اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1663
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ہماری صفوں کو ایسا سیدھا کرتے تھے کہ گویا صفوں کے سیدھے پن سے تیروں کو سیدھا
کیا جائے گا (اس میں مبالغہ ہے، چاہئے تو یہ تھا کہ تیر سے صف کو سیدھا کرنے کا بیان ہوتا اس کی
بجائے یہ مذکور ہے کہ صف ایسی سیدھی بناتے تھے کہ صف کے سیدھے پن سے تیر سیدھے کر سکیں)
(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے پہلی صفوں کو ہمیشہ سیدھا فرمایا کرتے تھے) یہاں تک کہ جب
آپ کو یہ معلوم ہو گیا کہ صفوں کو سیدھا کرنے کے حکم کو ہم سمجھ چکے ہیں اور اس کی تعمیل کر رہے ہیں (تو
پھر آپ صفوں کو سیدھا کرنے کے لئے جو تشریف لایا کرتے تھے اس کو ترک فرما دیئے) ایک دن کا
ذکر ہے کہ آپ تشریف لائے اور نماز پڑھانے کے لئے (مصلّٰی) پر کھڑے ہوئے قریب تھا کہ
تکبیر تحریمہ کہیں کہ اتفاقاً ایک شخص پر نظر پڑ گئی جس کا سینہ صف کے باہر نکلا ہوا تھا (ان شخص کو مخاطب
بناتے تو ان کی دل شکنی ہوتی تھی، اس لئے عام طور پر خطاب فرماتے ہوئے) ارشاد فرمایا: صاحبو!
صف میں باہم مل کر ایک دوسرے سے نزدیک نزدیک رہا کرو، آگے پیچھے ہو کر اختلاف پیدا نہ کرو،
اگر ایسا کرو گے تو تمہارے دلوں میں بھی ایک دوسرے سے مخالفت پیدا ہوگی، ملاپ نہ رہے گا،
پھوٹ اور نا اتفاقی پیدا ہو جائے گی جس کے اثر سے ایک دوسرے سے منہ موڑے ہوئے رہو گے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Qur’an-related source paragraphs
Allah Almighty says:
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 436b (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.