اردو
طاؤس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب تم نے نماز پڑھی اور تم
کو (نماز میں عمر بھر میں پہلی مرتبہ) شک ہوا کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو نماز توڑ کر از سر نو شروع سے نماز
پڑھو، اگر دوبارہ ایسا ہی شک ہو کہ کتنی رکعتیں ادا کی ہیں تو اب نہ تو نماز توڑ دو اور نہ از سر نو نماز پڑھو۔
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
اور امام مالک نے عطاء سے اسی طرح روایت کی ہے۔
بخاری اور ابوداؤد کی ایک روایت میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی
ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو اپنی نماز کی (تعداد رکعات میں) شک ہوا
کرے (کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں) تو اس کو چاہئے کہ تحری کرے یعنی سوچ کر ٹھیک بات معلوم کرے
اور تحری کے بعد جو ٹھیک بات معلوم ہو اس لحاظ سے اپنی نماز پوری کرے اور سلام کے بعد سہو کے دو
سجدے کرے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 401 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1020 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ بخاری اور ابوداؤد کی اس روایت میں نماز میں شک واقع ہونے سے تحری کر کے گمان غالب پر عمل کرنے کا جو حکم ہے، مذہب حنفی بھی یہی ہے، چنانچہ علامہ عینی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ابوداؤد کا بھی اس بارے میں یہی قول ہے، اسی وجہ سے ابوداؤد نے جو باب قائم کیا ہے وہ یہ ہے ”بَابُ مَنْ قَالَ يَتِمُّ عَلٰى أَكْبَرِ ظَنِّهِ“، یعنی جس شخص کو نماز میں شک ہو وہ اپنے گمان غالب پر عمل کرے۔