Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1244

(یہ بات رکوع کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ بات رکوع کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 1244Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1420
ابن جُبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ہے وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں سوائے اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے کسی اور کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو، راوی کہتے ہیں کہ ہم نے ان کے رکوع کے تسبیحات کا اندازہ کیا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ دس بار پڑھ رہے ہیں، اور اسی طرح ہم نے ان کے سجدہ کی تسبیحات کا اندازہ کیا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى بھی دس بار پڑھ رہے ہیں۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 888 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1135 (unverified) 88% confidence · Validation similarity: 0.647

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رکوع اور سجدے میں تسبیحات کو تین بار سے زیادہ پڑھنا مستحب ہے تین بار سے زیادہ جو تسبیحات پڑھی جائیں گی ان کو طاق عدد یعنی (5) یا (7) یا (9) یا (11) مرتبہ پر ختم کرنا ضروری ہے جیسا کہ حدیث اِنَّ اللّٰهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ (اللہ تعالیٰ تنہا ہے اور طاق عدد کو پسند فرماتا ہے) سے اس کی تائید ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ میں تسبیحات کو طاق عدد پر ختم فرماتے تھے۔ واضح رہے کہ ابن جبیر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں جو دس دس مرتبہ تسبیحات کا ذکر ہے اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ درحقیقت رکوع اور سجدہ میں دس دس بار تسبیحات پڑھا کرتے تھے یہ صرف راوی کا اپنا اندازہ ہے لہذا ثابت ہوا کہ تسبیحات رکوع اور سجدہ کو تین سے بڑھانا اور طاق عدد میں ختم کرنا مستحب ہے۔ (یہ ہدایہ اور سعایہ سے ماخوذ ہے)