Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1044

(یہ باب سترہ کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب سترہ کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 1044Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1175
سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ (نمازی کے سامنے گزرنے والی کوئی چیز مسلمان کی نماز کو فاسد نہیں کرتی اور جہاں تک تم سے ہوسکے (گزرنے والے کو) روکو۔ (اس کی روایت طحاوی اور بیہقی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (3)

Note 2

Repel from it as much as you can

(2) The statement: "Repel from it as much as you can" – Muhammad (Imam Malik) said in Al-Muwatta: "It is disliked for a person to pass in front of a praying person. If someone intends to pass in front of them, they should repel them as much as possible without fighting. If they fight, the disturbance caused by fighting during the prayer is worse than the passerby crossing in front of them. We do not know of anyone who reported fighting except what was narrated from Abu Sa'id al-Khudri, and this is not the general practice. Rather, it is as I have described to you." End quote.

Note 2

قوله

(۲) قوله: وادرؤوا عنها ما استطعتم: قال محمد في الموطأ» يكره أن يمر الرجل بين يدي المصلي، فإن أراد أن يمر بين يديه فليدراً ما استطاع، ولا يقاتله. فإن قاتله كان ما يدخل عليه في صلاته من قتاله إياه أشد عليه من تمر هذا بين يديه، ولا نعلم أحدا روى قتاله إلا ما روي عن أبي سعيد الخدري، وليست العامة عليها، ولكنها على ما وصفت لك. انتهى

Note 1

ف: امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے موطاء میں کہا ہے کہ نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے لئے مکروہ تحریمی ہے، اگر کوئی نمازی کے سامنے سے گزرنا چاہے تو نمازی جہاں تک ہوسکے اس کو روکے لیکن اس آدمی سے نہ لڑے۔ اگر نمازی گزرنے والے سے لڑ پڑے تو نمازی کا لڑنا گناہ میں گزرنے والے کے گناہ سے زیادہ سخت ہوگا اس لئے کہ نمازی کے سامنے سے گزرنا گزرنے والے کے لئے مکروہ ہے فاسد نماز نہیں، اس کے برخلاف نمازی کا اس آدمی سے لڑنا عمل کثیر ہونے کی وجہ سے خود اس کی نماز کے لئے مفسد ہوگا، اب رہا یہ کہ حدیث شریف میں نمازی کے سامنے سے گزرنے والے نمازی کو ”فَلْيُقَاتِلْهُ “ فرما کر (لڑنے) کا جو حکم ہوا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ روکنے میں مبالغہ کیا جائے نہ کہ ایسی حقیقی لڑائی اختیار کی جائے کہ جس سے اس کی نماز فاسد ہو جائے۔ عامۃ العلماء کا یہی قول ہے۔ (التعلیق الممجد.)