اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1526
معاویہ بن الحکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ اتفاق سے جماعت میں سے ایک شخص کو چھینک آئی جس کے
جواب میں، میں نے یرحمک اللہ کہا تو لوگوں نے مجھے (آنکھ پھیر کر بغیر چہرہ پلٹائے) گھور کر دیکھا میں
نے کہا افسوس تم مجھے کیوں گھور کر دیکھ رہے ہو، یہ سن کر لوگ اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے لگے اس سے
معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ قعدہ میں ہوا ہوگا جس میں رانوں پر ہاتھ مارنا عمل قلیل ہونے کی وجہ سے
فاسد نماز نہیں ہوا) جب میں نے دیکھا کہ یہ لوگ مجھے خاموش کرنا چاہتے ہیں، غصہ تو بہت آیا لیکن
میں خاموش ہو گیا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، میرے ماں باپ حضور پر
قربان، میں نے کسی کو حضور سے قبل نہ بعد کبھی آپ سے، بہتر تعلیم دینے والا نہ دیکھا، خدا کی قسم حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو مجھے جھڑکا نہ مارا، اور نہ برا بھلا کہا بلکہ ارشاد فرمایا میاں! یہ نماز ہے اس میں
کوئی بات لوگوں کی گفتگو کی قسم سے (کسی طرح) ٹھیک نہیں، (نہ عمداً نہ سہواً نہ اصلاح صلاة کے لئے
نہ کسی اور غرض سے خواہ واقف سے ہو یا ناواقف سے) کیوں کہ نماز تو تسبیح تکبیر اور قراءۃ قرآن (اور
انہی کے مشابہ اعمال) کا نام ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسے لوگوں میں
ہوں جو ابھی ابھی اسلام لائے ہیں اور عہد جاہلیت سے میرا زمانہ قریب ہی ہے، اللہ تعالیٰ نے ہم کو
اسلام سے سرفراز فرمایا لیکن اب بھی ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں کے پاس جایا کرتے ہیں، حضور
علیہ السلام نے فرمایا تم نہ جایا کرو، پھر میں نے عرض کیا ہم میں بعض لوگ شگون لیتے ہیں، حضور علیہ
السلام نے فرمایا یہ محض ان کے دلوں کا وہم ہے اس لئے ان کو شگون کی وجہ سے کام سے نہیں رکنا
چاہئے، معاویہ بن الحکم نے کہا میں نے حضور علیہ السلام سے عرض کیا کہ ہم میں بعض لوگ (علم جفر
کے ذریعہ) لکیریں کھینچ کر کچھ حال معلوم کر لیا کرتے ہیں تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک نبی
(علم جفر کی) لکیریں کھینچا کرتے تھے (جن کا یہ معجزہ تھا) اب جس شخص کی لکیریں ان کی لکیروں کے
موافق ہوں گی تو اس کے لئے مباح ہے (لیکن موافقت کا یقینی علم تو ممکن نہیں اس لئے یہ ناجائز
ہے۔) (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Qur’an-related source paragraphs
And the Statement of Allah Almighty: "And stand before Allah in devotion" (Al-Baqarah: 238) and His Statement: "Those who are humble in their prayers" (Al-Mu'minun: 2).
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 537a (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 978 (unverified) 90% confidence
Mishkat (candidate) 978
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”إِنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَىْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ“ (یہ نماز ہے اس میں کلام ناس یعنی لوگوں سے بات چیت (کسی طرح) ٹھیک نہیں، اس بارے میں ملا علی قاری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حدیث شریف میں کلام ناس کی نماز میں ممانعت مطلقاً مذکور ہے کہ جس میں عمداً یا سہواً واقف سے ہو یا ناواقف سے ہو کسی قسم کی قید نہیں ہے اور اس طرح مطلقاً ممانعت میں ہمارے لئے اس بات کی دلیل ہے کہ نماز میں کلام ناس عمداً ہو یا سہواً اصلاح نماز کے لئے ہو یا کسی اور غرض کے لئے واقف شخص سے ہو یا ناواقف شخص سے یہ سب نماز کو باطل کر دیتے ہیں، جیسا کہ ہدایہ میں مذکور ہے، اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ناواقف شخص سے نماز کے بعد ارشاد فرمایا کہ نماز ایسی چیز ہے کہ اس میں کسی قسم کا کلام ناس کسی طرح ٹھیک نہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مطلق ہونے کی وجہ سے ایسا ہی نماز کے منافی اور مفسد ہے، جیسا کہ نماز میں کھانا پینا نماز کے منافی اور مفسد ہے۔ صاحب عنایہ نے لکھا ہے کہ اس حدیث شریف کے الفاظ ”أَنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَیْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ“ سے صراحت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی ہیئت ہی ایسی ہے کہ اس میں کلام ناس یعنی لوگوں سے بات چیت کا نہ ہونا ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ نماز میں طہارت کا ہونا ضروری ہے تو جس طرح بغیر طہارت کے نماز جائز نہیں ہوتی اسی طرح کلام ناس سے بھی نماز جائز نہیں ہوتی، اور یہ ایک واضح بات ہے۔ (عنایہ کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) جامع الآثار میں لکھا ہے کہ یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ نکرہ جب نفی کے تحت واقع ہوتا ہے تو اس سے عموم کا فائدہ حاصل ہوتا ہے اس قاعدہ کو پیش نظر رکھ کر حدیث شریف کے الفاظ ”أَنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَیْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ“ پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لفظ شَیْءٌ نکرہ ہے اور نفی یعنی ”لَا يَصْلُحُ“، کے تحت واقع ہے جس سے وضاحت کے ساتھ ثابت ہو گیا کہ ہر قسم کا کلام ناس عمداً ہو کہ سہواً ہو، واقف شخص سے ہو یا ناواقف شخص سے نماز کے منافی اور مفسد ہوگا۔ (جامع الآثار کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) اب رہی یہ بات کہ پھر کس وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو نماز کے لوٹانے کا حکم نہیں دیا تو اس بارے میں امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حدیث شریف میں ان صحابی کو نماز کے لوٹانے کے حکم کا ذکر نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو واقعۃً نماز کے لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بات کا امکان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو نماز کے لوٹانے کا حکم تو دیا ہو لیکن انہوں نے اس حدیث میں اس کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (امام طحاوی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) امام طحاوی رحمہ اللہ کے اس قول کی تائید ترمذی کے قول اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کی روایت خود ترمذی نے اس طرح کی ہے۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اس طرح بات چیت کر لیا کرتے تھے کہ ایک ساتھی اپنے پاس والے ساتھی سے بول لیا کرتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی ”وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ“ (نماز میں اللہ کے سامنے خاموش ہو کر کھڑے رہو) پھر ہم لوگوں کو خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا اور بولنے سے منع کیا گیا۔ امام ترمذی اس حدیث کی روایت کر کے فرماتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور سب علماء کہتے ہیں کہ جو شخص نماز میں جان بوجھ کر یا بھول کر بات کر لے تو وہ نماز کو لوٹائے، امام سفیان ثوری اور امام ابن مبارک کا یہی قول ہے۔ (ترمذی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) خلاصہ بحث یہ ہے کہ امام طحاوی رحمة اللہ علیہ نے معاویہ بن الحکم رضی اللہ عنہ کو نماز کے اعادہ کا حکم فرمانا ممکن بتلایا ہے لیکن ترمذی کے اس مذکورہ قول سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے اعادہ کا حکم یقیناً ہوا ہوگا۔