہے۔ البتہ نماز میں قدم یا کسی اور عضو کا چوتھائی حصہ سے کم حصہ دکھائی دے تو نماز ادا ہوجائے گی۔ (مرقات، عمدۃ الرعایۃ)۔